پاک فوج تنخواہ دار ملازم

Posted on June 15, 2015



” فوج اپنے کام کی تنخواہ لیتی ہے کوئی احسان نہیں کرتی ” ۔۔۔۔
اسکا مطلب یہ ہوا کہ جب حضرت عمر (ر) نے جب صحابہ کرام (ر) کی تنخواہیں مقرر فرما دیں اس کے بعد ان صحابہ کرام کے سارے کارنامے بے معنی ہیں چونکہ وہ تنخواہ لینے لگے تھے ؟؟
صلاح الدین ایوبی کی نہ صرف فوج تنخواہ دار تھی بلکہ وہ خود بھی تنخواہ لیتا تھا۔ اسکی تکریم بھی فضول ہوگی ۔۔۔
ٹیپو سلطان اور اسکی فوج اگر تنخواہ لے کر انگریزوں سے لڑی تو کیا لڑی ۔۔۔ ۔
ڈاکٹر قدیر اور انکی ٹیم نے تنخواہ لے کر بم بنایا تو کونسا تیر مار لیا ہے ؟؟
ویسے پاکستان میں سب سے زیادہ تنخواہ و مراعات اراکین پارلمینٹ اور اراکین سینٹ لیتے ہیں ۔ کیا ان کی خدمات اور احسانات کوئی بتا سکتا ہے ؟؟
سرکاری ملازمین میں سب سے زیادہ تنخواہیںٰ و مراعات جج حضرات لیتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی نے انکی خدمات و احسانات پر غور فرمایا ہے ؟؟
یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ ” فوج تنخواہ دار ملازم ہے اپنی اوقات میں رہے ” ۔۔۔
اس جملے سے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا گھر میں کسی نے صفائی کرنے والا کوئی ملازم رکھا ہو ۔۔۔
کسی بھی ریاست میں تمام کام تقسیم ہوئے ہوتے ہیں ۔ ریاست چلانے والوں سے لے کر وہاں صفائی کرنے والوں تک ۔۔۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی خدمات یا کام کا معاوضہ لیتا ہے ۔ نائی ، موچی ، وزیر ، مشیر، ڈاکٹر ، انجنیر، دوکاندار ، اداکار غرض ہر ایک ۔۔۔۔
کچھ کو حکومت عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ دیتی ہے ۔۔ تمام سرکاری ملازمین بمع فوج کے ۔۔
کچھ کو ادارے تنخواہیں دیتے ہیں ۔۔۔ پرائیویٹ ملازمین ۔۔۔
کچھ اپنا معاوضہ منافع کی شکل میں لتیے ہیں ۔۔ تمام کارباری حضرات ۔۔۔
تب فوج پر یہ تنقید کہ ” تنخواہ دار ملازم ہے ” کیا معنی رکھتی ہے ؟؟ ۔۔ اس قسم کی پھلجھڑیاں کون لوگ چھوڑتے ہیں؟؟ ۔ کبھی اس پر غور ضرور فرمائیے ۔۔۔۔
تحریر شاہدخان