آئی ایس آئی کے عظیم جاسوس پرند ے اور چرندے

Posted on June 28, 2015



برصغیر پاک و ہند میں جانوروں کے چرچے
برصغیر پاک و ہند کے حکمرانوں کی بدولت یہ دونوں ممالک انسانیت کی معراج پر پہنچ چکے ہیں اور اپنے عوام کو دنیا کی ہر نعمت سے نواز چکے ہیں لہذ ا اب جانوروں کی باری ہے اس لیے اب انہوں نے جانوروں کو مقام اور اہمیت دینی شروع کر دی ہیں مثلآ پڑوسیوں نے گاےٗ کو مقدس تو مذہبآ تسلیم کرتے ہے ہی ۔ مگر جو مقام موجودہ مودی سرکار دے رہی ہے اُس نے تو گاوٗ ماتا کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا وہ یوں کہ گاوٗ ماتا کے یورین سے ایٗر فیشنر بنا کر ا سے ہر آفس کو مہکانے کا آرڈر دیا ہے تاکہ ہر کام کرنے والوں کو مقْدس گاوٗ ماتا کی مہک میں ایکسٹرا انرجی ملے او ر ہر ایک کی کارکردگی میں اضافہ ہو۔ ویسے شکر کریں کہ ہند وستان کی عوام کے اُنہیں اپنے سابق ْ صدر کی طرح نہار منہ پینے کا حکم لاگو نہیں کیا ورنہ بے چارے عوام مرتے کیا نہ کرتے جو حکم حاکم وقت دیتا ہے رعایا کو حکم بجا لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ بندر۔سانپ اور ہاتھی نجانے کتنے جا نور وں کی تو وہ صدیوں سے پوجا کر کہ خود کو عظمت کے انتہاوٗوں کو چھو چکے ہیں یہ مغرب تو بے کار میں خود کو انسانیت کا چمپئین ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔
ماشائاللہ اپنے ملک میں بھی جانوروں کی عزت افزائی کچھ کم نہیں کوئی شریف محنتی بندہ ہو تو تو اُسکی عزت افزائی کے لیے گدھے کی مشال دی جاتی ہے کہ کیا بندہ ہے گدھے کی طرح اُف کیے بغیر کام کیا جاتا ہے۔اگر کسی کی وفاداری کو سرہنا ہو تو فرمایا جاتا ہے کہ اس نے تو کتوں کو بھی مات دے دی ۔ او آجکل تو جلیل القدر ایوانوں کو بھی پڑوسیوں کی ہوا لگ گئی ہے کیونکہ ہماری پارلیمنٹ میں بھی پچھلے دنوں گاؤ ماتا کا بڑا چرچا سننے میں آیا کہ ایک جماعت جو ایوان سے روٹھی ہوئی باہر بیٹھی تھی وہ بھی گاؤ ماتا کی دُم پکڑ کر ایوان میں تشریف لے آئی ہے (گائے کی دُم پکڑ کر انا ایک پشتو کی کہاوت ہے کہ ایک بار کوئی بی بی اپنے سسرال سے کس بات پر خفا ہوکر گھر سے باہر کھتیو ں کی منڈھیر پر جا بیھٹی گھر کے ہر فرد نے اُس کو منانے کی بہت کوشیش کی مگر محترمہ نا مانی آخر تھک ہار کر سب نے اُس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا مگر جب شام ہوئی اور کوئی منانے نہ آیا تو پریشان ہوئی کہ اب کیا کروں کہ اچانک گائیوں کی قطار کو دیکھا جو شام گئے گھر جا رہی تھیں پھر کیا تھا اُس نے اپنی گائے کو دیکھا جو خراما خراما گھر کی طرف جا رہی تھی اُس نے اُس کی دُم پکڑ لی اور اُس کے ساتھ چلتی گھر میں داخل ہو گئی اور اپنی ا نا بچانے کے لیے گھر والوں سے بولی کہ میں تو گائے کو گھر لانے کے لیے دُم پکڑی یہ کمبخت تو مجھے ہی گھر لے آئی) خیر اتنے تک ٹھیک تھا یہ سب بے ضرر قسم کی پوجا پاٹ اور تانے تشنے کی حد تک محدود تھا۔پر اب ایک انتہائی سنگین صورت حال پیدا ہونے چلی ہے پہلے دنیا ایٹم بم کا رونا رو رہی تھی مگربات اس سے زیادہ خطرناک ہتھیار دنیا کے ہاتھ آنے والا ہے اور ہماری لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ خبر ہی نہ تھی اگر ہمارے عظیم پڑوسی توجہ نہ دلاتے اور وہ یوں کہ پچھلے سال ھمارا کوئی اُونٹ اپنی لیے دھرم پتنی یعنی اُونٹنی کی تلاش میں مجنوں کی طرح صحرا میں نکل گیا اور بے خودی میں اسکو سرحدی حدود و قیود کا خیال نہ رہا اور پڑوسی ملک میں چلا گیا جہاں اُسکو جاسوسی کے الزام میں نہ صرف جیل میں قید کر دیا گیا بلکہ اُس کو باقاعدہ شناخت کے لیے مسٹر مشرف کے لقب سے بھی سرفراز کیاگیا کہ مشرف کی طرح اا سں کا بھی کوئی کل پرزہ سیدھا نہیں اور ساتھ میں یہ بھی شور مچاتے رہے کے اس کی دیکھ بھال اور خوراک پر امریکن سپاہی کے برابر خرچہ آتا ہے۔ ابھی یہ رونا رو ہی رہے تھے کہ ہمارے ایک مسٹر کبوتر صاحب کسی ٹاپ ماڈل کبوتری کے چکر میں ٓاسمان کی وسعتوں کو بھول بھال کر پڑوسی کے در پر جا بیٹھے پھر کیا تھا کبوتری والوں نے ظالم سماج کا کردار نبھاتے ہوئے اپنی عزت و ناموس بچاتے ہوے اُس مؑعصوم پر جاسوسی کا گنوینا الزام لگا کر پولیس کے حوالے کر دیا نتیجہ یہ کہ اس کے مختالیف ایکسرے کروائے گئے اور غا لباْ اسکو بھی مسٹر مشرف اونٹ کی طرح پولیس کی ڈرئینگ روم کی سیر بھی کرائی ہوگی بھلا ہو ان عالمی قوانین کا کہ قیدیوں کہ حقوق ہونے کی وجہ سے قتل ہونے بچ گئے۔
سنا ہے کہ پچھلے دنوں واہگہ پر پریڈ کے موقع پر پاکستانی نوجوانوں نے پرُزور احتجاج کیا اور نعرے بازی کی کہ۔۔۔۔شرم کرو حیاء کر و ھمارا کبوتر آزاد کرو ۔۔۔بھئی ہم کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ اس طرح تو ہوتا اس طرح کے کاموں میں!
خیر اصل مقصد کی طرف چلتے ہیں اب ہماری عوام سوچ رہی ہے کہ ہم کو ایک اعلیٰ سطح کا وفد بیھج کر اس مسئلے پر سنجدگی سے بات چیت کرنی چاہیے اور یو این او میں بھی جانور فورس کے حقوق کا ادارہ قائیم کروانا چاہیے اور یہ کہ فوجوں اور اسلحوں پر اتنی خطیر رقموں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ و ہم کو کبوتروں اور اُنٹوں کی فوج بنانی چاہیے اور گائے کی کمانڈو فورس بنانی چاہیے کیونکہ اس طرح ایک تو ملک کا قیمتی سرمایہ بچے گا جو ہمارے ایوانوں میں بیٹھے بھکاریوں کے کام آئے گا۔ اورہمارے سپااہیوں کو عوام کی خدمت کا موقعہ ملے گا اور کمانڈروں کو پراپرٹی کا بزنس کرنے کا اور جرنیلوں کو سیاست کااور سب سے اہم یہ کہ الیکشن کا جھنجٹ بھی ختم ہوجائے گا وہ یوں کہ جیسے پرانے زمانے کی کہانیوں میں بادشاہ کو ہما نامی پرندہ چنتا تھا کہ وہ عوام میں جسکے سر پر بیھٹہ جاتا وہی بادشاہ بنتا! اس طرح ھم برصغیر والے کم از کم مغرب کو شرمندہ کر سکیں گے اور ہمارا الیکشن پر خرچ ہونے والا پیسہ اور انسانوں کا ضیاء بچ جانے پر ہمارا ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گا اور ہم عوام چین کی بنسری بجائینگے اس طرح ہم برصغیر کے لوگ بھی مغرب کے ہم پلہ ہو جائینگے!

زیب محسود