ٹائنز کمپنی tines

Posted on May 24, 2015



ٹائنز کمپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ریاست
آج سےٹھیک 2 سال پہلے 22 مئی کو میں راولپنڈی سے شورکوٹ جا رہا تھا ، دوران سفر ایک دوست کی کال آئی، جو گورنمنٹ کالچ آف کامرس راولپنڈی میں ہمارا کلاس فیلو تھا اس کا نام خرم اور تعلق مری سے تھا، ہماری دوستی کافی گہری تھی جو الحمداللہ اب بھی ہے پر فوج میں ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ رابطہ بہت کم ہوتا ہے
بہر حال دوست سے حال احوال معلوم کرنے بعد پہلے سوال یہی کیا کہ جناب آج کل کیا ہو رہا ہے ۔۔ جواب ملا ایک انٹرنیشنل کمپنی میں جاب کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ واہ ! انٹرنیشنل کمپنی ، کیا ہمیں اس کمپنی میں جاب نہیں مل سکتی ؟ ہم نے ازرہ ا تفنن کہا۔ جاب۔۔۔۔۔۔۔! دوسری طرف کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئ جیسے واقعی کسی سوچ میں گم ہو۔۔۔
ٹھیک ہے، آپ اتوار کو اپنی CV لے کر مری روڈ ، ہمارے آفس آ جانا ، میں آپ کا انٹرویو کرا دوں گا۔۔۔ دوست نے ایک دم خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔ میں نے بخوشی حامی بھر لی اور کال بند ہوگئی۔۔۔
تین دن شورکوٹ میں ہی رہا مگر دل و دماغ پر انٹرنیشنل کمپنی کا بھوت سوار ہوچکا تھا۔انٹرویو کب ہو گا ، کیسا ہوگا اور پتہ نہیں پاس بھی ہو گا کہ نہیں۔۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔ اس طرح کے بہت سارے خدشات ذہن میں گردش کرنے لگے۔۔۔
بلاخر اتوار کو میں بمع CV مری روڈ پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ دوست پر نظر پڑتے ہی مجھے گزرا ہوا دور یاد آ گیا جب خرم بڑے بڑے جوگرز پہن کر کالج آیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اور اب اسے تھری پیس میں ملبوس دیکھ رہا تھا فوراخیال آیا کہ واقعی کوئی بڑی کمپنی ہے۔۔۔
بہر حال دوست نے پرجوش طریقے سے میرا استقبال کیا اور اپنے ساتھ آُفس لے گیا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان لڑکی آئی اور مجھے سر کہہ کہ مخاطب کیا ۔ سر۔۔۔۔۔!میں حیرانگی میں تقریبا اچھل پڑا ، ابھی انٹرویو بھی نہیں ہوا اور میں سر بھی بن گیا ۔ واہ ! کتنی اچھی کمپنی ہے جو اپنے ملازموں کو اتنی عزت دیتی ہے۔۔۔ میرا نام مریم ہے ، خوبرو لڑکی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے مجھے مخاطب کیا اور میرا سرسری انٹرویو لیا ۔۔۔۔ اگرچہ لڑکی کی ہر ادا دل لبھانے والی تھی لیکن میرا ذیادہ دھیان سوالوں کے جوابات پر تھا۔ ٹھیک ہے آپ ہمارے ساتھ کام کر سکتے ہیں ۔۔ لڑکی نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میں بے حد خوش ہو گیا کہ نوکری پکی ہوگِئی۔۔۔۔۔۔۔اب آپ جاسکتے ہیں ، تفصیل خرم آپ کو بتا دیں گے اس نے مجھے رخصت کرتے ہوئے کہا۔۔دوست کے مطابق مجھے ایک فارم پُر کرنا تھا جس کے بعد ایک ہفتے کی ٹریننگ کے لیے مبلغ 1600جمع کرانے ہونگے۔
جومیں نےفورا ہی جمع کرادئیے ،پیسے لیتے ہی میرا فارم پر کروا دیا گیا اورہا گیا کہ اب آپ کی ٹریننگ ہو گی۔۔۔۔4دن ٹر یننگ کے مکمل ہو چکے تھے مگر ہنوز کام کا طریقہ کا ر سے مجھے آگاہی نہ مل سکی ۔ میرے بار بار کے استفسار کے باوجود مجھے ایک ہی جواب ملتا کہ ٹریننگ مکمل کرو ، سب معلوم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ ٹریننگ میں ٹرینر (Trainer)اچھی اچھی باتیں بتاتے ، سہانے خواب دکھاتے اور بڑی خوشی سے اپنی تنخواہ کا ذکر کرتے۔ کسی کے مطابق اس کی تنخواہ 5 لاکھ ہے اور کوئی کہتا کہ میری 10 لاکھ ہے۔۔۔۔ اتنی بڑی تنخواہ اور سبز باغ دیکھ کر ہمارے سر ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا، اس دوران ایک ہی تمنا ہوتی کہ کب ٹریننگ کا تکلیف دہ عمل ختم ہو اور ہم کام شروع کریں۔۔۔ 10 لاکھ نہ سہی 1لاکھ ہی ہو جائے تو ہماری پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گی۔۔
ابھی تک ہم کام کی نوعیت ، طریقہ واردات اور اوقات کار سے لاعلم تھے ۔آخر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، پا نچویں اور آخری دن ایک سینئر (Senior) ٹرینر آئے اور ہمیں بتایا گیا کہ کامیابی صرف تھری سٹار بننے میں ہے اور اس کے لیے آپ کو کمپنی سے 35 ہزار کی شاپنگ کرنی پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پیسوں کی کمی نہ تھی ا س لیے فورا ہی شاپنگ کر لی اور اگلے ہی دن میں تھری سٹار بن گیا تھا اور اس کے بعد ہمارا کام لوگوں کو لے کے آنا تھا ۔۔۔۔۔۔لوگوں کو لانے کے لیے دوران ٹریننگ سکھائے گئے اصول کے مطالق ہمارا کام صرف کمپنی کا تعارف کراناور اچھے مستقبل کے خواب دکھانا تھا۔۔ اور جسے بھی عزت و شہرت کی بلندیا ں چھونے کا دل کرے اسے لا کر ٹریننگ میں بٹھادو، باقی کا کام ما ہر اساتذہ کردیں گے۔۔مجھے کام بہت پسند آ یا کیوں کہ اس میں کامیابی 100 فیصد لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ ایسا ہی ہوا پہلے ہی دن میں اپنے 2 دوستوں کو لے کر چلا گیا ۔ میں نے ان سے جھوٹ کا سہارانہیں لیا بلکہ پہلے ہی دن سب کچھ سچ بتایا ۔۔۔۔ ان کے پاس پیسوں کی کمی نہ تھی ان کا بھی یہی اراہ تھا کہ ہم بھی فورا سے تھری سٹار بن جائیں گے۔۔۔۔اور ان کے تھری سٹار بننے پر میں اگلے سٹار کے قریب پہنچ جاتا۔۔۔۔دوستوں نے 4 دن ٹریننگ کرلی تھی، میں بہت خوش تھا، اپ میرے فور سٹار بننے میں تھوڑی سی رکاوٹ حائل ہے۔۔ کچھ ہی دنوں میں مجھے اس اعزاز سے نوازا جانا تھا۔۔۔ مگر یہ کیا ، ایک دوست آخری دن نہ آیا۔۔۔ میں پورا دن انتطار کرتا رہا مگر وہ نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔ کال کی تو جواب نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔۔ میں خریت دریافت کرنے اس کے گھر جاپہنچا۔۔۔۔۔دوران ملاقات وہ تو کافی پریشان نظر آیا ۔۔۔۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگا مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ کام حرام ہے ، اس کے خلاف مفتی صاحب نے فتوی بھی دیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اب پریشان ہونے کی باری میری تھی ،،،،،میں اس کی بات سن کے ششدر رہ گیا ۔۔۔۔۔ اور سیدھا مفتی صاحب کے پاس چلا گیا۔۔۔۔ 40 ہزار جو لگا بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ مفتی اسماعیل طورو صاحب نے مجھے فتوی پکڑا دیا ۔۔۔۔ 5 صفحات پر مشتمل اس فتوے میں بہت تفصیل سے ہر چیز کا ذکر تھا۔۔۔ کمپنی کا طریقہ واردات، اس میں پائی جانے والی خامیاں ، فقہی اعتراضات اور شرعی احکام ۔
فتوی دیکھ کر میں بہت پریشا ن ہو گیا۔۔۔۔ خوابوں کا تاج محل دھڑم سے زمیں بوس ہوچکا تھا۔۔۔ سرسبز باغ یکدم سوکھ گئے۔بہار کے آنے سے پہلے ہی خزا ں نے گھیر لیا۔ دل کی تسلی کے لیے خیال آیا کہ کمپنی کے پاس اس کا کوئی جواب بھی تو ہوگا ۔۔۔۔۔ اتنے سارے لوگ حرام تو نہیں کھا رہےنا۔ مزید جاننے کے لیے مفتی تقی عثمانی صاحب کو ای میل کی جلد ہی جواب مل گیا۔ انھوں نے بھی 11 صفحات پر مشتمل فتوی میں ایک ایک بات کو ثابت کیا اور اسے حرام قرار دیا۔۔ اب کوئی گنجائش باقی نہیں بچی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جذبات سرد پڑ گئے ، خواہشات نے دم توڑ دیا۔۔۔۔ ملّا نصیرالدین کا گھی گر چکا تھا۔ (مشہور حکایت ہے)
اگلے دن وہی فتوی لیے کمپنی آفس چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے اس کا جواب چاہا تو کوئی خاطر خواہ جواب نہ مل سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھوں نے کوئی 10 فتوے دکھائے ۔ مگر کوئی عراق کا تو کوئی مصر کا جبکہ ایک عد د امریکہ کے کسی مفتی صاحب کا بھی تھا۔۔لیکن ان میں پاکستان کے کسی دارالا فتاء کا ذکر نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تومیں واقعی پریشان ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ فتوے کو نظر انداز کرنا میرے بس میں نہیں تھا۔۔۔۔
وہ دن اور آج کا دن ، پورے 2 سال ہو گئے میں دوبارہ آفس نہیں گیا ۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ اللہ کا شکر بھی ادا کیا کہ جلدی معلوم ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ ورنہ ساری زندگی حلال کھلانے والے والدین کوحرام کھلاتا ۔۔
ایک بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس کام میں شروع میں جھوٹ بول کہ لایا جاتا ہے بلکہ میں یہ کہوں کہ اس کام کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے تو غلط کیسے نہ ہو گا اور جس کام کی بنیاد ہی غلط ہو اس میں اللہ برکت کیسے دے گا ۔۔۔
مجھے میرے کیے کی سزا ملی، اتنے بڑے خواب تو آنکھوں میں سجا لیئے مگر کام کے شرعا جائز نا جائز ہونے کا خیال نہ آیا۔۔۔۔ اب اللہ نے اس نے بہتر آسانی والا ذریعہ معاش سے بھی نواز دیا مگر ایک بات ہمیشہ سے کہتا رہوں گا کہ دنیا کی حقیر دولت کے پیچھے ایمان کی اتنی بڑی دولت کو نہیں ٹھکرانا چاہیے۔ حرام کا ایک لقمہ آپ کے بہت سارے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے، اس لیے میری سب دوستوں کو نصیحت ہے کہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے یہ یقین کرلیا جائے کہ شرعا کوئی ممانعت تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ۔۔۔۔ اس وقت پاکستان میں اس کمپنی کے 10 لاکھ ملازمین ہیں ۔۔۔۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ سارے ہی حرام کھا رہے ۔۔۔۔ علماء کو اور ہمیں اس بارے میں اگائَی دینی چاہیے ۔۔۔۔۔ اور حکومت کو بھی نوٹس لینا چاہے …شکریہ