آج میں ’اخلاقی طور‘ پر عمران خان کے ساتھ ہوں

Posted on July 25, 2015



آج میں ’اخلاقی طور‘ پر عمران خان کے ساتھ ہوں

عمران خان کے سیاسی مخالف اور سوشل میڈیا کے جیالے ایسے خوشیاں منا رہے ہیں، جیسے پاکستان میں پہلی مرتبہ ’عدل فاروقی‘ کی مثال قائم کر دی گئی ہو۔۔ بھائی پاکستان کے عدالتی نظام کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین عدالتی نظاموں میں ہوتا ہے۔ یہاں سپاہی سے لے کر عدالت کے جج تک بکتے ہیں اور ان کی بولیاں لگتی ہیں۔ آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ماضی میں عدالت کے مسلم لیگ نون سے متعلق فیصلے تو غلط تھے لیکن آج کا فیصلہ ٹھیک ہے۔۔

دوسرا اگر جج صاحبان ایماندار اور اپنی جگہ ’ٹھیک‘ بھی ہوں تو پاکستانی عدالتوں میں اشرافیہ کی کرپشن ثابت کرنا ناممکن نہیں تو ممکن بھی نہیں۔ کرپشن میں پاکستانی سیاستدان دنیا بھر میں مشہور ہیں، لائیو ٹیلی وژن پر کہا جاتا ہے کہ کرپشن ہمارا بھی حق ہے۔۔ پاکستانی کو ’بلیک منی مارکیٹ‘ کہا جاتا ہے لیکن بتایے اس عدالتی نظام میں آج تک کسی بڑے سیاستدان، جاگیر دار، بیوروکریٹ یا فوجی جنرل کی کرپشن ثابت ہوئی ہو ؟ 95 فیصد کیسز میں جواب ’نہیں‘‘ میں ہے۔۔

آج بھی پاکستان کے تمام سیاستدانوں اور صحافیوں کو علم ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک شفاف الیکشن نہیں ہوئے اور اس مرتبہ بھی نہیں ہوئے تھے۔۔ سب کو پتہ ہے کہ دھاندلی ہوئی تھی، میں خود ایسی خواتین ٹیچرز کو جانتا ہوں، جن کو پنجاب میں بندوق کی نوک پر سائیڈ پر کھڑا کر دیا گیا اور جعلی ووٹ ڈالے گئے ۔۔ لیکن آج ’سچ کی دن رات رٹ لگانے والے صحافی اور سیاستدان‘ خوشیاں منا رہے ہیں۔ ان میں سے کسی میں بھی اتنی ’اخلاقی جرات‘ نہیں ہے کہ صرف یہی کہہ دیں کہ عدالتی فیصلہ اپنی جگہ لیکن دھاندلی ہوئی تھی۔

مسئلہ ہماری تربیت کا ہے۔ ہمیں سکھایا ہی نہیں گیا کہ سچ کا ساتھ دینا ہے۔۔ ہم نے صرف یہی سیکھا ہے کہ صحیح ہو یا غلط ہم نے صرف پارٹی کا ساتھ دینا ہے، صحیح ہو یا غلط ہم نے صرف اپنے خاندان کا ساتھ دینا ہے۔۔ ہم نے صرف یہی سیکھا ہے کہ آپ کا بھائی کسی کا قتل بھی کر دے آپ نے مظلوم کی بجائے اپنے بھائی کا ساتھ دینا ہے۔۔ قاتل ہے، ڈاکو ہے، لیٹرا ہے، یا کوئی اور مجرم، اگر ہمارے اس کے ساتھ تعلقات ہیں تو ہم نے آنکھیں بند کر کے اس کا ساتھ دینا ہے۔۔ ایسے میں کون انصاف کے ساتھ کھڑا ہو گا ؟؟ تحریک انصاف کے کارکن بھی ایسا ہی کرتے ہیں، اپنی قیادت کے کسی بھی غلط فیصلے کا دفاع کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔۔ کبھی نہیں قبول کریں گے کہ ہمارے لیڈر عمران خان نے کسی پر جھوٹا الزام لگا کر غلطی کی ہے۔۔ ہمارے علماء بھی ایسے ہی ہیں۔۔ غلطی سے کوئی بات جھوٹی بھی منہ سے نکل جائے تو اس پر معذرت کی بجائے اس کا دفاع کریں گے۔۔

ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے لیکن یہ ہماری تربیت ہی نہیں ہے۔۔ نواز شریف، زرداری صاحب، عمران صاحب ، طاہر القادری صاحب یا کوئی بھی لیڈر ہو ، یہ سب اگر قتل بھی کریں تو ہم ’گونگے، بہرے انسان‘ ان کی پاک دامنی کی قسمیں اٹھائیں گے۔۔۔ ہماری تربیت ہی یہی ہے۔۔