کلنٹن کی این جی او ایران کی مالی مددگار

Posted on July 9, 2015



صالح حمید ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا کے ایک موقر اخبار “واشنگٹن پوسٹ” نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن کی قائم کردہ فلاحی تنظیم “کلنٹن فائونڈٰیشن” ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے دور میں تہران کی مالی معاونت میں ملوث رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی اخبار کے دعوے کے مطابق “کلنٹن فائونڈیشن” نے بھاری امدادی رقوم کے حصول کے لیے سویڈن کی ان فرموں کے ساتھ تعاون کیا جو ایران میں مختلف شعبوں میں کام کرتی رہی ہیں۔ اس میں سویڈش موبائل فون کمپنی”اریکسن” کا نام لیا جاتا ہے جس کا “کلنٹن فائونڈیشن” کے ساتھ لین دین رہا ہے۔ فائونڈیشن کی انتظامیہ کو بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ “اریکسن” کی ایران کی کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت داری موجود ہے۔ یوں اس کمپنی نے “کلنٹن فائونڈیشن” کو خاموش رکھنے کے لیے بھاری رقم رشوت میں دی تھی۔

“واشنگٹن پوسٹ” لکھتا ہے کہ “ہیلری و بل کلنٹن فائونڈیشن” کی سویڈش شاخ نے “اریکسن” سے 200 ملین کرون کے عطیات صرف اس لیے حاصل کیے تھے تاکہ فائونڈیشن ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پرعائد پابندیوں کو نرم کرنے میں مدد فراہم کرے۔”

رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر کی تنظیم کو یہ رقم افریقا میں “ایڈز” کی بیماری کی روک تھام اور ہیٹی میں وبائوں کے انسداد پروگرامات کے لیے دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سابق صدر بل کلنٹن نے خود بھی چھ ملین کرون کی رقم سویڈش کمپنی سے وصول کی تھی۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم سات لاکھ 50 ہزار ڈالر بنتی ہے۔ “اریکسن” نے یہ رقم صدر کلنٹن کے ہانگ کانگ میں ایک لیکچر کے عوض ایران میں اپنے اقتصادی منصوبوں سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ادا کی تھی۔

“وکی لیکس” کی خفیہ دستاویزات کے مطابق ایران اور “کلنٹن فائونڈیشن” کے درمیان بالواسطہ تعلق اور رقوم کی وصولی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری تھا جب ہیلری کلنٹن وزیرخارجہ تھیں لیکن وزارت خارجہ کو اس کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ایران میں تجارتی منافع

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں مواصلاتی سیکٹر میں کام کرنے والی سویڈش کمپنی “اریکسن” اور کئی دوسری کاروباری شخصیات کے تہران کے ساتھ براہ راست تجارتی تعلقات قائم تھے۔ سویڈش حکومت کی جانب سے بھی بار بار ایران پر اقتصادی پابندیوں کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ سویڈن حکومت کا کہنا تھا کہ تہران پراقتصادی پابندیوں کے باعث ایرانی عوام کو بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لیے ان پابندیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک دوسری رپورٹ میں سویڈش حکومت کے ایک اہم عہدیدار کا بیان نقل کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران پرپابندیوں کے نتیجے میں سویڈن کی درایران کے لیے درآمدات وبرآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔ سویڈش عہدیدار نے یہ بات امریکی حکام کے ساتھ ملاقات میں کہی تھی۔

امریکی اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کے مطابق سویڈن کی دو بڑی کمپنیوں”اریکسن” اور “فولفو” کے ملک کی اہم سیاسی اور حکومت شخصیات کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔ یہ شخصیات امریکا کو ایران پراقتصادی پابندیوں میں نرمی کرنے کے لیے بھی دبائو ڈالتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایران اور سویڈش کمپنیوں کے درمیان غیرمعمولی تجارتی لین دین پربار بار امریکی وزارت خارجہ کو متنبہ کیا گیا مگرہیلری کلنٹن کے دور میں وزارت خارجہ نے سویڈش کمپنیوں کو بلیک لسٹ نہیں کیا۔
“اریکسن” کی جانب سے الزامات کی تردید

دوسری جانب سویڈن کی مواصلاتی فرم”اریکسن” نے اخبار “واشنگٹن پوسٹ” کی اسٹوری کو من گھڑت قرار دے کرمسترد کردیا ہے۔ کمپنی کی ترجمان کارین ہلسٹن کا کہنا ہے کہ کلنٹن سینٹر کو دی جانے والی امداد اور ایران پراقتصادی پابندیوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ “اریکسن” ایران کو مواصلات کے شعبے میں انفرااسٹرکچر کے قیام بالخصوص “ایرانسل” اور “رایٹل” نامی کمپنیوں کو موبائل فوج کے آلات فراہم کرنے والی بڑی کمپنی شمار کیاجاتا ہے۔ سویڈن کی “فولفو” کمپنی ایران کو کاریں فروخت کرتی رہی ہے۔

“اریکسن” پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے سنہ 2009ء میں اصلاح پسندوں کی سبز انقلاب تحریک کو ناکام بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے فون کالز اور “ایس ایم ایس” کی مانیٹرنگ کا ایک سافٹ ویئر بھی دیا تھا۔ موبائل سافٹ ویئرکی مدد سے ایرانی پولیس اصلاح پسندوں کے درمیان ہونے والے رابطوں کی نشاندہی کرتی رہی ہے۔