شام، یمن میں مداخلت ’ہلال شیعت‘ کےنقشے کو وسعت دینا ہے: ایران

Posted on July 9, 2015



صالح حمید ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے شام اور یمن سمیت کئی عرب ملکوں میں اپنی مداخلت کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ یمن اور شام میں مداخلت کا مقصد ’’ہلال شیعت‘‘ کے نقشے کو وسعت دینا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران کے ’’پریس ٹی وی‘‘ پر نشر جنرل محمد علی جعفری کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں نے شام اور یمن سمیت کئی دوسرے عرملکوں میں بھی ایرانی مداخلت کا اعتراف کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے سربراہ نے مشرقی تہران کے سمنان ضلع میں شہداء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مغرب کو ایران کے ہلال الشیعی کی وسعت پذیری سے سخت خطرہ ہے، کیونکہ ’’ہلال شیعت‘‘ ایران،شام، یمن، عراق اور لبنان کو ایک چاند کی شکل میں باہم ملا کر ایک وحدت بنا سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہلال شیعت‘‘ایک تلوار کی شکل کا نقشہ ہے جو صہیونی ریاست کےقلب میں گاڑھی جا رہی ہے۔ مغرب کو اس لیے پریشانی ہے کہ ایران اور عرب ملکوں کا اتحاد صہیونی ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یمن میں مداخلت

ایران کی حکومت کے برعکس پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل جعفری نے تسلیم کیا کہ ان کا ملک یمن میں مداخلت کررہا ہے تاہم یہ مداخلت’براہ راست‘ نہیں بلکہ بالواسطہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دشمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کا یمن میں گہرا اثرو نفوذ ہے حالانکہ ایران یمن میں براہ راست دخل اندازی نہیں کررہا ہے۔ یمن کے عوام نے ایک جابرانہ نظام حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے۔ یمن میں جاری تحریک ایرانی قوم ہی کی طرز کی اسلامی انقلاب کی جدو جہد ہے۔

پوری دنیا اس وقت یمنی قوم کو انقلاب کی منزل سے ہٹانے کے لیے مزاحم ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود یمنی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ انہوں نے ایرانی شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ ہم پوری دنیا میں اسلامی کی طاقت اور اسلامی انقلاب کو غالب کردیں۔
شام میں دخل اندازی

شام میں ایران کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے جنرل محمد علی جعفری کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں شام میں بغاوت کو فرو کرنے اور صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے ایک لاکھ افراد کومنظم کیا، جنہوں نے صدر بشارالاسد کے دفاع میں بندوق اٹھائی اوربغاوت کو روکنے میں حصہ لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بشارالاسد کے دفاع کے لیے عوامی محاذ کو موثر بنانے میں بھرپور معاونت کی۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت شام میں اپنی مداخلت کی بھی مسلسل تردید کرتی آئی ہے تاہم ایران کی عسکری قیادت کے عرب ممال میں مداخلت کے حوالے سے بیانات مختلف ہیں۔ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ شام میں اس کے فوجی اسدی فوج کی مشاورت اور رہ نمائی کے لیے بھیجے گئے ہیں جو میدان جنگ میں حصہ نہیں لے رہیں۔
عراق میں مداخلت

جنرل محمد علی جعفری کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب نے عراق میں حکومت کے دفاع، اسلام کی بالادستی، مقدس مقامات کی حفاظت اور ایرانی انقلاب کے دفاع کے لیے ایک لاکھ عراقی شہریوں کو مسلح کیا ہے۔

چونکہ ایران اپنے ہاں نافذ ولایت فقیہ کے نظام کو اسلام کا حقیق نمائندہ خیال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی لٹریچرمیں بھی اسےایرانی انقلاب کو اسلام کی بالادستی قرار دیا جاتا ہے۔