میٹرو بس جمہوری زچگی

Posted on June 10, 2015



لاہور میٹرو اپنا خرچہ تک نہیں اٹھا سکتی اور اس کو عوام پر ٹیکسز لگا کر سالانہ 2 ارب روپے سبسڈی دینی پڑ رہی ہے ۔

اسی طرح اسلام آباد میٹرو کو بھی ایک اندازے کے مطابق سالانہ 1 سے 2 ارب روپے دینے پڑینگے تاکہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکے ۔

سنا ہے لاہور اور اسلام آباد دونوں میٹرو پر کل ملا کر لگ بھگ 80 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ اس سے ان روٹ کے لوگوں کو سفر کی بہتر سہولیات مل گئی ہیں ۔

پہلی بات ۔۔ نواز شریف پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت کئی قومی ادارے بیچنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انکی وجہ وہ یہ بتاتا کہ ” انکو اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑ رہی ہے کیونکہ یہ خسارے میں جار رہے ہیں “۔۔۔
سوال یہ ہے کہ نواز شریف میٹرو بس کب بیچے گا ؟؟ جو اپنی پیدائش کے ساتھ ہی خسارے میں جارہا ہے ۔۔
ایک اور ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے ۔ یہی سارے ادارے آمرانہ ادوار میں کماتے رہے ہیں ۔ جمہوری دور میں نہ صرف یہ سارے ” کماؤ پوت” نکمے ہوگئے بلکہ جمہوریت نے تیز رفتار زچگی کے عمل سے گزرتے ہوئے ایک اور ” پیدائشی نکمے ” کو جنم دے دیا ہے جس کا بوجھ اب سارے گھر والوں کو مل کر اٹھانا ہے ۔۔۔

دوسری بات ۔۔۔ اگر انسان کی ضروریات کی فہرست بنائی جائے تو پہلے پانی پھر کھانا پھر لباس پھر چھت پھر علاج وغریہ وغیرہ آئیگا ۔۔ سفری سہولت شائد پہلے 10 میں میں نہ آئے ۔۔۔

کراچی کی دو کروڑ آبادی پانی سے محروم ہے اور پینے تک کا پانی ان کو خریدنا پڑتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ 70 /80 ارب روپے اگر فالتو تھے تو اس مسلئے کو حل کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیے گئے ؟؟ کیا ہمارے ان عظیم دانشوروں کو 2 کروڑ لوگوں کو پانی دینے کے مقابلے میں چند کلومیٹر کے روٹ پر بہتر سفری سہولت دینا زیادہ ضروری لگا ؟؟؟

حقیقت یہ ہے کہ ان ظالموں کی ترجیحات ان کے ذاتی مفادات کے تابع ہوتی ہیں

تحریر شاہدخان