بے چراغ گلیوں میں اک چراغ جلنے دے

Posted on April 27, 2015



ے چراغ گلیوں میں اک چراغ جلنے دے
جاہد احمد :

قومی دانش اور ترجیحات کا افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست پر واویلہ اور آہ و بکا مچانے والی قوم کے لئے با شعور و باہمت سبین محمود صاحبہ کا کراچی میں قتل کیا جانا ایک روز مرہ کے معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ یہاں قومی رویے کو بیان کرنے کی خاطر میاں طارق محمود صاحب کے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ بھَیڑوں کا ریوڑ اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف محض رونا بھی شروع کر دے تو ان بھیڑوں کے اجتماعی آنسوؤں سے سیلاب آ سکتا ہے جو ظالم کو بہا لے جائے گا لیکن! کوئی ایک بھیڑ روئے تو سہی، کسی کو احساس تو ہو کہ اس کے یا ریوڑ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
بطور قوم ہم بھی صحیح و غلط کے احساس سے عاری ہو چکے ہیں۔ ظلم کو معمولِ زیست جان کرروز مرہ زندگی کا حصہ بنا کر جینا ہماری سرشت بن چکی ہے۔ ہم بھی وہ بھیڑیں ہیں جو روز کٹتی پٹتی ہیں لیکن رونے تک پر تیار نہیں۔
یوں تو ملک کے کسی بھی حصے اور بالخصوص کراچی جیسے افراتفری سے بھرپور شہر میں کسی بھی قتل کی واردات کو نا معلوم افراد کے کھاتے میں ڈال دینا انتہائی آسان اور معمول کی بات ہے لیکن سبین محمود کے قتل کو نامعلوم افراد کے کھاتے میں ڈال کر فائلوں میں ردی کر دینا بطور قوم قابلِ قبول عمل نہیں ہونا چاہیے۔ سبین محمود کا قتل صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ دانش، دلیری، فہم، جدت و ترقی پسندی اور مساوی حقوق کی آواز کا قتل ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سبین محمود Unsilencing Balochistan کے نام سے بلوچستان کے مسائل سے متعلق آگاہی مہم چلا رہی تھیں جس میں بلوچستان سے جڑے تمام مسائل پر سیر حاصل بحث اور پر مغز بات چیت کے مقاصد سے نشستیں ترتیب دی جاتی تھیں۔ حال ہی میں لاہور کے تعلیمی ادارے LUMS میں ایسی ہی ایک نشست کو آخری وقت میں منعقد ہونے سے روک دیا گیا تھا اور اخبارات میں اس واقعے کو مناسب کوریج بھی دی گئی تھی!!! بعد ازاں اسی نشست کا اہتمام کل رات کراچی میں T2F میں کیا گیا اور اسی نشست کے کامیاب انعقاد سے واپسی پر صرف اور صرف شعور ، فہم و بہادری سے لیس اس خاتون کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔
بلوچستان بلاشبہ پاکستان کا حصہ ہے نہ کہ مریخ کا ۔ بلوچستان کے مسائل پاکستان کے مسائل ہیں۔ بلوچستان کے’ مسنگ پرسن‘ پاکستان کے مسنگ پرسن ہیں۔ بلوچستان میں جاری علیحدگی پسندوں کی تحریک سے درست لائحہ عمل کے تحت نمٹنا حکومتِ وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اپنے حدود اربعہ، تاریخ، سیاسی اور بین الاقوامی حالات،پاک چین معاشی راہداری کے منصوبوں اور دیگر سرحدی معاملات کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسی صورتحال میں سبین محمود جیسے افراد ان مسائل کے حل تلاش کرنے اور پیچیدہ حالات کا شکار مقامی افراد کی آوازکو مناسب فورم مہیا کرکے حکومتِ وقت اور سیکیورٹی اداروں کو زمینی حقائق کو پرکھنے ، مقامی افراد کے جذبات کو سمجھنے اور درست لائحہ عمل اختیار کرنے میں حد درجہ معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہو تو یہ رہا ہے کہ آواز بلند کرنے والے کی آواز ہی دب جاتی ہے یا دبا دی جاتی ہے۔
سبین محمود جیسے افراد ہی توپاکستان جیسے رجعت پسند، اندھیرے ،تنگ و تاریک معاشرے میں قومی شعور اجاگر کرتے چراغ ہیں۔ خالد احمد نے ایسے ہی گھٹن زدہ پرخوف ماحول اور باشعور و بہادر افراد بارے کہا ہے:
پالنوں کی عمروں سے اب ہمیں نکلنے دے
خاک میں لتھڑنے دے پاؤں پاؤں چلنے دے
اے ہوا کے جھونکے سن اس روش کی لو مت چن
بے چراغ گلیوں میں اک چراغ جلنے دے
افسوس صد افسوس کہ ایسا ہی ایک چراغ پھر گل کر دیا گیا! ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فرض ہے کہ قوم کی اس بہارد بیٹی کے ڈرپوک قاتلوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے۔ اس قتل کے محرکات ، وجوہات اور تفصیلات کا منظر عام پر لایا جانا اس لئے بھی حد درجہ ضروری ہے کہ سبین محمود کے قتل اور بلوچستان پر سوالات اٹھانے کے حوالے سے ماضی میں قاتلانہ حملوں کا شکار ہوئے افراد کے تلخ تجربات کی روشنی میں جو وسوسے اور سوالات سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے دلوں میں امڈ رہے ہیں ان کا خاتمہ کیا جا سکے۔یقینا شعور جواب چاہتا ہے!
دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ سیاسی قائدین اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کی جانب سے اس سانحہ پر بہت شدید ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا گیا حالانکہ سبین محمود کا قتل قومی سوچ و فہم کا قتل ہے جس کو پارلیمان میں بطور خاص زیرِ بحث لایا جانا چاہیے ۔ یوں بھی ریاستِ پاکستان ذہنی و شعوری طور پر قحط کا شکار ہے۔ فہم اور شعور کے نام پر عوام اپنے ہاتھ میں تھمائے گئے جھن جھنے کو برسوں سے بجا بجا کر انتہائی خوش و مطمئن ہے۔ ایسی قحط زدہ ریاست میں کمیاب حقیقی شعور کو بھی لکیر کے دوسری طرف جانے کی پاداش میں چن چن کر ختم کر دیا جائے اور ریاست منہ تکتی رہے تو یہ کہاں کا انصاف ہے! یہ ظلم ہے۔ پر بھیڑیں سمجھیں تو سہی ، رونے کی کوشش تو کریں ! شاید آنسو نکل ہی آئیں!!!
الله تعالی سبین محمود کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے۔ آمین۔