عدلیہ دہشت گردوں کی محافظ

Posted on June 27, 2015



شائد عدلیہ دہشت گردوں کو تحفظ دینے پر تل گئی ہے ۔۔۔ !

سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی کورٹس پر فیصلہ محفوظ کر دیا ہے ۔ گمان غالب ہے کہ فیصلہ آئینی ترمیم اور آرمی کورٹس کے خلاف ہوگا ۔ اگر ایسا ہوا تو پاک آرمی کے خلاف دہشت گردوں کو قانونی تحفظ مل جائیگا۔۔۔!

مذکورہ فیٖصلہ عاصمہ جہانگیر کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو آرمی کورٹس میں سزائیں دینا غیر قانونی ہے ۔

اس درخواست پر سپریم کورٹ نے اپنے معمول کے برعکس کافی تیز رفتار ایکشن لیا ہے جو حیران کن ہے ۔

دوسری طرف سندھ ھائی کورٹ بہت تیزی سے ان لوگوں کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کر رہی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کی مدد اور اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے کی وجہ سے کسی بھی وقت رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہو سکتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ وکلاء برادری نے بھی کچھ دن پہلے پاک آرمی کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا ہے ۔

پاک فوج نے بے پناہ جانی قربانیاں دینے کے بعد نہ صرف وطن عزیز کے بہت بڑے حصے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے بلکہ انکی مالی مدد کرنے والوں پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس میں اب بہت بڑے بڑے نام سامنے آرہے ہیں ۔ قوم پرامید ہے کہ اس بار پاک فوج دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دے گی ۔

ان حالات میں پاکستان کی عدلیہ قانون کی من پسند تشریحات کر کے فوج اور دہشت گردوں کے درمیاں دیوار بنتی نظر آرہی ہے ۔ خدشہ ہے کہ پاک فوج کی تمام قربانیاں اور محنت ضائع ہو سکتی ہیے ۔

اگر اس بار بھی پاکستان کی عدلیہ نے دہشت گردوں کے حق میں فیصلہ دے دیا تو ۔۔۔۔۔؟؟؟

کیا آئے دن دہشت گردوں کے ہاتھوں ذبح ہونے والی عوام اور فوج اس فیصلے کو قبول کر لیگی ؟؟

مجھے لگ رہا ہے کہ۔۔۔

اگر اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کی گئی تو عدلیہ اپنی فوج ( میڈیا اور وکلاء ) کو دوبارہ حرکت میں لائیگا۔ وکلاء کا غل غپاڑہ اور دنگا فساد دوبارہ سڑکوں پر نظر آئیگا ۔۔۔ میڈیا دوبارہ آئین، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کی گردان کررہا ہوگا ۔۔۔!

اگر ایسے حالات پیدا کیے گئے تب کیا کیا جانا چاہئے ۔۔۔ ؟؟

“وہ انصاف جس کا پاکستانی عدلیہ خون کر چکی ہے اب عدلیہ ہی کے خون سے دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے” ۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔۔۔!

تحریر شاہد خان