آصف زرداری لوٹ مار کھپے

Posted on June 18, 2015



Dated: 18.06.2015

Asif Zardari Lout Maar Khapay
BY: SYED ANWER MAHMOOD
آصف زرداری لوٹ مار کھپے
تحریر: سید انور محمود

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے سات سال سے زائد کے دور اقتدار میں سندھ میں امن و امان کے قیام کیلئے22کھرب20ارب روپےمختص اور خرچ کیے جاچکے ہیں تاہم امن و امان کا قیام عمل میں نہ آسکا۔ گذشتہ مالی سال 2014-15میں امن و امان کے قیام کیلئے 50ارب روپے سے زائد رقم صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کی گئی تھی جبکہ اس سے پہلے والے مالی سال میں اس مد میں 45ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی تھی ۔ صوبہ میں امن و امان کیلئے قومی خزانے سے اتنی زیادہ رقوم خرچ کیے جانے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام رہے ہیں۔ کراچی آپریشن شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد رینجرز اور پیپلز پارٹی میں اختلاف شروع ہوگئے۔ 16 فروری 2015ء کو ایپکس کمیٹی کے ایک اجلاس جس میں وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری بھی موجود تھے سندھ میں موجود پیپلز پارٹی کی حکومت کو رینجرز کی جانب سے نااہل کہا گیا اور ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا کہ آپریشن کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا ہے۔

گیارہ جون کو اپیکس کمیٹی میں ڈی جی رینجرز نے ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق سالانہ 230 بلین روپے دہشت گردی میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔فش ہاربر، فطرہ ، پتھاروں، بچت بازاروں،قبرستان ،پانی کی ترسیل اور زمینوں پر قبضہ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہے، میچ فکسنگ، منی لانڈرنگ ، سائبر کرائم ، فقیر مافیا اور مدارس کی بیرونی فنڈنگ بھی دہشت گردی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لینڈ گریبنگ اور چائنہ کٹنگ کراچی میں جرائم کے پس منظر میں ایک نئی جہت ہے، زمینوں پر قبضوں میں سیاسی جماعتیں ، سٹی ڈسٹرک گورنمنٹ ، ڈسٹرک ایڈمنسٹریشن اور پولیس اہلکار شامل ہیں، ان میں سے بیشتر کی سرپرستی کراچی کی ایک بڑی جماعت کرتی ہے۔ 230 بلین سالانہ سے زائد کی رقم مختلف غیرقانونی ہتھکنڈوں سے وصول کی جاتی ہے۔ مختلف غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم لیاری گینگ اور مختلف دھڑوں اور سندھ کی کچھ اعلیٰ شخصیات میں تقسیم کی جاتی ہے۔ ڈی جی رینجرز نے بریفنگ میں کہا کہ کروڑوں روپے مختلف گینگ وار دھڑوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں،جو کہ اسلحہ کی خریداری کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ فطرات کے نام پر جبری رقم وصولی کا بھی ذکر کیا گیا،قربانی کی کھالوں سے حاصل شدہ رقم بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایک اہم ذریعہ ہے،یہ رقوم سیاسی اور مذہی جماعتوں کے جنگجو گروپس کو چلانے میں استعمال ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں آصف زرداری اور اُنکی پیپلز پارٹی کہاں کہاں ملوث ہیں یہ جلدہی پتہ چل جائے گا لیکن چور کی ڈاڑھی میں تنکہ کے مصادق وہ فوج پر برس پڑئے اور وہ وہ دعوئے کرڈالے جو اُن کی پہنچ سے دور ہیں۔

ڈی جی رینجرز کی بریفنگ کے جواب میں آصف زرداری نے اپنے جیالوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے مرحوم سلطان راہی کا انداز اپنایا اور بغیر نام لیے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُنکو دیوار سے لگانے اور اُن کی کردار کشی کرنے کی روش ترک کردیں ورنہ وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ (فوجی جرنیل) وضاحتیں دیتے پھریں گے۔آصف زرداری نے مزیدکہا کہ مشرقی سرحد پر بھارت دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ کالعدم تنظیموں میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔’اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی سے جہاد ملک بھر میں پھیل گیا‘۔آصف زرداری نے فوجی قیادت کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ تو تین سال کے لیے آئے ہیں اور پھر چلے جائیں گے جبکہ اُنھوں (سیاست دانوں) نے ساری عمر پاکستان میں رہنا ہے۔انھوں نے کہا کہ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے ہڑتال کی کال دی تو خیبر سے لے کر کراچی تک جام ہو جائے گا۔ آصف زرداری سابق صدر پرویز مشرف کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ ’میں پانچ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا جبکہ کمانڈو (مشرف) تین ماہ بھی جیل میں رہنے کو تیار نہیں ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے نواز شریف پر اپنے احسان کا ذکر کر ڈالا کہ اگر اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گذشتہ سال استعفے دے دیتی تو ملک میں گذشتہ سال ہی انتخابات ہو جاتے لیکن اُنھوں نے جمہوریت کے فروغ کے لیے ایسا نہیں کیا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ جب بےنظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو اس وقت بھی اُنھوں نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا تھا۔

آصف علی زرداری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اُنھوں نے اپنی جماعت کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو چھپانے کے لیے اہم قومی ادارے کو نشانہ بنایا ہے۔ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ قومی ادارے کو ایسے وقت میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب اس کے نوجوان پاکستان کی بقا کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کی وجہ کوئی ادارہ نہیں بلکہ ان کی سابقہ حکومت کی کارکردگی ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے طرز سیاست سے قومی تشخص اور اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے زرداری کی فوج پر تنقید کرنے کو ایک منفی اقدام قرار دیا ہے تو دوسری طرف انھوں نے آصف علی زرداری سے طے شدہ ملاقات کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو میں خود یہ سوال اٹھایا کہ سابق صدر نے ایسے وقت میں فوج کے خلاف سخت زبان استعمال کیوں کی جب وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی بدعنوانی پر سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ محاذ کھولنا چاہتی ہے۔

آصف علی زرداری نے ڈی جی رینجرز کی بریفنگ کے جواب میں کہا ہے کہ وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ وہ وضاحتیں دیتے پھریں گے۔اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آصف زرداری جو کم تعلیم یافتہ ہیں اُن کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم کو جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل راحیل شریف تک کے کردار کے بارئے سب کچھ معلوم ہے ، کونسا جنرل کیا کیا کرتا رہا کتابوں کی شکل میں بازار میں موجود ہے، اور آجکل تو انٹرنیٹ پر بھی سب کچھ مل جاتا ہے۔پاکستان کے آخری فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف تو آصف زرداری کے محسن ہیں جن سے بینظیر بھٹو نے این آر او کا معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے زرداری پانچ سال اس ملک کے صدر رہے، جنرل راحیل شریف ضرور تین سال بعد چلے جاینگے لیکن فوجی ادارہ ہمیشہ قائم رہے اور لازمی اُس کا سربراہ بھی ہوگا۔آصف زرداری کا یہ کہنا کہ ’میں پانچ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا جبکہ کمانڈو (مشرف) تین ماہ بھی جیل میں رہنے کو تیار نہیں ہے۔‘ توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشرف کیوں جیل جائے؟، مشرف پر سیاسی غلطیاں کرنے کا الزام تو لگ سکتا ہے لیکن ایک روپے کی کرپشن کا نہیں، جبکہ آصف زرداری اوراُنکی پارٹی کے لوگ کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں اور ڈی جی رینجرز کی بریفنگ بھی یہ ہی بتارہی ہے۔

ایک ایسے موقعہ جب بھارتی وزیراعظم اور اُسکی کابینہ کے وزرا مسلسل پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات دئے رہے ہیں ، اس موقعہ پر آصف زرداری نے فوج کے خلاف بیان دیکر یقینا بھارت اور اُسکی خفیہ ایجنسی را کا ساتھ دیا ہے۔ آصف زرداری کا کہنا ہےکہ اسٹیبلشمنٹ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرئے ورنہ وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور پیپلز پارٹی نے ہڑتال کی کال دی تو خیبر سے لیکر کراچی تک جام ہو جائے گا۔ لگتا ہے شاید آصف زرداری کو 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی یہ اندازہ نہیں کہ وہ اوراُنکی پیپلز پارٹی کی اوقات یہ رہ گئی ہے کہ وہ لاڑکانہ یا نواب شاہ کو بھی بند نہیں کراسےاج، رہی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات تو اگرپیپلز پارٹی باقی رہ گئی تو اگلے انتخابات میں عوام لازمی طور پرپیپلز پارٹی کی اینٹ سے اینٹ بجادینگے اور پھرمسٹرٹین پرسینٹ اور پیپلز پارٹی کا ذکر کتابوں میں ہوگا۔ اب اس بات کا جواب تو نواز شریف ہی بہتر دئےسکتے ہیں کہ اگرپیپلز پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گذشتہ سال استعفے دے دیتی تو ملک میں گذشتہ سال ہی انتخابات ہو جاتے، لیکن شاید آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کےلیے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ چور کا بھائی گرہ کٹ، پورئے پانچ سال پیپلز پارٹی ملک کو لوٹتی رہی لیکن نواز شریف فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے رہے، اب باری نواز شریف کی ہےلہذا آپنے بھی وہی کچھ کرنا ہے جو نواز شریف نے کیا ورنہ سوچ لیں آپ پرویز مشرف تو ہیں نہیں جسکا نواز شریف کوشش کے باوجود کچھ نہیں بگاڑ پائے ،اسلیے یاد رکھیں کہ پہلے بھی نواز شریف نے ہی آپکو جیل بھجوایا تھا۔

آصف زرداری اپنی اس بات کوکافی مرتبہ دہراچکے ہیں کہ جب بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو اس وقت بھی اُنھوں نے ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا تھا، اللہ نہ کرئے اُس وقت پاکستان کو کچھ نہیں ہورہا تھا ہاں یہ ضرور تھا کہ پاکستان کھپے کی آڑ میں لوٹ مار کھپے کا پروگرام ضرور تھا، اور پھر اس لوٹ مار کھپے کو پانچ سال مرکز میں سب نے دیکھااور سات سال سے صوبہ سندھ میں دیکھ رہے ہیں۔ آصف زرداری کو تو یہ بھی احساس نہیں کہ جس صوبے کےوہ گذشتہ سات سال سے حکمراں ہیں اُسی صوبے میں تھرپارکر کے علاقے میں اس سال ابتک سو بچے خوراک کی کمی کے باعث مرچکے ہیں۔ چین ہمارا اچھا دوست ہے ہم اُسکی ہربات اپنانے کو تیار رہتے ہیں، چین میں صرف پانچ ڈالر کی کرپشن پر ایک وزیر کو پھانسی دئے دی گئی۔ کیا ہم چین کی اس بات کو نہیں اپنا سکتے اگر ایسا ہوجائے تو کرپشن کے بادشاہ آصف زرداری ، اُنکے ساتھی اور دوسرئے جرائم پیشہ سیاستدانوں کا کیا انجام ہوگا یہ سوچنے کی بات ہے۔ لگتا ہے آنے والا مورخ آصف زرداری کو کرپشن کا بادشاہ لکھے گا اور اُنکو’آصف زرداری لوٹ مار کھپے‘ کے نام سے متعارف کرائے گا۔