داعش کا اصل چہرہ

Posted on June 8, 2015



” دولت اسلامی عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) ” یا مختصراً “داعش” نے عراق اور شام میں خلافت قائم کرنے کا دعوی کیا ہے اور پاکستان بھر میں علمائے کرام اور انکے حامی انکی اندھا دھند حمایت کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی اور مولانا عبدالعزیز ان کے ہاتھ پر بعیت کر چکے ہیں ۔
داعش کے بہت سے معاملات ایسے ہیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان میں سے کچھ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں !
سب سے پہلے نعیم بن حماد کی کتاب میں موجود ایک حدیث میں غالباً انہی کا ذکر ہے یاد رہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش وغیرہ خود کو حق ثابت کرنے کے لے سب سے زیادہ احادیث اسی کتاب سے پیش کرتی ہیں ۔ حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے !
“رسول اللہ (ص) نے عراق کے حوالے سے فرما دیا تھا کہ خوراج کا ایک گروہ اٹھے گا جو ایک دولت بنائے گا ۔ یہ اپنے نام نہیں رکھیں گے بلکہ کنیتیں استعمال کرینگے اور اپنے آپ کو شہروں سے منسوب کرینگے ۔ انکے دل پتھر اور لوہے کی طرح ہونگے ۔ یہ عورتوں کی طرح لمبے بال رکھیں گے ۔ جب اس طرح کے گروہ نکلیں تو اپنے گھروں سے نہیں نکلنا ( مطلب کوئی حرکت نہ کرنا کیونکہ یہ بہت بڑے فتنہ گر ہونگے ) پھر اللہ انکے درمیان پھوٹ ڈلوا دے گا اور پھر اللہ انکے بارے میں فیصلہ فرما دے گا ۔”
آپ نوٹ کیجیے یہ اپنی خلافت کو “دولت” کہتے ہیں جیسا کے حدیث کے الفاظ ہیں ۔ انکے امیر کا نام ابوبکر بغدادی ہے جس میں ” ابوبکر ” کنیت ہے اور ” بغدادی ” بغداد شہر سے منسوب ہے ۔ اس سے پہلے اسی جماعت کے امیر ابو مصعب زرقاوی تھے جس میں “ابو مصعب” کنیت ہے اور ” زرقاوی ” کا مطلب وہ زرقا شہر میں پیدا ہوئے تھے ۔ داعش کے دیگر لوگ بھی کنیتیں ہی استعمال کرتے ہیں اور شہروں سے اپنے نام منسوب کرتے ہیں ۔
انکے دل کیسے ہیں ؟ اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنی جنگجو تنظیمیں لڑ رہی ہیں ان میں یہ سب سے زیادہ بے رحم اور سفاک تنظیم داعش ہے ۔ اس پر تھوڑا سا آگے لکھیں گے ۔ ان میں سے اکثریت لمبے بال رکھتے ہیں بلکل عورتوں کی طرح ۔
آپ اس حدیث کا انکار کر دیجیے یا اپنی آنکھیں پورے زور سے بند کر کے کہہ دیجیے کہ یہ کوئی اور جماعت ہوگی ۔ لیکن اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔
امریکہ کے مفرور سی آئی اے ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق آئی ایس آئی ایس یا داعش امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کے دنیا بھر میں جاری انٹیلی جنس آپریشن “Hornet’s Nest” (بھڑوں کا چھتہ ) کا حصہ ہے ۔ جس کے تحت ایسی دہشت گرد تنظیمیں بنائیں جائنگی جو دنیا بھر میں ہر قسم کی دہشت گرد کاروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں ۔
ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق اس جماعت کا نام نہاد خلیفہ یا امیر ابوبکر بغددادی دراصل ایک صہیونی یہودی ہے اور اسکا اصل نام Elliot Shimon ہے ۔ اسکے ماں باپ بھی یہودی ہیں اور یہ دور جدید کا لارنس اف عریبیا ہے جسکو موساد نے تیار کیا ہے ۔
امریکہ کا یہ دعوی آن ریکارڈ ہے کہ ” ہم نے سب سے زیادہ بھرتیاں گونتانا مو بے ، بوکا کیمپ اور ابو غریب جیل سے کی ہیں ۔ یاد رہے کہ ابوبکر بغدادی کو بھی 2009 میں امریکہ نے گونتانا موبے سے چھوڑا تھا اور اس نے آتے ہی عراق میں موجود القاعدہ کی سربراہی سنبھال لی تھی ۔ بعض لوگوں کے مطابق امریکہ نے اس کو سربراہی سونپ دی تھی ۔
Dr. Kevin Barrett کے مطابق قید سے رہائی کی شرائط طے ہوئیں تھیں اور جواباً امریکہ نے مالی، عسکری اور تیکنیکی مدد کا وعدہ کیا تھا اور یہ معاملہ امریکہ نے بہت سے رہا کیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ کیا ہے ۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔
عبداللہ محسود کو سی آئی اے چند سال گونتانا موبے میں رکھ کر چھوڑ دیا اور اس نے پاکستان آتے ہی ٹی ٹی پی کی داغ بیل ڈالی اور سب سے پہلے گوادر پرجیکٹ پر کام بند کروانے کی کوشش شروع کردی ۔ اس نے 7 چینی انجنیرز اغواء کر کے قتل کروا دئیے ۔۔۔ یاد رہے کہ گوادر پراجیکٹ کا دنیا میں سب سے بڑا مخالف امریکہ ہے ۔
عبدالحکیم بلحاج کو سی آئی اے نے رہا کر دیا تو اسنے امریکہ کے ساتھ ملکر معمر قضافی کے خلاف جنگ شروع کر دی یہانتک کہ اسکو شہید کر دیا ۔ اب امریکہ آرام سے لیبیا کا تیل ہڑپ کر رہا ہے ۔
سید علی الشیری یمن کے سب سے بڑا القاعدہ کمانڈر کو سی آئی اے نے رہا کیا اور اس نے آتے ہی سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور سعودی عرب کی سرحدوں پر کئ حملے کیے ۔ ( یہی حملے تھے جب پاک فوج سعودی آرمی کی مدد کے لیے گئی تھی )
یہ بہت لمبی فہرست ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ گونتانا موبے امریکہ کا ٹریننگ کیمپ ہے جہاں سے رہائی پانے والے بعد میں صرف امریکی مفادات کے لیے جنگ کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پریس ٹی وی پر امریکن آفیشلز کے انٹرویو بھی آئے ہیں کہ گونتانا موبے ،کیمپ باقو اور ابو غریب جیل ان کے ٹریننگ کیمپ ہیں ۔
نبیل نعیم جس نے Islamic Democratic Jihad Party بنائی تھی اور القاعدہ کا ٹاپ لیڈر مانا جاتا ہے اس نے بیروت کے المدین چینل کو بتایا کہ داعش سی آئ اے کے لیے کام کر رہی ہے ۔
عراقی شہر کرکوک سے تیل کی بہت بڑی پائپ لائن نکلتی ہے جسکا ایک حصہ اردن سے ہوتے ہوئے اسرائیل جاتا ہے اور اور دوسرا حصہ شام سے ہوئے ہوئے یورپ جاتا ہے ۔ اسی تیل پر اسرائیل کو زندگی ملتی ہے اور یورپ کی تیل کی بھی بہت بڑی ضرورت اسی پائپ لائن سے پوری ہوتی ہے ۔ اس پائپ لائن کا سب سے بڑا حصہ داعش کے زیر کنٹرول علاقے سے گزرتا ہے جہاں داعش پوری تندہی اسکی حفاظت کررہی ہے ۔ یہ ” کفر کے خلاف ” جاری جنگ کا کونسا حصہ ہے ؟ کوئی بتا سکتا ہے ؟
داعش نے حماس کی اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کو جہاد ماننے سے انکار کر دیا ہے ان کی مختلف وجوہات بتاتے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ حماس کو ایران اور پاکستان سپورٹ کرتے ہیں اور ایران خود ایک کافر ملک ہے جبکہ پاکستان کافروں کا اتحادی ۔ جبکہ خود داعش نے اسرائیل اور غزا میں جاری جنگ میں شمولیت سے معذرت کر لی ہے ۔
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک لاکھ مسلمان جنگجو ( دہشت گرد ) شام اور عراق بھیجے گا ۔ اس کے لیے برطانیہ میں “المہاجرون” نامی تنظیم برطانیہ میں کھلے عام لوگوں کو ” جہاد ” کے لیے بھرتی کر رہی ہے ۔ اس تنظیم کو چلانے والے عمر بکری اور انجم چودھری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایم ائی 6 کے ایجنٹ ہیں ۔ برطانیہ میں یہ بھرتیاں اتنی کھل کر ہو رہی ہیں کہ نمازوں کے بعد مسجدوں کے باہر سینکڑوں پمفلٹس تقسیم کیے جاتے ہیں اور باقاعدہ تقریریں کر کے لوگوں کو ” جہاد ” کی طرف راغب کیا جاتا ہے ۔ برطانیہ جیسے ملک میں کوئی پوچھتا تک نہیں !!!
سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ المہاجرون لوگوں کو آئی ایس آئی ایس یا داعش میں بھرتی ہونے کے لیے کہتی ہے ۔ آخر انگلیند کو کیا ضرورت ہے کہ وہ داعش کو جنگجو فراہم کرے ؟؟
آج شام میں فری سیرین آرمی کا کوئی وجود باقی نہیں رہا ہے ۔ اس کے بہت سے لوگ ” غائب ” ہیں ۔ کچھ سویڈن چلے گئے ہیں ۔انکا جنرل کہیں اور بیٹھ گیا ہے ۔ لیکن کچھ دن پہلے امریکہ نے شام میں ” دوست مجاہدین ” کو 500 ملین ڈالر کی امداد دی اور جدید ترین اسلحے کی بہت بڑی کھیپ پہنچائی ۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ سارا علاقہ داعش کے کنٹرول میں آچکا ہے تو یہ امداد وہاں کس کو دی گئی ہے؟؟
شام کی سرحد پر اسرائیل نے بہت سارے فیلڈ ہاسپٹلز بنائے ہیں اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہاں وہ جنگ سے متاثرہ مہاجرین اور زخمیوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں ۔ جبکہ کچھ دیگر ذرائع کے مطابق وہاں آئی ایس آئی کے جنگجوؤں کا علاج کیا جاتا ہے اور شام سے ہجرت کرنے والے بہت سے مہاجرین کو یہ شکایت ہے کہ ان کو ان فیلڈ ہاسپٹلز کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ۔ سب سے بڑھ کر اسرائیل جب بھی ان فیلڈ ھاسپپٹلز کے ویڈیوز جاری کرتا ہے تو متاثرین کے چہرے بلر کر دیتا ہے تاکہ پہچانے نہ جا سکیں ۔ بھلا عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کے چہرے چھپانے کی کیا ضرورت ہے ؟
ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق برطانیہ ، امریکہ اور اسرائیل کی داعش کے لیے یہ امداد انکے آپریشن ” ہارنٹس نسٹ” کا حصہ ہے !!
Site Monitoring Service جو کہ ایک مشہور صہیونی ویب سائٹ ہے اور الحیاۃ ٹی وی جسکا ہیڈ آفس لندن میں ہے اور جو ایک زائنسٹ ٹی وی چینل ہے وہ انکو مجاہدین اسلام کہتا ہے نہ کہ دہشت گرد اور Site Monitoring Service سروس تو باقاعدہ پیجز لانچ کر رہی ہے کہ ” اللہ کا وعدہ پورا ہوا ” ” خلافت قائم ہوگئی ” انتظار ختم ہوا” وغیرہ تاکہ عام مسلمانوں کو یقین دلایا جا سکے کہ واقعی کوئی خلافت قائم ہو گئی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ان صہیونیوں کا ہماری خلافت اور مجاہدین سے اتنی ہمدردی کیوں پیدا ہوگئی ؟ اس لنک میں صہیونیوں کی ان ویب سائٹس کی کچھ تفصیل ہے ۔
http://nodisinfo.com/isis-creation-israeli-mossad/
آپ یہ سن کر حیران رہ جائینگے کہ داعش کا لیٹریچر ایمزون ویب سائٹ پر آن لائن خریدا جا سکتا ہےاور اس کے لیے اشتہارات بی بی سی چلاتا ہے ۔۔۔!!!
یہ تین تین سو اور چار چار سو گاڑیوں کے قافلوں کی شکل میں پھرتے ہیں لیکن امریکہ جس نے بظاہر ان کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے ان قافلوں پر کبھی حملہ نہیں کرتا اور جو حملے کیے بھی ہیں وہ ” ٹارگٹ ہٹ نہ کر سکے ” ۔۔۔ جبکہ عام حالات میں امریکہ چیونٹی کو بھی نشانہ بنا لیتا ہے ۔
آپریشن ” ہارنٹس نسٹ ” کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کی ایک بھیانک اور قابل نفرت تصویر پیش کی جائے ۔ پچھلے دومہینوں میں داعش کی جو کاروائیاں سامنے آئیں ہیں وہ دل دہلا دینے والی ہیں مثلاً 9 اگست کو خبروں کے مطابق 100 عیسائی عورتوں کی عزت لوٹنے کے بعد انکے سر قلم کر دئیے ۔ کچھ دن پہلے یزیدی مذہب جو کہ غیر مسلم ہیں ان کی 700 عورتوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو ڈالر میں سر بازار بیچ دیا اور انکے مرودوں کے سر قلم کر دیئے ۔ یوٹیوب پر اپنی ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں وہ مخالفین کے کلیجے نکال کر چبا رہے ہیں ( یہ کام تاریخ میں غالباً صرف ہندہ نے 1400 سال پہلے کیا تھا ) ۔ سنی شیعہ دونوں کو بے دریغ قتل کر رہے ہیں ۔ یہ اتنی بے رحمی اور سفاکی سے قتل عام کر رہے ہیں کہ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ دئیے ہیں اور پہاڑوں میں جاکر پناہ لے لی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر مقامی سنی علماء اور القاعدہ ہی کی کچھ شاخیں بھی انکے خلاف ہو گئی ہیں ۔حتی کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے بھی انکے خوارج اور کافر ہونے کا فتوی دے دیا ہے ۔
ٹی ٹی پی ، داعش اور اشباب آئے دن اپنی جو ویڈیوز اور تصاویر دہشت پھیلالنے کے لیے نیٹ پر جاری کرتی رہتی ہیں انکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تبلیغی جماعت کے مطابق اب بیرون ملک سے وصولیوں کی شرح نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے ۔ یعنی اب دنیا بھر میں لوگ نسبتاً کم مسلمان ہورہے ہیں ۔
انہوں نے بزرگوں اور صحابہ کرام(ر) کی قبروں تک کو اکھیڑ لیا ۔ حضرت حجر ابن عدی (ر) جیسے جلیل القدر صحابی کی قبر اکھیڑی اور انکی ویڈیو بنا کر جسم مبارک کو کہیں نامعلوم جگہ لے جاکر دفن کر دیا ۔
لیکن ایک کام ایسا کیا جسکی جرات بڑے بڑے کفار بھی آج تک نہ کر سکے تھے جسکو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ انہوں بیغمبروں کے مزاروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا یے ۔ حضرت یونس (ع) کے مزار پر بموں سے حملہ کر اس کو تباہ کر دیا پھر اسکی قبر کھود ڈالی ۔ حضرت نوح (ع) حضرت دانیال (ع) اور یحیی (ع) کے مزاروں کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔
ماہرین کے مطابق داعش یا آئی آیس آئی ایس امریکہ کا “پلان بی” ہے ۔ جب روس کی دھکمی کی وجہ سے امریکہ شام پر براہ راست حملہ نہ کر سکا تب اسکے چند دن کے اندر اندر ہی داعش لانچ کی گئی اور دیگر جنگجو تنظیموں کو اس میں جذب کر لیا گیا ۔ خود روس اور دنیا بھر کو امریکہ یہ بتانے میں مصروف ہے کہ میرا داعش سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں تو اس پر حملے کر رہا ہوں اور ہمارا فلاں فلاں بندہ داعش مار چکی ہے !!!
اندازہ ہے کہ داعش کے ذریعے ایک اور جعلی نائن الیون کروایا جائیگا جو زیادہ امکان یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف ہوگا اس کے لیے داعش کے ہاتھ میں پہلے ہی نیوکلئیر مواد تھما دیا گیا ہے جس سے ایک ڈرٹی بم بنایا جا سکتا ہے جو چند کلو میٹر علاقے میں تابکاری پھیلا سکتا ہے۔ جسکا امریکہ واویلا کر چکا ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے امریکہ دنیا کو بتاتا رہا کہ ” عراق کو ہر قسم کے نیوکلئیر مواد سے صاف کیا جا چکا ہے” ۔
اندازہ ہے کہ اس جعلی 9/11 کے بعد اسرائیل ” داعش ” یا دہشت گردوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا میں اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے وحشیانہ طاقت کے ساتھ اپنی سرحدوں سے نکلے گا ۔ لیکن اس سے پہلے داعش ہی کی مدد سے ارد گرد کی اسلامی ملکوں کی فوجی طاقتوں کو توڑ کر ان کو کھانے کے لیے ” نرم ” کر چکا ہوگا ۔ اور تمام جنگجو گروپوں کے اندر بھی ایسی پھوٹ ڈلوا چکا ہوگا کہ ہر گروہ اسکی امداد کا طالب ہوگا اور یہ حدیث پیش کر رہا ہوگا کہ ” ضرورت کے وقت حضور (ص) بھی یہودیوں کے ساتھ اتحاد کر چکے ہیں ”
تازہ ترین خبروں کے مطابق داعش نے ” زنا کو حلال بلکہ “سنت ” قرار دے دیا ہے ۔ دو تین دن پہلے امریکہ اور افغان فورسز کے ساتھ ملکر کر افغان مجاہدین کے خلاف آپریشن کیا ہے اور 10 مجاہدین کو گرفتار کر کے ان کے سر قلم کر دئیے ہیں ۔
ہم ان ظالموں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ۔ اور ان ظالم علماء کو رسواء کرے جو باطل کا ساتھ دینے پر تل گئے ہیں !