ہم جنس پرستی۔ pro-marriage

Posted on July 7, 2015



ہم جنس پرستی۔ pro-marriage
امریکہ کی عدالت عالیہ (سپریم کورٹ ) نے ہم جنس پرستی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی۔ اس قانون کے مطابق امریکہ کی تمام ریاستوں میں مرد کو مرد سے جبکہ عورت کو عورت سے شادی کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوگا۔ اس فیصلے پر دنیا بھر میں موجود لاکھوں ہم جنس پرستوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خوش آیند قرار دیا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان مکمل طور پر آزاد ہے ۔ اپنی خواہشات کا حصول اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ اور اس قانون کا منظور ہونا ان کے بنیادی حقوق کی پاسداری ہے۔
اسلام میں شادی ایک ازدواجی بندھن ہے۔ جس میں حدور و قیود میں رہتے ہوئے اپنی فطرتی خواہشات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اولاد کا حصول پیش نظر ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
” اللہ کی رحمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں ، تاکہ وہ تمہارے لیے سکون کا باعث ہوں ، اور اللہ نے تمہارے درمیان پیار و محبت کا سلسلہ پروان چڑھایا، بیشک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الروم 20)
شادی کا مقصد بہت بلیغ انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ (البقرہ 222)
اس آیت کی تفسیر میں علماء فرماتے ہیں کہ عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی کیوں کہ کھیت پر آنے کا مقصد حصول ِ رزق یعنی پیداوار ہوتا ہے۔ ایسے ہی بیوی سے ازدواجی تعلق کا بڑا مقصد حصول اولاد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر بھی شیطانی خیالات و اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے احادیث مبارکہ میں دعا کے الفاظ منقول ہیں۔
بسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا (مسند أحمد) ترجمہ ۔ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا اور جو ہمیں رزق (اولاد) عطا ہواسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔
قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ میں ازدواجی زندگی کے بہت سارے اصول اور قواعد و ضوابط ذکر کیے گئے ہیں ۔ بیویوں کی تعداد ، ان کے حقوق، اولاد کا حصول اور ان کی تعلیم تربیت سے متعلق تمام امور کو تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ایک پاک معاشرہ تشکیل دینے کا خواہاں ہے۔ اس لیے نسب کے اختلاط ، جنسی بے راہ روی ، مادر پدر آزادی اور فحاشی و عریانی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ہم جنس پرستی کی وجہ سے قوم ِ لوط ہر آنے والے عذاب کا ذکر قرآن کریم کے متعدد مقامات میں مذکور ہے۔ قوم ِ لوط کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہے۔
کیا تم اہل عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو۔ اور جو تمہارے پروردگار نے جو تمہارےلیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو، درحقیقت تم حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ (الشعراء165، 166)
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے۔
اور یاد کرو لوط ؑ کو ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم بے حیائی کے کام کیوں کرتے ہو، اور تم دیکھتے ہو (ایک دوسرے کو بے حیائی کرتے ہوئے) ۔ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو ، حقیقت میں تم احمق لوگ ہو۔ (النمل 54،55)
سورۃ القصص میں اللہ تعالی یوں فرماتے ہیں ۔
اور لوطؑ کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بے حیائی کے مرتکب ہوجو اس سے پہلے اہل جہا ں میں کسی نے نہیں کی۔تمکیوں (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف آتےہو۔۔۔۔الخ (القصص28،29)
آج جب مغرب میں ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دیدی توہمیں اس فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ۔ جن لوگوں کی زندگی کا محور ہی اپنی خواہشات ہوں ان سے اس سے بڑھ کر کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ ان کی مثال بے لگام جانور کی سی ہے جس کے لیے کوئی قید نہیں۔ جہاں سے چاہے کھائے ،پیے اور منہ مارے کسی کا کوئی خوف نہیں ۔ رشتوں کا تقدس ان کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ عائلی زندگی کا ان کے ہاں کوئی تصور نہیں۔ والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑ کر اپنے پالتو “کتے” کے ساتھ زندگی گزار لینا ان کے ہاں کوئی عیب نہیں۔ باپ کو بیٹے پر اختیار نہیں جبکہ اور ماں کو بیٹی کی کوئی فکر نہیں ۔ جسے جہاں جی چاہے منہ مار کر اپنی سفلی خواہشات کی تکمیل کرلے۔ نفسانی خواہشات پوری کرنے میں یہ پورے طور پر آزاد ہے۔
ان کے لیے بقول اقبال ؒ؛
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ناپائیدار ہوگا !!
حیرت تو اس بات پر ہے کہ آج بہت سارے نام نہاد مسلمان بھی دین سے بیگانہ بن بیٹھے ہیں۔ مغرب کی نقالی اور آندھی تقلید نے ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے ہیں۔اسلامی شرم و حیا اٹھتا جا رہاہے۔ شعائراسلام مسخ کیے جارہے ہیں۔ فحاشی ، عریانی ، مادر پدر آذادی ، مخلوط نظام تعلیم اور مغربی نصاب تعلیم سے نوبت یہا ں تک جاپہنچی کہ مسلمان بھی اس گھناؤنے جرم میں ان کے شریک ہورہے ہیں ، انھیں بات پر مبارک بادیں دی جارہی ہیں۔
خدارا! اسلامی شعائر کی قدر کیجیئے۔ اپنی اقدار کو پہچانیئے۔مغربی بے راہ روی سے منہ موڑیئے ، روز قیامت اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی حاضری کو ضرور یا د رکھیئے۔