شریں مزاری

Posted on July 4, 2015



شریں مزاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
شیریں مزاری صاحبہ پی ٹی آئی کی ترجمان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے بیان پارٹی پالیسی سمھجا جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن گزشتہ دن جب ان کی بیٹی نے انتہائی گٹھیا سوچ کا مظاہرہ کیا تو نہ صرف شریں مزاری نے اس کی حمایت کی ۔۔۔۔۔۔ بالکہ بیٹی کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔۔۔۔۔
اب اگر ایسی بات یا حرکت کوئی اور پارٹی یا پارٹی ممبر کرتا تو اس وقت سوشل میڈیا پر کہرام مچ چکا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔ پر طرف تنقید ہی تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جب کوئی اور غلط کام کرے تو اسے ہم غلط کہتے ہیں۔۔ لیکن جب کوئی اپنا غلط کام کرے تو ہم چپ سادھ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ غلط کام چاہے ن لیگ کرے یا پی ٹی آئی غلط ہی رہے گا۔۔۔ کم ازکم اتنی اخلاقی جرات ہونی چایہے کہ غلط کو غلط اور صحیح کو صیحح کہہ سکیں۔۔۔۔۔
بھائیو یہ ایلیٹ کلاس کے چونچلے ہیں جو خود کو نظریاتی طور پر افلاطون سمجھتے ہیں جب کہ دوسروں کو بانجھ گردانتے ہیں۔ آج یہ ہم جنس پرستی کی حمایت میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں، کل “پارن انڈسٹری” کی حمایت میں نکل آئیں گے،پھر ان کو توہین رسالت کے قانون سے بھی تکلیف ہونا شروع ہو جائے گی، رد قادیانیت کا قانون بھی حقوق کی خلاف ورزی لگنے لگے گا۔
بھائیو ایسے مواقع پہ پارٹی بازی کو مارو گولی، بس اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرو بھلے قدامت پرست کہلاؤ،تنگ نظر یا دقیانوسی ۔۔۔بس کچھ بھی کر کے اپنی نظریاتی سرحدوں کو غیر محفوظ مت ہونے دو کہ ایمان کے تین درجے ہیں،برائی کو بزور طاقت روکو، اگر اس پہ قادر نہیں تو زبان سے برا کہو اگر اتنا بھی نہین کر سکتے تو دل میں برا گردانو۔ سو اپنا ایمان بچاو۔
لنڈے کے انگریزوں اور ان کی اولادوں کا یہاں دل نہیں لگتا، چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہی یورپ بنا ڈالیں۔
اگر شیریں مزاری اپنی بیٹی کے نقطہ نظر سے لا تعلقی کا اظہار نہیں کرتی، تو لخ دی لعنت ماں بیٹی دونوں پہ۔۔۔۔ پھر مان لو کہ محترمہ خود بھی ایسے ہی زریں خیالات کی حامل ہےاور یہ ماں کی تربیت بول رہی ہے اور کچھ نہیں۔جیسی ماں ویسی بیٹی ۔ایسے بے غیرتوں کو پارٹی ترجمان نہیں ، سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا۔