عبادت گاہوں پر حملوں میں ملوث عناصر میں ایران سرفہرست

Posted on June 27, 2015



دبئی ۔ موسیٰ الشریفی-العریبیہ ڈاٹ نیٹ

گذشتہ روز کویت میں اہل تشیع کی ایک جامع مسجد میں نماز جمعہ کے وقت ہونے والے بم دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سےعراق، ایران اور کئی دوسرے ملکوں میں مساجد پر ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر میں ایران سر فہرست رہا ہے۔ ایران اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی تکمیل اور دوسرے ملکوں میں فرقہ واریت کے فروغ کے لیے عباد گاہوں کو دھماکوں کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے گذشتہ روز کویت میں جامع مسجد پر ہونے والے دھماکے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جس مسجد کو دہشت گردوں نے دھماکے کا نشانہ بنایا وہ کویت میں الصوابرہ کے مقام پر واقع ہے اور اس کا پرانا نام “مسجد الحاکہ” بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد کسی دور میں کویتی شیعہ رہ نما عبداللہ الحائریر الاحقاقی کے زیرانتظام تھی تاہم کچھ عرصے سے اس کا کنٹرول کویتی حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اس لیے اس کا پرانا نام تبدیل کر کے مسجد امام جعفر الصادق رکھ دیا گیا۔ مسجد کا مجموعی رقبہ 1800 مکعب میٹر تھا اور اسے جدید فن تعمیر کی طرز پر بنایا گیا تھا۔
مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی روایت ایران نے ڈالی

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے ایک عشرے کے دوران عرب ممالک اور کئی دوسرے مسلمان اور غیر مسلم ممالک میں مساجد اور مقدس مقامات میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری القاعدہ اور دولت اسلامیہ “داعش” جیسی شدت پسند تنظیموں نے قبول کی مگر مساجد اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی یہ مکروہ روایت پہلے ایران نے ڈالی۔ ایران اپنے ہاں، عراق اور سعودی عرب میں فرقہ وارانہ فسادات کے فروغ کے لیے مقدس مذہبی مقامات کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

ایرانی امور کے تجزیہ نگار عبدالرحمان العفراوی کا کہنا ہے کہ “ایران کی جانب سے مقدس مقامات میں دھماکوں کی روایت کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ مقدس مقامات پر حملوں کی پہلی کارروائی ایران کی جانب سے کی گئی تھی۔ ایران نے 20 جنوری 1994ء کو مشہد شہر میں امام علی بن موسیٰ الرضا کے مزار پر دھماکہ کیا جس میں 26 زائرین ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ مرشد اعلیٰ کے زیر کمانڈ ایرانی انٹیلی جنس کی کارستانی تھی۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ابھی داعش کا نام و نشان تک نہ تھا۔
خیال رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپوزیشن کی تنظیم “مجاھدین خلق” پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مسلح جدوجہد کا الزام عاید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران میں ہونے والے مذہبی مقامات میں دھماکوں میں “مجاھدین خلق” ہی ملوث ہے۔ امام موسیٰ رضا کے مزار میں دھماکے کا سرکاری الزام بھی مجاھدین خلق پر ہی عاید کیا گیا۔ ایرانی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ سعید امامی نے انکشاف کیا تھا کہ یہ دھماکے ایران نے خود کرائے تھے۔ اس کے باوجود ایران میں زیرحراست مجاھدین خلق کے بعض ارکان سے تشدد کے ذریعے ان دھماکوں کے اعترافات کرائے گئے تھے۔

العفراوی نے بتایا کہ امام موسیٰ رضا کے مزار میں دھماکے کے مرکزی کردار مہدی نحوی کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے اسے فرار کرایا گیا اور ایک جعلی پولیس مقابلے میں اسے قتل کر کے انٹیلی جنس کے دھماکے میں ملوث ہونے کے شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پانچ سال بعد صدر محمد حاتمی کے دور حکومت میں اہم سیاسی رہ نمائوں، صحافیوں اور دانشوروں کے قاتلانہ حملوں میں انٹیلی جنس چیف سعید امامی کو حراست میں لیا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ امام موسیٰ رضا کے مزار کو انٹیلی جنس حکام نے دھماکے سے تباہ کیا تھا لیکن اس کا الزام مجاھدین خلق پر اس لیےعاید کیا تاکہ تنظیم کو بدنام کیاجاسکے۔

جریدہ “کاروکارکر” نے 04 دسمبر 1998ء کو رکن پارلیمنٹ بہزاد نبوی کا ایک بیان نقل کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امام رضا کے مزارمیں دھماکہ ایک الگ داستان ہے اور وہ اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ ان کا اشارہ اسی طرف تھا کہ امام کے مزارمیں دھماکہ خود ایرانی انٹیلی جنس کی کارستانی تھی۔

اس کے بعد 22 فروری2006
ء کو عراق میں اہل تشیع کے امام علی الھادی اور سید حسن عسکری کے مزارات کو بھی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ ان دھماکوں پر پورے عراق میں مذمت کی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایران میں اہل سنت مسلک کی سیکڑوں مساجد کو دھماکوں سے اڑایا گیا جن میں ہزاروں بے گناہ لوگ مارے گئے۔

امریکی محققین بھی اپنی تحقیقات میں یہ بتا چکے ہیں کہ عراق میں امام علی الھادی اور امام حسن عسکری کے مزارات کو ایران نے تباہ کرایا ہے۔