عمران خان کا یو ٹرن جیو میں واپسی

Posted on July 4, 2015



Dated: July 4, 2015
Imram Khan Ka U Turn Geo Mein Wapsi
BY: SYED ANWER MAHMOOD
عمران خان کا یو ٹرن جیو میں واپسی
تحریر: سید انور محمود

پاکستان بننےسے قبل میرخلیل الرحمان نے”روزنامہ جنگ” کا آغاز کیا۔ میرخلیل الرحمن کا ہدف تھا کہ “روزنامہ جنگ” کو جنگ گروپ بنانا اورپورئے پاکستان میں “جنگ گروپ” کی اجاراداری قائم کرنا اور اس مقصد میں میرخلیل الرحمن اپنی زندگی میں ہی کامیاب ہوچکے تھے۔ میرخلیل الرحمن کے بعد اب اُن کے چھوٹے بیٹے میرشکیل الرحمن جنگ اخبار کے مالک، چیف ایگزیکٹو اور ایڈیٹرانچیف ہیں۔ جنگ گروپ نے 2002ء میں جیو ٹی وی چینل کے نام سے پاکستان میں اپنی نشریات کا آغاز کیا بعد میں اس چینل میں توسیع ہوئی اور اس کے مزید چینل کھلے۔

تحریک انصاف نے2013ء کے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ ہم نے الیکشن کو قبول کیا ہے لیکن دھاندلی کو قبول نہیں کیا ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت عوام کے اعتماد کے لئے صرف چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشان چیک کر ائیں جس پر حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ہم چار نہیں چالیس حلقوں میں نشان چیک کرانے کے لئے تیار ہیں، لیکن ایک سال تک جب ایسا نہیں ہوا تو تحر یک انصاف نے گیارہ مئی 2014ءکو حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا اور ساتھ ہی انتخابات میں دھاندلی اور مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کرنے کا الزام لگاکر عمران خان نے جنگ اور جیوگروپ کے با ئیکاٹ کا اعلان بھی کر دیا ۔ الزام یہ لگا یا گیا ہے کہ جیو ٹی وی نے نواز شریف کی تقر یر جلد نشر کی اور چھ گھنٹے بعد جیو ٹی وی نے مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں کامیاب قر ار دے دیا تھا۔ عمران خان کے جیو کے بائیکاٹ سے پہلے ہی جیو گروپ اپنی دو حماقتوں کی وجہ سے نہ صرف حکومت بلکہ عوام کے زیرعتاب آیا ہوا تھا، جسکی وجہ سے 90 فیصد پاکستان میں جیو نہیں دکھایا جارہا تھا۔

گذشتہ سال 14 اگست 2015ء سے 16 دسمبر 2015ء تک عمران خان احتجاج، جلسے اور دھرنے کی سیاست کرتے رہے، اسلام آباد کے 126 دن کے دھرنے میں روز کنٹینر پر کھڑے ہوکروہ ایک طرف نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کرتے، انتخابات میں دھاندلی کا ذکر کرتے تو دوسری طرف وہ میرشکیل الرحمن اور جیو پر الزامات کی بارش کرتے۔ دھرنے اور جلسے کے شرکا کو وہ بتاتے تھے کہ میرشکیل الرحمان فرعون اور بلیک میلر ہے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ جیو کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں بس مہم شروع کر رکھی ہے، مسلم لیگ (ن) اور جیو نیوز ملے ہوئے ہیں، جیو نے باہر کی فنڈنگ کیلئے ٹرسٹ قائم کر رکھا ہے، میر شکیل الرحمان کے بنک اکاونٹس کی تحقیقات کی جائیں۔ اسلام آباد کی ایک پریس کانفرنس میں اُنکا کہنا تھا کہ کہ میر خلیل الرحمان فاونڈیشن کو باہر سے فنڈ آتا ہے لہذا پوری قوم جیو کا بائیکاٹ کرے۔

عمران خان نے جنگ گروپ پر الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ گروپ نے مجھے طالبان خان قرار دینے کیلئے مہم چلائی، میر شکیل الرحمان بلیک میلر ہے جس نے میرے بچوں سمیت میری ذات پر حملہ کیا۔ میرشکیل الرحمان ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان کو بدنام کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پیمرا قانون کے مطابق چار چینلز چلانے کی اجازت ہے جبکہ جیو پانچ چینل چلا رہا ہے، جیو سوپر کو کرکٹ رائٹس غیر قانونی طور پر دیئے گئے اور جیو کے ملازم نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی بنا دیا گیا، نجم سیٹھی کو نیویارک میں فلیٹ ظاہر نہ کرنے پر 2 کروڑ روپے جرمانہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں بیٹھے فرعون نے مجھے لیگل نوٹس بھجوایا۔ عمران خان نے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی میں اس وقت کے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کو ملوث قرار دیا تھا جب کہ ان کی جانب سے نجم سیٹھی پر 35 حلقوں میں دھاندلی کی بات کی گئی تھی جسے عمران خان نے متعدد بار 35 پنکچر کا نام دیا۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان اور مسلم لیگ (ن) انتخابی مہم کے دن سے ملے ہوئے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ حامد میر پر حملے کے بعد آئی ایس آئی چیف کا ایک مفروضے پر میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جیو کی گھٹیا مہم کے باعث لوگ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی بھی نہیں دیکھ سکتے، جیو نیوز میری کردار کشی کرنے پر مجھ سے اور قوم سے معافی مانگے۔

عمران خان کے میر شکیل الرحمان کے ساتھ اختلافات چل رہے تھے۔ عمران خان نے جیو چینل کا بایئکاٹ کیا ہوا تھا، اُنکی سیاسی مصروفیات دھرنے، جلسے جلوس کی رپورٹ کرنا ہر چینل کی طرح جیو چینل کا بھی حق تھا۔ لیکن افسوس پاکستان تحریک انصاف کے ورکر آئے دن کسی نہ کسی چینل کے ورکروں کے ساتھ بدتمیزی کرتے نظر آتےتھے۔ آٹھ دسمبر 2014ء کوفیصل آباد میں جیونیوز کی اینکر پرسن ماریہ میمن سے بدتمیزی کی گئی، کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بارہ دسمبر2014ء کو کراچی کی مشہور شاہراہ فیصل پر دوپہر میں سینئر اینکر مسعود رضا کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گھیر کر انہیں رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش کی۔اُسی دن شام کو جیو نیوز کی خاتون صحافی سدرہ ڈارعمران خان کی تقریر کے بعد رپورٹنگ کررہی تھیں،پی ٹی آئی ورکرز پر مشتمل مجمع نے جیو نیوز کی ڈی ایس این جی وین کو گھیر کر شور شرابہ اور ہنگامہ شروع کردیا۔ جیو نیوز کی رپورٹر عمیمہ ملک کو بھی ایسی ہی اذیت ناک صورت حال سے گزرنا پڑا، جب پی ٹی آئی کے سلجھے ہوئے کارکنوں نے نہ صرف وین پر حملہ کرنے کی کوشش کی بلکہ مغلضات بکتے ہوئے اپنی سیاسی اور گھریلو تربیت کو بھی آشکار کیا تو نجی چینل کی صحافی غریدہ فاروقی نے اس صورت حال میں خاتون رپورٹر کو بچانے کی کوشش کی۔ پندرہ دسمبر 2014ء کو لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے یوم احتجاج کی کوریج کرنے والی جیو نیوز کی ٹیم اینکر پرسن ثنا مرزا، امین حفیظ، سہیل وڑائچ، احمد فراز اور جواد ملک سے بد تمیزی کی ،پتھر، بوتل اور غلیل سے کنچے مارے گئے، رپوٹرامین حفیظ کنچے لگنے سے زخمی ہوگیا تھا۔ اس رپورٹنگ کے دوران ثنا مرزا سے اسقدر بدتمیزی کی گئی کہ خاتون صحافی رو پڑی۔سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں کو میڈیا پرسن اور خاصکر خواتین ورکرز کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق کس نے دیاتھا؟

سولہ دسمبر2014ء کو پشاور میں طالبان کی جانب سے دہشتگردی ہوئی جس میں 132 بچے شہید ہوئے، اسکے بعد عمران خان نے اسلام آباد میں اپنے 126 دن پرانے دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا، لیکن وہ جوڈیشنل کمیشن کے مطالبے اور جیو کی مخالفت سے سے دستبردارنہیں ہوئے۔ جوڈیشنل کمیشن بنا اور آج اس نے اپنا کام مکمل کرلیا ، چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیشن نے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کیس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انتخابات میں تکنیکی غلطیاں ہوتی ہیں اور انتخابات کبھی بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہوتے ، تحریک انصاف کی طرف سے 12 درخواستیں آئیں لیکن کچھ ثابت نہ ہوسکا۔ جوڈیشنل کمیشن میں انکوائری کے دوران پی ٹی آئی کی طرف نہ جیو کے خلاف کوئی بات کی گئی اور نہ ہی نجم سیٹھی پر 35 حلقوں میں دھاندلی کی بات کی گئی جسے عمران خان نے متعدد بار 35 پنکچر کا نام دیا۔

دو جولائی کو عمران خان جیو چینل جس کے وہ شدید مخالف تھےاُسی کے ایک پروگرام “کیپٹل ٹاک” میں بیٹھے ہوئے اینکر حامد میر کے سامنے ایک اور یو ٹرن لیتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے بتارہے تھے کہ “انتخابات میں 35 پنکچرز کی بات محض سیاسی تھی، بریگیڈیئر سیمسن نے ہمیں اور مرتضیٰ پویا نے امریکی سفیر سے 35 پنکچر سے متعلق بات کی جو ٹوئٹ ہوگیا”۔ اُنکے سیاسی مخالف تو اُنکو جو کچھ کہہ رہے وہ الگ لیکن 3 جولائی کے جیو کے پروگرام “آپس کی بات “میں نجم سیٹھی نے اُنکی سیاست کی دھجیاں اڑادیں، نجم سیٹھی کے مطابق انہوں نے عمران خان کےخلاف بہت سارا مواد جیو اور اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا ہے۔ جس وقت نجم سیٹھی عمران خان کے خلاف بول رہے تھے تو مجھے 6 اپریل کی قومی اسمبلی کا وہ واقعہ یاد آگیا جس میں نواز شریف کے ایک بے حیا اور بےشرم وزیر خواجہ آصف نے پوری پی ٹی آئی کو جس میں عمران خان بھی شامل تھے کہا تھا “اوے کچھ حیا کرو، کچھ شرم کرو”، شاید اُس وقت خان صاحب نے اس بات پرغور نہ کیا ہولیکن اب نجم سیٹھی نے جو کچھ خان صاحب کو کہا ہے اسکے بعد خان صاحب اپنی طرز سیاست پر نظر ثانی کرلیں تو یہ پی ٹی آئی اور خود اُنکے لیے بہتر ہوگا۔

قصہ مختصرعمران خان نواز شریف سے تو روٹھے ہوئے تھے کہ وہ دھاندلی سے جیتے ہیں۔ پھر اچانک اُنہیں پتہ چلا کہ میر شکیل الرحمان اُنکے خلاف سازش کررہے ہیں اور جیو نے انتخابی دھاندلی کی ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ جیو اُنکے خلاف پروپگنڈہ کررہا ہے اور جیو کا بائیکاٹ کردیا ۔ اُنکو کسی نے یہ بھی بتایا کہ نجم سیٹھی نے 35 سیٹیں نواز شریف کو دلوادیں جسپر انہوں نے نجم سیٹھی کا نام 35 پنچر رکھ دیا، لیکن پھر وہ دو جولائی 2015ء کوحامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں پہنچ گے اور انہوں نے تسلیم کیا کہ اُنکی معلومات بوگس تھیں۔ باتیں تو بہت ہیں لیکن مسٹر عمران خان عرف مسٹریو ٹرن جیو واپس کیسے پہنچے اسکے لیے نیچے دی ہوئی کہانی پڑھ لیں ۔

کمہاری کے گھر والے نے اس کی پٹائی کی تو ناراض ہوکر” ہمیشہ” کے لئے گھر سے نکل گئی اسے امید تھی گھر والا اسے روکے گا، لیکن اس ظالم نے نہیں روکا۔ پورا دن ادھر ادھر خجل خوار ہوتی رہی اسے امید تھی کمہار اسے ڈھونڈتا ہوا اس کے پیچھے آئے گا اور منا کر گھر لے جائے گا۔ شام تک اسی امید پر وہ اس علاقہ میں پھرتی رہی جہاں کمہار کے گدھے سارا دن گھاس چرتے تھے لیکن کمہار نے پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔ جب شام کا اندھیرا پھیلنے لگا توبھوکی پیاسی کمہاری سخت مایوس ہوگئی۔ ادھر گدھے اندھیرا پھیلنے کے بعد حسب معمول گھر کی طرف چل دئیے، اس نے ایک گدھے کی دم پکڑ لی اس گدھے کا نام دھورا تھا، وہ اس کی دم پکڑے پکڑے چلتی گئی اور ساتھ ساتھ اپنی خودی بلند رکھتے ہوئی کہتی جاتی “وے دھورے تجھے اللہ کا واسطہ مجھے گھر نہیں جانا، مجھے مت مجبور کر”۔ لیکن دھورا اپنے ساتھی گدھوں کے ساتھ گھر کی طرف چلتا چلا گیا، حتی کہ گھر کے دروازے تک پہنچ گیا، وہ بھی بدستور دھورے کو واسطے دیتی دم پکڑے پکڑے گھر تک پہنچ گئی، “وے دھورے تو باز نہیں آیا نا، میں نہیں گھر جانا چاہتی میرے ساتھ ظلم نہ کر، دھورے تجھے اللہ کا واسطہ۔۔۔۔