جمہوریت بمقابلہ آمریت

Posted on June 27, 2015



پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا ذرا سرسری سا موازنہ کرتے ہیں !
پاکستان پر اس وقت کل قرضہ 77 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔
اس میں سے صرف 3 بلین ڈالر فوجی ادوار کا ہے باقی 74 بلین ڈالر “جمہوری” قرضہ ہے ۔
ڈالر کی قیمت 98 روپے ہے ۔
اس میں سے کل ملا کر صرف 20 روپے تینوں فوجی ادوار میں بڑھی ۔
باقی 78 روپے قیمت جمہوریت کا تحفہ ہے ۔
پاکستان کے قومی اداروں کی کارکردگی جمہوری ادوار کی نسبت فوجی ادوار میں بہت بہتر رہی ۔ اسکی لمبی چوڑی تفصیل ہے ۔ صرف ایک دو مثالیں دینا کافی ہوگا ۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ پی آئی اے ایوب خان کے دور میں دنیا کی نمبر ایک ائر لائن تھی !
اسی طرح آج کل جس سٹیل مل کو بیل آؤٹ پیکج دیا جاتا ہے یہ سٹیل مل صرف چند سال پہلے پرویز مشرف کے دور میں ایک بلین روپے کما کر دے رہی تھی ۔
یہ بھی ایک سچائی ہے کہ جمہوری ادوار میں پاکستان کے قومی اداروں میں سے کوئی ایک بھی سٹیبل نہ رہ سکا ترقی کرنا تو دور کی بات ہے ۔ اسکو چیک کیا جا سکتا ہے ۔
پاکستان کی افغان پالیسی اور جنگجوؤں کو سپورٹ کرنا بھی جمہوریت کا ہی تحفہ ہے ۔
سب سے پہلے خود بھٹو نے خود گل بدین حکمت یار ، یونس خالص، احمد شاہ مسعود سمیت کوئی درجن بھرافغانیوں کو 1972 میں پاکستان بلوایا اور چراٹ میں ٹریننگ دلوا کر افغانستان بھیجا تھا بغاوت کرنے ۔ اس وقت جنرل ضیاء کا کہیں نام و نشان تک نہیں تھا۔
ضیاء نے بعد میں بھٹو کے تیار کردہ ان مجاہدین کو صرف استعمال کیا تھا پاکستان کو روس سے بچانے کے لیے ۔
اسی طرح طالبان بھی 92/93 میں بنے اور 99 تک پروان چڑھے جو کہ ایک جمہوری دور تھا۔ طالبان کو تیار کرنے میں بے نظیر بھٹو حکومت نے اہم ترین کردار ادا کیا۔
پاکستان کے اندر پانچوں بڑے فوجی آپریشن جمہوری ادوار میں ہوئے ۔ بلوچستان میں پہلا ، بڑا اور واحد فوجی آپریشن بھٹؤ اور نواب اکبر بگٹی نے مل کر مری قبائل کے خلاف کروایا تھا ۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف پیپلز پارٹی کے حکم پرکیا گیا ۔
سوات او وزیرستان میں پیپلز پارٹی کے حکم پر کیا گیا ۔
اور تازہ ” ضرب عضب ” آپریشن نواز شریف کے حکم پر ( ضرب عضب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ آرمی نے خود شروع کردیا تھا تاہم جمہوریت کے یہ سارے چیمپئنز اس بات سے انکار نہیں کرینگے کہ یہ انکی مرضی سے نہیں ہوئے تھے )
پاکستان سے بنگلہ دیش نے الگ ہونے کا اعلان جمہوری دور میں کیا جب بھٹو نے مجیب کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہی مجیب نے آزادی کا اعلان کر دیا ۔
پاکستان کے سارے بڑے ڈیم ، نہریں ، بیراج اور غازی بھروتہ پراجیکٹ وغیرہ جن پر اس وقت کل پاکستان کی کل زراعت کا انحصار ہے اور جو آج بھی پاکستان کو سستی بجلی مہیا کر کے کسی حد تک چلا رہے ہیں سب فوجی ادوار کے تحفے ہیں ۔
البتہ پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی جسی حیثیت رکھنے والے کالاباغ ڈیم کو جمہوریوں نے پہلے متنازع بنایا اور بالاآخر پابندی لگوائی ۔
بقول ڈاکٹر عبد القدیر اور چند اور بڑے سائنسدانوں کے بھٹو کے دور میں ایٹمی پروگرام صرف کاغذوں اور پلاننگ تک محدود تھا اسکو حقیقت کا رنگ اور اسکی تکمیل جنرل ضیاء نے کی جس نے اپنی غیر معمولی سفارتی صلاحیتوں کی بدولت یو این او سے سرٹیفیکٹ لے رکھا تھا کہ “پاکستان ایتمی پروگرام پر کام نہیں کر رہا ” ۔ جبکہ بچہ بچہ یہ بات جانتا تھا ۔ اسی کے دور میں پاکستان ایٹم بم استعمال کرنے کے قابل ہو گیا تھا ۔ حتی کہ چاغی میں جس ایل شیپ کی سرنگ میں ایٹمی تجربہ کیا گیا تھا یہ بھی جنرل ضیاء نے ہی تیار کروائی تھی ۔
پاکستان کی ائر فورس کو جدید ترین طیارے ٖایف 16 اوربعد میں جے ایف تھنڈر فوجی ادوار میں ملے ۔ پاکستان کا ایٹمی آبدوز پروگرام ایک فوجی ہی کے دور میں شروع اور مکمل ہوا ۔ جس کی بدولت پاکستان اب کسی ملک پر سمندر کی تہہ سے بھی ایٹمی حملہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی مشرف کے دور میں ڈیویلپ ہوئی جب پاکستان روزانہ ایک میزائل کا تجربہ کرتا تھا اور پاکستان کی میزائل رینج 5/6 سو سے بڑھا کر 17000 کلومیٹر تک کر دی گئی۔ اور تو اور بری فوج کے لیے الخالد ٹینک بھی آمریت کا ہی تحفہ ہے ۔
انڈیا کے خلاف 65 کی جنگ میں ( اگر ویکیپڈیا کی جانب دارانہ آرٹیکلز جن کو ایڈٹ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان میں بیٹھے انڈین دانشوروں کو نظر انداز کر دیں ) فتح حاصل کی گئ اور کئی گنا بڑی طاقت کے مقابلے میں ملک کا کامیاب دفاع کیا گیا۔ روس کو مکمل شکست دی گئی ۔ کمشیر کی جنگی آزادی اور خالصتان تحریک بھی فوجی ادوار میں پروان چڑھی جنہوں نے تقریباً انڈیا کو توڑ دیا تھا ۔
خالصتان تحریک کو پیپلز پارٹی نے خفیہ اطلاعات دے کر تباہ کیا اور کشمیر مجاہدین کے بارے میں نواز شریف نے اطلاعات فراہم کیں اور انکی قربانیوں پر پانی پھیر دیا ۔
اسی طرح پرویز مشرف کے بارے میں بہت سے امریکن کہتے ہیں کہ امریکہ کی دو سو سالہ تاریخ میں اگر کسی ایک شخص نے امریکہ کی بنیادیں ہلائیں ہیں تو وہ پرویز مشرف ہی ہیں ۔ جنہوں نے امریکہ کے ساتھ دوغلی پالیسی چلائی اور افغانستان میں مجاہدین سے خفیہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو دلدل میں گھسیڑ دیا ۔ حد یہ ہے کہ امریکہ کے لیے سب سے وانٹڈ بندہ بھی انہی کے پاس سے برآمد ہوا ۔
پاکستان میں تقریباً ساری اسلامی قانون سازی ایک فوج ہی کے دور میں ہوئی جمہوری ملا اس سلسلے میں آج تک کچھ نہ کر سکے سوائے فساد برپا کرنے کے ۔
یہ ایک نہایت مختصر جائزہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو جمہوریت نے روندا یا پاک فوج نے ۔
بس فرق صرف یہ ہے کہ جمہوریوں کے پاس بولنے والے لوگ ہوتے ہیں جو عوام کے سامنے مسلسل اور تھکے بغیر دن رات صرف یہ دہراتے رہتے ہیں کہ ” یہ سب آمریت کا کیا دھرا ہے” جس کو بالاآخر عوام کے دماغ قبول کر لیتے ہیں ۔

تحریر شاہد خان