یوسف رضا گیلانی کی ہوس کب ختم ہوگی

Posted on June 27, 2015



Dated: 27.06.2015

Yousuf Raza Gilani Ki Hawas Kab Khatam Hogi
BY: SYED ANWER MAHMOOD
یوسف رضا گیلانی کی ہوس کب ختم ہوگی
تحریر: سید انور محمود

مغلوں کے رشتہ دار سید یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008ء کو ملک کے چوبیسویں وزیر اعظم بنے۔ سید یوسف رضا گیلانی جنکی اصل تعلیم تو ایم ائے صحافت ہے لیکن انہوں نےکرپشن کی اعلی ترین تعلیم بھی حاصل کی ہوئی ہے، جسکا استمال وہ ہمیشہ کرتے رہے ہیں اور آجتک کررہے ہیں۔ گیلانی نے اپنی عملی سیاست کا آغاز 1978ء میں کیا تھا، سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیااور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاوسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیر ریلوے بنائے گئے۔ یوسف رضا گیلانی 1988ء میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور انہیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ سیاسی کیرئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر 2004ء میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تین سو ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی، تاہم 2006ء میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی ۔ یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یاداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب’چاہ یوسف سے صدا‘ بھی لکھی۔

پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ 2008ء ۔2013ء حکومت کا یہ ریکارڈ ہے کہ اس کےقومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے چند سیکنڈ کی سزا کے بعد نہ صرف وزارت عظمیٰ بلکہ پانچ سال کے لئے الیکشن لڑنے سے بھی نا اہل قرار دے دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں سے چار سال وزیراعظم رہنے والے یوسف رضا گیلانی کا ایک ریکارڈ یہ بھی رہا ہے کہ اُن کی حکومت سے زیادہ بدعنوان حکومت پاکستان میں اس سے پہلے کوئی نہ تھی۔ یوسف رضا گیلانی کے چار سالہ حکومت کے دور میں دہشت گردی ، ٹارگیٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بری گورننس، طویل لوڈشیڈنگ، غربت کیساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا، مشرف دور کے 34 بلین ڈالر کے قرضے ڈبل ہوگے، 62 روپے کا ڈالر 100 روپے کا ہوگیا تھا، ملک کے تمام ادارئے تباہ ہوچکےتھے۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نے کراچی ، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔ ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں مختلف کمپنیوں کو جعلی سبسڈی کی مد میں دو ارب روپوں کی بدعنوانی کی گئی تھی۔ اس کے خلاف 65 مقدمات دائر کیے گئے جن میں سے 12 مقدمات میں یوسف رضا گیلانی کو بھی نامزد کیا گیا۔ یوسف رضا گیلانی جب پاکستان کے وزیراعظم تھے تو امریکی خاتون صحافی کے سوال کے جواب میں قوم کے منتخب وزیر اعظم ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ ”لوڈ شیڈنگ‘ غربت اور بے روزگاری سے تنگ پاکستانی پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟“۔ جس پر ہال میں موجود تمام لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا اور 15 سکینڈ کی خاموشی کے بعد اس کرپٹ وزیر اعظم نے اس سکوت کو یوں توڑا کہ “انہیں روکا کس نے ہے؟“۔

مغلوں کے رشتہ دار یوسف رضا گیلانی جب جیل میں تھے تو انہوں نےاپنی گھڑی فروخت کرکے اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کی تھیں مگر پیپلز پارٹی کے دور میں وہ اور اُنکے بچے کروڑوں پونڈز کی شاپنگ دنیا کے مہنگے ترین سٹور ہیرڈز سے کرتے تھے اور ایک ایک رات میں مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ لاکھوں روپے کسینو میں خرچ کر دیتے تھے۔ یوسف رضا گیلانی وہ کرپٹ شخص ہے کہ جس نے اپنے دور میں میرٹ کے ہر تصور کی تمامتر دھجیاں اڑا کر آئین اور قانون کا بار بار مذاق اڑایا تھا۔ اس ہی کرپٹ وزیراعظم نے ایک نا اہل میٹرک پاس عدنان خواجہ کو آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کارپوریشن جیسی اہم اور بڑی اور حد درجہ ٹیکنیکل کارپوریشن کا سربراہ لگایا تھا۔گیلانی کے دور میں ہی حج کے معاملات راؤ شکیل جیسے ملعون کے سپرد کیئے گئے تھے اور اسنے حاجیوں کو ہی لوٹ کھایا تھا ۔ گیلانی کے زمانے میں ہی آئی ٹی جسے اہم شعبے کو اس سے یکسر نابلد مگر فیملی فرینڈ زین سکیھر کو سونپ دیا گیا تھا، پیٹرولیم کی قیمتوں کو مقرر کرنے والا ادارہ ‘اوگرا’ توقیر صادق کو سونپا گیا تھا، جس نے چندہی ماہ میں 83 ارب روپے کا کرپشن کرڈالا۔ اور تو اور ایک فحاشی کے اڈے اور نائٹ کلب کے منیجر اکمل نیازی کو وہاں سے اٹھاکر اسٹیٹ لائف کارپوریشن کا چیئرمین بنادیا گیا تھا۔ باقی دیگر کرپشن کےلیے پی آئی اے، اسٹیل مل اور ریلوے کو چنا گیا اور کئی دہائیوں کےکرپشن کے ریکارڈ توڑ ےگئے۔مزید یہ کہ نجی بجلی گھروں سے الگ مال بنایا گیا، یہ وہ بدعنوانیاں ہیں جس سے پورا پاکستان باخبر ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تو فرماتے تھے کہ ہم نے سب وعدے پورے کر دیے ہیں۔ ملکی معاشی اور سیاسی تباہی کے بدلے وہ اپنی آیئنی اصلاحات کا ڈنکہ پیٹتے تھے اور بڑی ہی ڈھٹائی سے یہ سوال کرتے تھے کہ حکومت پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ دنیا میں کہاں پانچ سال میں سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔

دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے صرف دو دن پہلے پاکستان کے شہر ملتان میں پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ پر فائرنگ کے بعد یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کو اغوا کر لیا گیا۔علی حیدر گیلانی پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 200 سے پیپلز پارٹی کا امیدوار تھا۔ علی حیدر گیلانی کے اغوا کے بعد کئی بار میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ یوسف رضا گیلانی کو اُن کے بیٹے کی خیریت کے حوالے آگاہ رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر تاثر یہی رہا ہے کہ علی حیدر گیلانی کو طالبان نے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ گذشتہ سال اپریل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی، ایک اہلکار کے مطابق ویڈیو میں علی حیدر گیلانی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور اُس کے حلیے سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسےاُس پر خاصا تشدد کیا گیا تھا۔ دو سال سے زیادہ عرصہ کے بعد یوسف رضا گیلانی کا اُن کے مغوی بیٹے علی حیدر گیلانی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ علی حیدر گیلانی نے نامعلوم مقام سے اپنے والد سے آٹھ منٹ تک فون پر بات کی۔موبائل پر فون افغانستان کے نمبر سے آیا اور علی حیدر نے اپنے والد اور شاہ محمود قریشی سے بات کی۔ آٹھ منٹ کی گفتگو میں اغوا کاروں نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ ہی اُن کی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے آیا۔

آصف علی زرداری کے ساتھی اور بدنام زمانہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وہ ہار نادرا کے حوالے کردیا جوترک خاتون اول نے2010ء میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کےلیے عطیہ کیا تھا۔ ترک خاتونِ اول کی طرف سے سیلاب زدگان کو عطیہ کیا جانے والا ہار ملتان کے سید زادۓ گدی نشین گیلانی کے گھر کیا کر رہا تھا؟ ہوسکتا ہے لفظ ’’عطیہ‘‘ سنتے ہی، جانشن شیخ عبدالقادر جیلانی نے ہار خود پر حلال کر لیا ہو کیونکہ ایک گدی نشین کی موجودگی میں کوئی اور کسی عطیے کا مستحق کیسے ہو سکتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنے پاس ہار کی موجودگی کا اقرار تب کیا جب موجودہ وزیر داخلہ چودھری نثار نے نادرا کی ملکیت ہار گم ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ گیلانی صاحب تو فرمارہے تھے کہ سربراہان مملکت کا تحفہ عام سی بات ہے اور ہار اُن کے پاس ہے، تاہم قواعد وضوابط کے مطابق غیر ملکی تحائف کسی شخصیت کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ وزیراعظم کے عہدے کے لئے ہوتے ہیں اور یہ ہار تو وزیراعظم کو نہیں بلکہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو عطیہ کیا گیا تھا۔

اب ایف آئی اے ٹیم تحقیق کرے گی کہ ترک خاتون اول کا ہار سابق وزیراعظم گیلانی نے اپنے پاس کیوں رکھا؟۔ ریکارڈ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ترک خاتون اول کا ہار اُس وقت کے چیئرمین نادرا علی ارشد حکیم کے حکم پر نادرا نے سولہ لاکھ روپے میں خریدا تھا اور رقم دادو میں سیلاب سے متاثرہ آٹھ جوڑوں کی شادی پر خرچ کی گئی تھی۔ایف آئی اے کے مطابق سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ترک خاتون اول کے ہارکے معاملے پرایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور پاکستان کے بدترین کرپٹ اورنااہل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جو ملتان کی ایک بڑی گدی کے سجادہ نشین بھی ہیں گذشتہ دو سال سے اپنے چھوٹے بیٹے جسکو طالبان دہشتگردوں نے اغوا کیا ہوا ہے اُسکی جدائی کا غم برداشت کررہے ہیں، لیکن ابھی تک اپنی پرانی روش پرقائم ہیں۔ سابق وزیراعظم کی اس گندی حرکت کی وجہ سے پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے لیکن شاید وقت کے ساتھ ساتھ اُنکی ہوس بڑھتی گئی ہے۔ اب یہ تو معلوم نہیں کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہوس کب ختم ہوگئی لیکن کم از کم اس شخص کو یہ ہی سوچنا چاہیے کہ آج میرا چھوٹا بیٹا جن مصیبتوں کا شکار ہے شایدوہ میرئے ہی گناہوں کا نتیجہ ہو۔