تکبیر 28 مئی حکمرانوں اور اشرافیہ کو رویہ تبدیل کرنا ہںوگا۔ عوام کے مسائل حل کرنا ہںوں گے

Posted on May 28, 2015 Articles



یوم تکبیر 28 مئی حکمرانوں اور اشرافیہ کو رویہ تبدیل کرنا ہںوگا۔
عوام کے مسائل حل کرنا ہںوں گے۔
تحریر۔ حبیب جان لندن
——————————————————————————————————————–
گزشتہ 17 سالوں سے ہم بحیثیت قوم ہر سال کی 28 مئی کو یوم تکبیر انتہائی شان و شوکت سے مناتے ہیں۔ یقینا یہ دن پاکستان کے لئے ایک یادگار اور ناقابل فراموش دن کے طور پر رہتی دنیا تک یادگار اور شاندار رہے گا۔ یوم تکبیر یعنی پاکستان کا پُر امن ایٹمی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کرنے کا دن تھا۔ 28 مئی 1998 بلوچستان کے علاقہ چاغی میں اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے یکے بعد دیگرے جہاں ساتھ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے وہئی پاکستان کی فضائیں نعرے تکبیر الللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی۔
ماشاءالللہ بفضل خدا ایک کمزور ناتواں ملک جس کے دشمن یہ خیال کئے بیھٹے تھے کہ ایٹم بم اور یہ مفلوک الحال قوم کہاں بنا پائے گی۔ لیکن دنیا نے دیکھا اسی مفلوک الحال قوم نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قول سچ ثابت کرتے ہںوئے کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن اٹم بم بنائیں گے۔
امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی معاشی بندشیں اور پابندیاں بھی پاکستان کے استقلال کو جنبش نہ دے سکی۔
ہم یہاں پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں حائل رکاوٹوں اور مصیبتوں پر زیادہ بحث نہیں کریں گے لیکن ذوالفقار علی بھٹو سمیت ان تمام رہنماؤں جن میں تمام اختلافات کے باوجود جنرل ضیاء کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان غلام اسحق خان محترمہ بےںظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف اور باالخصوص سیٹھ عابد کو ضرور خراج تحسین اور عقیدت پیش کریں گے جنھوں نے کسی نہ کسی حد تک اپنا حصہ ڈالا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جہاں ملک دولخت ہںوچکا تھا وہیں قوم حالت نزع میں تھی ایسے میں شہید بھٹو نے قوم کو ایک نئے جذبہ کے ساتھ یکجا کیا اور پاکستان کی سالمیت اور استقامت کیلئے ایک ایسا نعرہ دیا جو قوم کے جینے کا سبب بنا ایٹمی طاقت کا حصول ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ اور دنیا نے دیکھا قوم کے جوان بوڑھے بچے سب یکجان ہںوکر اس نعرے کو عملی شکل دینے کیلئے جُت گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے انتہائی قلیل عرصے میں پاکستان کے چپے چپے میں جہاں ترقی کا جال پھیلایا وہاں ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول پر بھی بھر پور توجہ مرکوز رکھی۔
تعلیمی اداروں سے لے کر صحت کے مراکز دفاعی پیداوار سے لے کر ملکی صنعتی اداروں کی تعمیر و ترقی نیشنل ہائی وے سے لے کر آر۔ سی۔ ڈی ہائی وے گویا پاکستان کے شہری اور دیہئی علاقوں کی ترقی ایک ساتھ آگے بڑھ رہی تھی عوام مطمئن اور شادمان تھے تو دوسری طرف بین الاقوامی قوتیں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے خوفزدہ بھی تھی۔ اب یہاں ہم اسلام دشمن کہے یا پاکستان دشمن کیونکہ بھٹو جلدی میں تھے اسلامی سربراہی کانفرنس پھر اس کے بعد پٹرول کی اہمیت اور اسلامی سرمایہ کو ایک جگہ جمع کرکے یعنی دوسرے لفظوں میں ایک اسلامی بلاک کی تشکیل بھی خواب تھا۔
فقط 8 سالوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایک نئے توانا پاکستان میں تبدیل کردیا اور خود اپنی قوم کے میر جعفر اور میر صادقوں کے زریعے بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہںوکر پھانسی کے پھندے پر جھول کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر ہںوگئے۔
ہمارا ایک افریقی دوست اکثر کہتا ہے یہ گورے لوگ بڑے دور اندیش ہیں سالوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہم لوگ اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتے سازیشیں کرنا ہمارا طرہ امتیاز ہے وطن فروشی محبوب ترین مشغلہ ہےدوسروں کی غلامی کرنا دربار گیری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہماری قوم کی اکثریت کا شیوہ ہیں۔
گوروں نے پٹرول سے جان چھڑانے کیلئے الیکٹرانک گاڑیاں اور جہاز ایجاد کرڈالے اور ہم آج بھی شیعہ اور سنی کی لڑائی میں سعودیہ اور ایران کی پالیسیوں کے کے پیچھے ذلیل و خوار۔
قصہ مختصر یوم تکبیر کا دن قوم نے بڑی قربانیوں کے بعد دیکھا الللہ کا شکر ہے پاکستان آج ایک ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے پاکستان کے دشمن باالخصوص بھارت ہزار بار سوچنے پر مجبور ہے کل کا پاکستان آج کے پاکستان سے مختلف ہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے حکمرانوں اور اشرافیہ کو پاکستان کے 20 کڑوڑ عوام کیلئے بھی سوچنا ہںوگا۔ سویت یونین بھی دفاعی لحاظ سے ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر ملک تھا حکمران اور اشرافیہ عیش و آرام کی زندگی گزار رہے تھے دوسری طرف عوام معاشی بھوک و افلاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مررہے تھے۔
آج اگر بغور جائزہ لیا جائیں تو ہماری صورتحال بھی کچھ قدرے سویت یونین کے مشترک ہیں حکمران مفاہمت کے نام پر جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر غریب عوام کا استحصال کررہے ہیں۔ تھر کے صحراء ہںو یا لاہںور یا کوئٹہ کے ہسپتال معصوم بچے ناکافی غذا اور سہولیات کی وجہ سے ہلاک ہںورہے ہیں۔ پانی بجلی ناپید ہںوچکی ہیں کراچی سمیت ہر شہر دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہںوا ہیں ازلی دشمن بھارت میر جعفراور میر صادقوں کے ذریعے سازشوں میں مصروف ہیں۔ اشرافیہ اپنی وہی روش میں مبتلا ہیں۔
وقت آگیا ہے حکمران اور اشرافیہ آج کے دن عہد کریں کہ پاکستان کو صرف آمدنی کا زریعہ نہ سمجھے بلکہ اپنا وطن اور ماں سمجھتے ہںوئے اس کے احترام اور عقیدت میں اضافہ کریں۔ پاکستان کی ہر گلی کوچہ کو اپنی گلی تصور کریں ہر بیٹے بیٹی کو مریم بلاول سمجھے۔ ہسپتالوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا جال پھیلائیں تو دوسری طرف اپنی شوگرز ملوں اور فاؤنڈریوں کی طرح پاکستان کے کونے کونے میں صنعتی انقلاب برپا کریں۔ بلوچستان کے دور افتادہ گاؤں اور تھر میں بھی پانی اسی طرح میسر ہںو جس طرح لاہںور نوابشاہ کے محلات میں مکینوں کو میسر ہیں۔
ایٹمی ٹیکنالوجی طشتری میں رکھ کر نہیں ملی شہید بھٹو کو پھانسی کا پھندہ چومنا پڑا تو دوسری طرف قوم نے پیٹ سے پتھر باندھ کر لازوال قربانیاں دی۔ الللہ کا شکر ہے آج ہمارا سپہ سالارجنرل راحیل شریف ایک مکمل فوجی گھرانے کا چشم و چراغ ہے جو پاکستان کی ضرورتوں سے مکمل آگاہی رکھتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے حکمران اور اشرافیہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہںوگا اور
اگر رویہ نہ بدلا تو یاد رکھو سوشل میڈیا کا دور ہے آنے والے الیکشن میں یہ نوجوانوں کا خاموش انقلاب تمہیں بہا لے جائیں گا۔
پاکستان زندہ باد۔