وفاقی بجٹ اور غریب عوام

Posted on June 8, 2015



Dated: 07.06.2015
Wafaqi Budget Aur Ghareeb Awam
BY: SYED ANWER MAHMOOD
وفاقی بجٹ اور غریب عوام
تحریر: سید انور محمود

مالی سال 2015۔16 کا43 کھرب13 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، میرا ایک سادہ سا سوال ہے کہ یہ بجٹ کس کےلیے بنایا گیا۔ کیا یہ بجٹ پاکستان کے غریب عوام کےلیے ہے ؟۔ تو یہ جواب قطعی غلط ہے۔ نواز شریف کی تیسری مرتبہ حکومت آنے کے بعد وزیرخزانہ اسحاق ڈار جو شماریات اور لفظوں میں ردوبدل کے ماہر ہیں اور ان کی وجہ سے پہلے پاکستان کو جرمانہ عائد ہوچکا ہے، اُنکی جانب سے پیش کیے جانے والے تیسرے بجٹ پر سیاسی جماعتوں اورعام عوام نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دو گھنٹے کی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر کے بعدجب اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرنے کی کوشش کی تو لائیو ٹرانسمیشن بند کردی گیں۔خورشیدشاہ نے کہا ہے کہ وزیرخزانہ کی بجٹ تقریرسے قوم مایوس ہوئی ہے،تقریرمیں صرف ٹیکس بڑھانے کی باتیں سنائی دیں۔ سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت اے پی سی کے فیصلوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے، نیا وفاقی بجٹ غریب کش اور کسان دشمن ہے، حکومت تیل کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام رہی، یہ بجٹ اکاؤنٹینٹ کا تیار کردہ ہے۔ اس بجٹ میں صرف امیروں کو مراعات دی گئیں غریبوں کو بجٹ میں دعاؤں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بجٹ کو امیر طبقے کے مفادات کا امین قرار دیا جبکہ غرباء کے لئے خاطر خواہ ریلیف کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ نیا بجٹ سرمایہ دارانہ ہے، عام آدمی کو اس بجٹ میں خاص ریلیف ملا اور نہ ہی مہنگائی کے سدباب کے لئے اقدامات نظر آئے، عام پاکستانی اس عوام دشمن بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئےاس حکومت اور خاصکروزیر خزانہ کو رو رہے ہیں، وزیر خزانہ نےحاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ساڑھے سات فیصد اضافہ اور مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت13 ہزار روپے مقرر کی ہے، یہ غریبوں پر بہت بڑا ظلم ہے۔ وزیر خزانہ 13؍ ہزار روپے میں گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔کیا وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار 13 ہزار روپے میں صرف اور صرف ایک ماہ تجربے کے طور پر اپنا گھر کا چولہا جلاکر دکھایں گے، دونوں حاجی ہیں ایک ماہ بعد پوری قوم کو اس تجربے کا سچ سچ نتیجہ بتادیں، اُنہیں پتہ ہے کہ 13 ہزار تو چھوڑیں 20 ہزار میں بھی میاں، بیوی اور دو بچوں کے ساتھ گذارہ مشکل ہے، اسلیے نہ ہی کوئی تجربہ ہوگا اور نہ ہی اسکا کوئی نتیجہ۔ البتہ وزیر خزانہ کو یہ معلوم ہے کہ پیٹ بھروں کو فائدہ کیسے پہنچایا جاتا ہے۔مثلا سینئر پرائیویٹ سیکرٹریز اور اسسٹنٹ سیکرٹریز کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ ان کے مفادات کی نگرانی کرتے رہیں۔بجٹ میں 1800 سی سی سے زائد والی ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں 25فیصد چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے ہائبرڈ گاڑیاں سستی ہونںیو، وزیر خزانہ کے امیر دوست خوش ہوجاینگے۔

ایسا لگ رہا کہ شاید وزیر خزانہ اتنےلاعلم شخص ہیں جنکو یہ نہیں معلوم کہ پاکستان میں 58 فیصد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ پچاس فیصد خواتین و بچے ناقص خوراک یا غذا کی کمی کا شکار، پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے 35 فیصد بچوں کاخوراک کی کمی کی وجہ سے مر جانا، صرف پانچ فیصد بچے ہی ایسے ہیں جو تنوع کے اعتبار سے معیار ی غذا لے پا رہے ہیں۔ یہ وہ خوفناک صورت حال ہے جو پاکستان میں بسنے والے عوام کو درپیش ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آربا ہے، جب کہ پاکستان کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزاررہی ہے۔ غربت کی اِس بڑھتی ہوئی شرح کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ 19کروڑ آبادی والے ملک کے تقریبا چھ کروڑ افراد خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عالمی سطح پر خط غربت یومیہ دو ڈالر یا دو سو روپے آمدن کے برابر ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ ”ورلڈ ڈویلپمنٹ انڈیکیٹر“ کے مطابق پاکستان کے 60 فیصد افراد کی آمدن یومیہ دو ڈالر یا دو سو روپے سے بھی کم ہے، جبکہ اکیس فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ پانی جو انسان کی بنیادی ضرورت ہے، بدنصیبی سے پاکستان میں 60 فیصد عوام پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ پانی میں آلودگی بڑھ رہی ہے جسکی وجہ سے کئی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جن میں ڈائریا، ٹائیفائڈ اور ہیپا ٹائٹس شامل ہیں۔ تعلیم کے شعبے پر ہماری حکومتیں کوئی توجہ نہیں دئے رہی ہیں۔ دنیا کی تعلیمی انڈیکس میں 120 ممالک میں سے پاکستان 113 نمبر پر ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسکول میں داخل نہ کروائے جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیاہ 61 فیصد ہےجبکہ سندھ میں یہ شرح 53 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 51 فیصد اور بلوچستان میں 47 فیصد ہے۔

ان مسائل میں سے کوئی بھی حکومت یا اُنکے ہمدردوں سے تعلق نہیں رکھتے اسلیے وزیر خزانہ یا نواز شریف کو بجٹ کے وقت ان مسائل کا بلکل دھیان نہیں رہتا۔ ان مسائل کا دھیان جب آتا ہے جب ووٹ مانگنے کی ضرورت پڑتی ہے۔عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے ایک نعرہ گونجا کرتا تھا ”دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا“، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اس نعرے کی گونج میں عوام کی پریشانیوں کا ذکر کرتے تھے، وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے، امن و امان قائم کرنے،مہنگائی اور بےروزگاری کوختم کرنے کے وعدئے کرتے تھے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیر 25 مارچ 2013ء کو مانسہرہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں عوام موجود تھے، اُس جلسے میں نواز شریف نے کہا تھا کہ “انہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا جس کی وجہ سے سزائیں بھگتیں، مصیبتیں اور مشکلات آئیں لیکن برداشت کیا اور پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ایٹمی دھماکہ کیا اب اقتدار میں آئے تو معاشی دھماکا کریں گے”۔ سال 2015۔16 کا بجٹ عام لوگوں کےلیے واقعی غریب عوام کےلیےایک تباہ کن معاشی دھماکہ ہے، نواز شریف صاحب آپنے معاشی دھماکہ کا وعدہ کیا تھا، آپکا وعدہ پورا ہوا، بقول اسلم رہیسانی کہ دھماکہ دھماکہ ہوتا ہے، چاہے وہ قوم کو بدحال ہی کیوں نہ کردئے، شیر تو ضرور آیا ہے لیکن یہ بھوکا شیر ہے جو غریب عوام کو کھارہا ہے۔

سقراط نے کہا تھا کہ “جب ہمیں لکڑی کا کام ہوتا ہے تو ہم ایک اچھے لکڑی کا کام کرنے والے کا انتخاب کرتے ہیں، اور جب ہمیں لوہے کا کام ہوتا ہے تو ایک اچھا لوہار کا انتخاب کرتے ہیں، تو پھر جب ہمیں کسی کو حکمراں بنانا ہو تو ہم اچھے حکمراں کا انتخاب کیوں نہ کریں”۔ افسوس 2013ء میں ہم نے نواز شریف کو تیسری بار چن لیا، ابتک اس ”جمہوری نواز شریف دور“ میں تین بجٹ آچکے ہیں لیکن نہ تو حکومت نے کشکول کو توڑا ہے اور نہ ہی غربت اور مہنگائی میں کوئی کمی آئی ہے۔ نواز شریف نے الیکشن کے دوران عوام سے جو وعدئے کیے تھے وہ ہوا میں اڑ گئے۔ دو سال کی شریف خاندان کی خاندانی حکومت دیکھنےکے بعد ہمیں جمہوریت کا مطلب اتنا ہی پتہ ہے کہ الیکشن ہوتے ہیں، لوگ ووٹ ڈالتے ہیں۔پھر جو بندہ جیت جاتا ہے اسکا بھائی وزیراعلیٰ، بھتیجے، بھانجے وزیر بن جاتے ہیں، بیٹی یوتھ لون سکیم کی چئیرپرسن بن جاتی ہے جو بعد میں عدالتی دباو کی وجہ سے استعفی دے دیتی ہے، سمدھی وزیر خزانہ بن جاتا ہے۔

نواز شریف اور اُنکی حکومت اب ہر مسلہ کے حل کا سال 2018ء بتارہے ہیں، تاکہ وہ اپنے پانچ سال مکمل کرلیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے اکنامک سروے میں خود یہ اعتراف کیا کہ وہ اہداف پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ایک روایتی بجٹ ہے، یہ سرمایہ دارو ں کا بجٹ ہے، نہ یہ عوام دوست ہے اور نہ ہی غریب عوام کو اس سے کوئی فائدہ ہوگا، بلکہ عام آدمی کےلیے اپنے گھر کو چلانا اور مشکل ہوجائے گا، بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ سے مزید بھکاری پیدا ہونگے اور مزید کرپشن بڑھے گی۔ گیارہ مئی 2013ء کو جس نواز شریف کوہم نے منتخب کیا تھا اگلے تین سال مزید اُسکو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھیں اور ہاں ایک ترقی مسلم لیگ ن کےدو سالہ دور میں ضرور ہوئی ہے کہ ایک لاکھ گدھوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اب آپ یہ نہ سمجھ لیجیے گا کہ اب تک کے تینوں بجٹ ان ایک لاکھ گدھوں میں کسی ایک نے بنائے ہیں۔