امریکہ سے دوستی کے خواہاں ایرانی صدور

Posted on July 12, 2015



۔ العریبیہ ڈاٹ نیٹ ۔ دبئی ۔ عنتر سعید
عالمی اور علاقائی سطح پر تاثر یہی ہے کہ ایران میں سنہ 1979ء کے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد امریکا اور تہران کے درمیان اختلافات بدترین دشمنی کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور دونوں ملکوں کی قیادت اختلافات کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ مساعی نہیں کررہی ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایران میں امریکا مخالف جذبات اپنی جگہ مگر ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چارسابق امریکی صدور “شیطان بزرگ” سے دوستی کے لیے ہمہ نوع کوششیں کرتے رہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی مذہبی اشرافیہ کو نہایت قریب سے دیکھنے والی ایک خاتون ترجمان نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایران نے کبھی امریکا کے ساتھ قربت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ موصوفہ کا دعویٰ ہے کہ سنہ 1979ءکے انقلاب کے بعد ایران کے کم سے کم چار صدور نے اپنے اپنے ادوار میں امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے خفیہ اور علانیہ کوششیں کیں تھیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
ایرانی خاتون ترجمان بنفشہ کینوش کی ایک تازہ رپورٹ برطانوی اخبار “گارجین” میں شائع ہوئی ہے۔ اپنی رپورٹ میں اس نے باضابطہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر کہا ہے کہ ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی سمیت تین سابق صدر محمود احمد نژاد، محمد حاتمی اور علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے امریکا کے ساتھ تقارب پیدا کرنے کے لیے ہرممکن کوششیں کیں۔ گوکہ امریکی سرد مہری اور بعض دیگر عوامل کی وجہ سے یہ مساعی موثرثابت نہیں ہوسکی ہیں۔
وہ لکھتی ہیں کہ “سابق ایرانی صدور کی امریکا سے قربت کی پس چلمن کوششوں کے باوجود عوامی سطح پر یہ تاثر بدستور طاقت ور رہا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی ‘خفیہ ڈیل’کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے۔ یہ دوغلی پالیسی اس لیے اپنائی گئی تاکہ عوام میں امریکا مخالف جذبات برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی بحرانوں پر پردہ بھی ڈالا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ شیطان بزرگ سے راہ و رسم بھی قائم کی جاسکے۔
سابق صدور کی ترجمان کے شواہد
بنفشہ کینوش نے اپنی رپورٹ میں ایرانی صدور کی امریکا سے قربت کی کوششوں کے ثبوت کے لیے چند ایک واقعات بھی نقل کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہ 1979ء میں ایرانی طلباء کے تہران میں امریکی سفارت خانے پرحملے اور سفارتی عملے کو 444 دن تک یرغمال بنائے جانے کے واقعے نے دونو٘ں ملکوں کے درمیان تلخی میں بے پناہ اضافہ کیا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ایرانی ایوان حکومت کے ان کیمرہ اجلاسوں میں اسی واقعے کو بحران کے حل کے لیے ایک”کارڈ” کے طورپر استعمال کرنے کی باتیں بھی کی جاتی رہیں۔
سنہ 1981ء میں ایران اور امریکا کے درمیان الجزائرمیں ہونے والے خفیہ مذاکرات دوطرفہ مسائل بالخصوص تہران میں امریکی سفارت خانے پربلوائیوں کے حملے کے وقت غصب کی املاک کی واپسی، دو طرفہ کشیدگی کوکم کرنے اور دونوں ملکوں میں قربت پیدا کرنے کی خاطر ایک عدالت کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔
بنفشہ کا مزید کہنا ہے کہ میں نے سات برس تک ہیگ میں قائم عدالت میں ایران کی طرف سے ترجمانی کے فرائض انجام دیے۔ میں اس دوران جیوری باڈی کی پیشہ ورانہ مہارت سے بہت متاثر ہوئی جس میں ایک طرف ایرانی اور دوسری جانب امریکی وکلاء بھاری بھرکم دلائل کے ساتھ پیش ہو رہے تھے۔
اگرچہ ایران نے تہران میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والے نقصان اور امریکی کمپنیوں کے نقصانات کا ہرجانہ طے کرنے کے لیے بھاری فیسوں کے بدلے برطانوی وکلاء کی خدمات حاصل کی تھیں تاہم اس کے باوجود ایرانی قیادت امریکا کی قربت کی مسلسل کوشاں تھی۔
خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی کی حمایت
ایرانی مترجمہ کا کہنا ہے کہ میں نے چار امریکی صدور کو نہایت قریب سے دیکھا۔ ان میں سے ہرایک دن رات امریکا کی قربت کی کوششوں میں لگا رہا۔ سنہ 1989ء سے 1997ء تک علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ملک کے صدر رہے۔ اس دوران انہوں نےامریکا کے ساتھ خفیہ رابطے بھی قائم کر رکھے تھے۔ ان روابط کا مقصد سنہ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی عراق۔ ایران جنگ اور اس کے بعد ایرانیوں کو اسلحہ فراہم کرنا تھا۔
سنہ 1991ء کی امریکا اورعراق کے درمیان خلیج جنگ کے بعد سابق صدر ھاشمی رفسنجانی نے کہا تھا کہ خلیجی پانیوں میں امریکی افواج کی موجودگی کو ایران قبول کرسکتا ہے۔ اگرچہ رائے عامہ میں یہی تاثر دیا گیا کہ ایران کو خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی قبول نہیں ہے۔
ان کے بعد صدر محمد حاتمی نے بھی اپنے دورِ حکومت سنہ 1997ء تا 2005ء میں امریکا سے قربت کی کوششیں کیں۔ سنہ 1997ء میں اپنے دورہ نیویارک میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ بعض معاملات میں قرابت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عقائد کے باب میں امریکا اور ایران کے درمیان کئی قربتیں موجود ہیں۔
احمدی نژاد کی مسترد شدہ پیشکشیں
سنہ 2005ء سے 2013ء تک ملک کے سیاہ سفید کے مالک رہنے والے سابق’سفید پوش’ صدر محمود احمدی نژاد کا امریکا کے بارے میں لب ولہجہ اپنے پیش روئوں کی نسبت زیادہ سخت رہا ہے مگروہ بھی در پردہ امریکا کی قربت کے حامی تھے۔سنہ 2010ء میں نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اُنہوں نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں انجیل اٹھا کر کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذہبی مشترکات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو ایران کےاسرائیل مخالف پروپیگنڈے سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ محمود احمدی نژاد نے سنہ 2001ء میں مبینہ طورپر القاعدہ کے حملوں میں تباہ ہونے والے نیویارک کے بین الاقومی تجارتی مرکز[ورلڈ ٹریڈ سینٹر] کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگرانہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
اسی طرح محمود احمدی نژادی کی امریکا سے تعلقات بہتر بنانے کی ایک دوسری کوشش سنہ 2006ء میں بھی ناکام ہوگئی تھی۔ محمود احمدی نژاد نے اپنے امریکی ہم منصب جارج ڈبلیو بش کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا تاہم صدر بش نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا۔
روحانی اور امریکا قربت
ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی کو نسبت اعتدال پسند صدر قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے آنے کے بعد بھی ملک میں امریکا کے حوالے سے پائے جانے والے شدت پسندانہ جذبات میں خاطر خواہ کمی نہیں آسکی تاہم صدر روحانی کے دور میں امریکا سے قربت کی کئی عملی مثالیں ضرور سامنے آئیں۔
ایرانی مترجمہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2013ء میں جب حسن روحانی ملک کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے امریکی صدر براک اوباما سے ٹیلیفون بات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایرانی صدر کے ایک معاون نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ صدر اوباما کے معاونین میں کوئی مسلمان بھی ہے؟۔ ایرانی عہدیدار کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر روحانی بھی “شیطان بزرگ” سے دوستی کے خواہاں تھے۔
صدر بننے سے قبل حسن روحانی نے یورپی یونین کے ساتھ تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی قیادت کرتے ہوئے سنہ 2005ء میں عالمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البراعی سے کہاتھا کہ وہ امریکیوں سےرابطہ کرکے تہران اور واشنگٹن کے درمیان قربت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
مترجمہ کا مزید کہنا ہے کہ سنہ 2003ء میں سابق ایرانی وزیرخارجہ منوچہر متقی نے امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمیٹج کو ایک فیکس پیغام ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر امریکا سے بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم امریکا نے منوچہر متقی کا پیغام مسترد کردیا تھا۔