ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای 95 ارب ڈالرکا مالک!

Posted on July 8, 2015 Articles



دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران میں سنہ 1979ء کے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد ملک میں مذہبی لوگوں کی حکومت بنی جنہوں نے سادگی اورکفایت شعاری کو اپنا شعار بنایا مگراب پتا چلا ہے کہ ایرانی مُلا تو دولت کے رسیا نکلے ہیں کیونکہ رہ بر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کی دولت 95 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ سابق ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی کل دولت سے تیس گنا زیادہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ملائوں کی بے بہا دولت کا انکشاف امریکی بزنس جریدے “فوربز” نے حال ہی میں “اقتدار تک پہنچنے والے ایرانی ملائوں کی دولت کی اشتہا” کے عنوان سے شائع ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ایرانی سپریم لیڈر تنہا پچانوے ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ ان کےعلاوہ ایران کے کئی دوسرے” سفید پوش” بھی اندرون اور بیرون ملک اربوں ڈالر کی جائیدادیں رکھتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی “مذہبی پنڈتوں” کے پاس بے پناہ دولت کے کئی ذرائع ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے مذہبی مقامات اور مزارات سے حاصل ہونے والی رقوم بھی ان کی جیبوں میں جاتی ہے۔ ملک کے اقتصادی اداروں، بنکوں، بڑے بڑے ہوٹلوں، کمپنیوں حتیٰ کہ اسپتالوں سے ہونے والی آمدن کا ایک بڑا حصہ بھی ملا لے اڑتے ہیں۔ اندرون اور بیرون ملک انہوں نے بڑے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ جس سے ان کی دولت میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی ہورہی ہے۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ‘منافع بخش’ اداروں اور تنظیموں میں اپنے مقربین خاص مقرر کر رکھے ہیں۔ انہی میں متشدد شیعہ عالم دین محمد تقی مصباح یزدی “خامنہ ای ایجوکیشن فائونڈیشن” کے ڈائریکٹرہیں۔ اس فائونڈیشن کی ملک میں ایک چین ہے اور ان اداروں سے حاصل ہونے والی رقم خامنہ ای کے اکائونٹ میں جاتی ہے۔ ایک دوسرے شدت پسند واعظ عبسی المروف شہنشاہ مشہد کو حرم امام رضا کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ قم کے حوزہ علمیہ مرکز سے ہونے والی آمدن کا وافر حصہ بھی خامنہ ای لے جاتے ہیں۔ الحوزہ العلمیہ سروس سینٹر نامی ادارہ وہاں پرزتعلیم طلباء کو رہائش، قرض، صحت اور شادی[نکاح متعہ] کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔

رضا شاہ پہلوی کی دولت پرانگلیاں اٹھانے والے ایران کے مذہبی سیاست دان دولت وثروت کے حصول میں رضا شاہ کو بھی مات دے گئے ہیں کیونکہ خامنہ ای کی دولت رضا شاہ کی دولت سے تیس گنا زیادہ ہے۔