شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 400 اہلکاروں کی ہلاکت

Posted on July 4, 2015



العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید

ایران کے سرکاری اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء سے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران حکومت کی حمایت کے لیے آنے والے 400 ایرانی پاسداران انقلاب، افغان اور پاکستانی جنگجو مارے گئے ہیں۔ شام میں پاسداران انقلاب، افغانی اور پاکستانی شیعہ جنگجوئوں کی ہلاکتوں سے متعلق یہ اعداد شمار سرکاری نیوز ایجنسی” ارنا” نے جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سرکاری اعداد و شمار میں شام میں ہونے والے جانی نقصان کی درست تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں کیونکہ شام میں باغیوں کے ہاتھوں مرنے والے ایرانی، پاکستانی اور افغان جنگجوئوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

“ارنا” کی رپورٹ کے مطابق شام میں “فاطمیون” بریگیڈ کے پرچم تلے لڑنے والے 79 جنگجو ہلاک ہوئے۔ ان میں سے بیشتر افغانی تھے جو ایران میں پناہ گزین کی حیثیت سے رہ رہے تھے اور انہیں ایرانی حکومت نے تنخواہ پر شام کے محاذ جنگ پر بھیج رکھا تھا۔ “فاطمیون” بریگیڈ کا نام اکثر ایرانی اور غیر ملکی میڈیا میں آتا ہے۔ ایک ماہ قبل اس تنظیم کو “فیلق” کا درجہ دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے چند ایام کے دوران شام میں جاری لڑائی میں 10 ایرانی، افغان اور پاکستانی جنگجو مارے گئے۔

خیال رہے کہ جمعہ کوتہران میں حامد جوانی نامی ایک فرسٹ سارجنٹ کی فوجی اعزاز کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مسٹر جوانی شام میں الاذقیہ کے مقام پر لڑتے ہوئے 13 مئی کو زخمی ہوا تھا جسے زخمی حالت میں تہران منتقل کیا گیا اور وہ 40 دن تک کومے میں رہنے کے بعد جمعرات کو انتقال کرگیا تھا۔

گذشتہ جمعرات کو بھی ایران میں پاسداران انقلاب کے تین اہم عہدیداروں محمد حمید المعروف ابو زینب، حسن غفاری اور علی امرائی المعروف حسین ذاکری کی تدفین کی گئی تھی۔ یہ تینوں بھی شام کے محاذ جنگ پر مارے گئے تھے۔ پچھلے دنوں شام کے شہر درعا میں “فاطمیون” بریگیڈ کے پانچ افغان جنگجو بھی ہلاک ہوگئے تھے جنہیں ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں دفن کیا گیا۔
جنرل قاسم سلیمانی کے خاص آدمی کی ہلاکت

ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں”فاطمیون” بریگیڈ کے زیرانتظام لڑنے والے علی رضا توسلی نامی ایک جنگجو درعا میں مارا گیا۔ رضا توسلی ایران کی بیرون ملک سرگرم ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا مقرب خاص تھا۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے ایرانی اور دوسرے غیرملکی گروپوں میں “فاطمیون” بریگیڈ کا نام اس لیے نمایاں ہے کہ اس میں ایرانی کم اور افغان اور پاکستانی جنگجوئوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکومت “فاطمیون” بریگیڈ کے پرچم تلے لڑنے والے جنگجوئوں کو فی کس 500 ڈالر کے مساوی معاوضہ ماہانہ ادا کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اہل خانہ کو دیگر سہولیات بھی دی گئی ہیں۔ جنگجوئوں کو شام کے محاذ پر روانہ کرنے سے قبل انہیں پاسداران انقلاب کی “قدس فورس” کے اہلکاروں کے زیرنگرانی عسکریت تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

حالیہ دنوں کے دوران شام میں باغیوں کے حملوں میں قدس فورس کے پانچ اہم اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ مرنے والے اہلکاروں کو تہران اور دوسرے شہروں میں دفن کیا گیا۔