تہران میں اہل سنت مسلک کی اکلوتی مسجد شہید کر دی گئی

Posted on July 30, 2015



ایران کے دارالحکومت تہران کی ضلعی حکومت نے بلدیہ میں قائم اہل سنت والجماعت مسلک کے مسلمانوں کی اکلوتی مسجد کو شہید کردیا جس پر مقامی علماء اور شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز تہران بلدیہ نے پولیس کی حمایت سے بلدیہ میں قائم سنی مسلمانوں کی مسجد کو بلڈوزروں کی مدد سے گرا دیا۔ تہران حکومت کی اس اشتعال انگیز کارروائی کے خلاف سنی اکثریتی صوبہ بلوچستان کی مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے رہبر انقلاب اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مسجد کی شہادت پر سخت احتجاج کیا ہے۔
نیوز ویب پورٹل”سنی ان لائن” کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز تہران بلدیہ کے اہلکاروں نے پولیس کے ہمراہ بونک کے مقام پر واقع اکلوتی مسجد کا گھیرائو کیا۔ مسجد کی مسماری سے قبل اسی مسجد کے امام مولوی عبیداللہ موسیٰ زادہ کے گھر پرچھاپہ مارا کر جامہ تلاشی لی گئی۔ بعد ازاں بغیر کسی اطلاع اور وجہ بتائے مسجد کو شہید کردیا۔ مسجد کی شہادت کے خلاف سنی مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا ہے۔
تہران بلدیہ کے اشتعال انگیز اقدام کے رد عمل میں بلوچستان کی مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب مولوی عبدالحمید اسماعیل زئی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے مسجد کی شہادت پرسخت احتجاج کرتے ہوئے مسجد کی فوری تعمیر کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مکتوب میں لکھا ہے کہ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہادت کا یہ قابل مذمت واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب عالم اسلام پہلے ہی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ایسے میں کسی خاص مسلک کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا فرقہ واریت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اس اقدام سے تہران بلدیہ نے انتہا پسندوں اور ملک دشمن عناصر کو اپنی تخریبی کارروائیوں کا نیا جواز فراہم کیا ہے۔
تہران بلدیہ کی شہید کی جانے والی جامع مسجد ماضی میں ایرانی حکام کی دست برد کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایرانی پولیس نے مسجد میں مقامی سنی شہریوں کا داخلہ روک دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں نماز جمعہ اور عید کی نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں کے لیے مسجد کھول دی گئی تھی۔

جمعرات 14 شوال 1436هـ – 30 جولائی 2015م