ایم کیو ایم کا ضمنی انتخاب میں دفاعی انداز

Posted on April 27, 2015



Dated: 25.4.2015
MQM Ka Intikhabaat Mein Difai Andaaz
BY: SYED ANWER MAHMOOD
ایم کیو ایم کا ضمنی انتخاب میں دفاعی انداز
تحریر: سید انور محمود

سب سے پہلےایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ، حلقہ این ائے 246 سے نو منتخب ممبر قومی اسمبلی کنور نوید جمیل اور ایم کیو ایم کی قیادت کو 23 اپریل کو انتخابات کے زریعے این ائے 246 کی نشست پر شاندار کامیابی بہت بہت مبارک ہو۔حلقہ این ائے 246 میں ووٹرز کی کل تعداد 357801 ہے جبکہ اس میں مردوں کی تعداد 196197 اور عورتوں کی تعداد 161604ہے، (ممکن ہے مردوں اور عورتوں کی تعدادمیں 2 یا 4 کا فرق ہو لیکن ووٹرز کی کل تعداد کنفرم ہے)۔ 23 اپریل کو صرف 131424 ووٹرز نے اپنا ووٹ ڈالا جو اصل ووٹرز کا صرف 36.73 فیصد ہے۔ 131424 ووٹوں میں سے 95644 ووٹ(72.78 فیصد) ایم کیو ایم نے حاصل کیے ، پاکستان تحریک انصا ف نے 24821 ووٹ(18.89 فیصد)، جماعت اسلامی نے 9056 ووٹ(6.89 فیصد)، تمام آزاد امیدواروں نے مشترکہ طور پر 774 ووٹ(0.59 فیصد) حاصل کیے جبکہ 1129 ووٹ(0.86 فیصد) ووٹ مسترد ہوگئے۔

اس انتخاب میں ایک اور دلچسپ صورتحال یہ سامنے آئی کہ صرف پہلے اور دوسرئے نمبر پر آنے والی جماعتیں ہی اپنی زر ضمانتیں بچاسکیں ہیں باقی سب کی ضمانتیں ضبط ہوگیں، ایم کیوایم کے امیدوارکنورنویدجمیل نے پہلی، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارعمران اسماعیل نے دوسری جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوارراشدنسیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور اُن کے ووٹوں کی کل تعداد صرف 9056 ہے۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوارکو اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ 4ہزارروپے کی ضمانتی رقم (سکیورٹی ڈپازٹ) جمع کرانا ہوتی ہے، اگرہارنے والا امیدوارمتعلقہ حلقے میں پڑنے والے کل ووٹوں کا ساڑھے بارہ فیصدحاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے تووہ اپنی ضمانتی رقم واپس لینے کا حقدار ٹھہرتاہے۔ جماعت اسلامی کے راشدنسیم اس الیکشن میں نہ صرف اپنی ضمانت ضبط کرابیٹھے بلکہ 2002ء، 2013ء اور اب 2015ء میں ہارنے کے بعد انہوں نے ہارنے کی ہٹرک بھی مکمل کرلی ، (2008ء کے الیکشن کا جماعت اسلامی نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا)۔ اگرایم کیو ایم کے دونوں قریبی حریف پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے سارئے ووٹ ایک جگہ جمع کردیے جایں تب بھی یہ ایم کیو ایم کے 31فیصد ووٹوں کے برابر ہوتے ہیں۔

میرئے ایک دوست ہیں خوشی محمد، ان کے پاس ایک کار ہے جسکو وہ ‘ایم کیو ایم’ کہتے ہیں۔ ایک دن میں نے اُن سے پوچھا کہ انہوں نے اپنی کار کا نام ایم کیو ایم کیوں رکھا ہوا ہے تو انہوں نے کہا بہت سیدھی سی بات ہے ، آپکو پتہ ہوگا کہ ہر گاڑی سی این جی سے چلتی ہے لیکن جب سی این جی نہیں ملتی تو ظلم کی دہائی دیتے ہوئے گاڑی میں لگے ہوئے ایک سوئچ بٹن کے زریعے ایدھن کو بدل دیتا ہوں پھر گاڑی پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے لگتی ہے، اور جب سی این جی ملتی ہے تو پھرسوئچ بٹن کا استمال کرکے گاڑی سی این جی پر کرلیتا ہوں۔ خوشی محمد کہہ رہے تھےکچھ ایسے ہی طریقے سے الطاف حسین اپنی سیاسی جماعت ‘ ایم کیو ایم’ کو جولائی 1997ء سے چلارہے ہیں (جولائی 1997ء سے مہاجرقومی موومینٹ متحدہ قومی موومینٹ کے نام سے کام کررہی ہے)۔ الطاف حسین اور اُنکے ساتھی جبتک کوئی مسلہ نہیں ہوتا تو ایم کیو ایم کو متحدہ قومی موومینٹ سمجھ کر چلاتے ہیں، پھر ایم کیو ایم آپکو کشمیر کی سیاست میں بھی نظر آئے گی اور گلگت بلتستان میں بھی، کے پی کے اور پنجاب میں بھی، اسکے ممبران قومی مسائل پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی متحرک نظر آتے ہیں اور یہ قومی سیاست میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب کراچی میں ہونے والی ٹارگیٹ کلنگ، بھتہ خوری، بوری بند لاشیں اور دوسرئے جرائم میں ایم کیو ایم ،اُسکی لیڈر شپ یا کارکنوں کا نام آتا ہے تو ایم کیو ایم فورا سوئچ بدل کرمہاجر قومی موومینٹ بن جاتی ہے اور مہاجروں کے نام پر دہائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم نے 23 اپریل کے الیکشن پوری طرح سے مہاجر قومی موومینٹ بنکر لڑئے جبکہ مقابل بھی مہاجر ہی تھے لیکن ایم کیو ایم کی دھائی کے سامنے سب فیل ہوگئے۔

یہ آج کی بات نہیں ، یہ ایک ماہ پہلے کی بھی بات نہیں، یہ ایک سال پہلے کی بات بھی نہیں یہ بات سالوں پرانی ہوچکی ہے کہ کراچی کی 85 فیصدنمایندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پرتو اُس کی پیدایش کے وقت سے ہی الزامات لگتے رہے ہیں اور آج بھی ایم کیوایم پر ٹارگیٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے الزامات سرفہرست ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جو 23 سال قبل پاکستان چھوڑکر برطانیہ چلے گئےتھے خود اُن پر منی لانڈرنگ اور اپنے ایک ساتھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کےسلسلے میں تفتیش ہورہی ہے، جبکہ ایم کیو ایم کے متعدد کارکنان پر مختلف جرائم کے الزام میں مقدمات چل رہے ہیں یا وہ سزا یافتہ ہیں۔ فروری اور مارچ میں نہ صرف ایم کیو ایم پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات لگے بلکہ اُسکے مرکز نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا بھی مارا، ایک مقامی اخبار کے سروئے کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کو 74 فیصد پاکستانیوں نے درست فیصلہ قرار دیا ہے جبکہ 25 فیصد اس کو غلط قرار دیتے ہیں۔رائے عامہ کے جائزے میں لوگوں سے نائن زیرو پر چھاپے کے دوران ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری اور غیرقانونی ہتھیاروں کی برآمدگی کے بارے میں رینجرز کے دعو ے سے متعلق رائے لی گئی تو 46 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ دعویٰ بہت زیادہ درست ہے، 33 فیصد نے اس کو کسی حد تک درست بتایا۔ 13 فیصد کا کہنا تھا بہت کم سچ ہے، 8 فیصد نے اس کو صحیح قرار نہیں دیا۔ ان واقعات کے دوران ہی نبیل گبول نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دے دیا۔ ساتھ ہی نبیل گبول نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ضمنی انتخاب والے روز بہت زیادہ خون خرابہ ہوگا، جبکہ انہوں نے 2013ء کے انتخاب میں اپنی جیت کو ٹھپہ مافیاکی کارروائی قرار دیا تھا۔

حلقہ این ائے 246 کی یہ نشست 1988ء سے اب تک ایم کیو ایم کی مضبوط ترین نشست تصورکی جاتی ہے، کیونکہ الطاف حسین کا گھر اور ایم کیو ایم کا مرکزی آفس جسکو عام طور پر نائن زیرو کہا جاتا ہے اسی حلقے میں آتا ہے۔ اس حلقے میں مہاجر یا اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے لہذا اس حلقے سے ایم کیو ایم کے نمائندئے ہی کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ 23 اپریل کو ایم کیو ایم نے بڑی آسانی سے یہ ثابت کردیا کہ حلقہ این ائے 246 اس کا گڑھ ہے۔ خاص طور پر11مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ، خطرناک جرائم میں ملوث عناصر کی وہاں سے گرفتاریاں اور صولت مرزا کااعترافی وڈیو بیان اس کے حق میں نہیں جارہے تھے۔ ایم کیو ایم نے اس سخت دبائو میں اپنی پالیسی کو بدلا اور اپنے آپ کو مظلوم بناکر اور مہاجروں کا حقیقی نمایندہ ثابت کرکےاس ضمنی انتخاب کو بھاری اکثریت سے جیتا۔ایم کیو ایم نے 23 اپریل کے انتخابات والے دن تک دفاعی انداز اختیار کیے رکھا، اُسنے رینجرز اورفوج کےسامنے وقتی طور پر سلنڈر کردیا تھا۔ جماعت اسلامی کے کسی بھی سخت حملے کا سختی سے جواب نہیں دیا۔ عمران خان نے 6 اپریل کو حلقہ 246 کا دورہ کیا جس میں اُنکی بیگم ریحام خان اورپارٹی کے امیدوار عمران اسماعیل اور دوسرئے رہنما بھی شامل تھے، عمران خان اور اُنکی بیگم جب اسلام آباد سے روانہ ہورہے تھے تو ایم کیو ایم اور اُسکے قائد الطاف حسین کے خلاف بڑئے ہی جارحانہ انداز میں بیان دئے رہے تھے۔ این ائے حلقہ 246 اورجناح گراونڈ کے دورئے کےدوران ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کےتمام ارکان عمران خان اور اُنکی ٹیم کے استقبال کےلیے موجود تھے، عمران خان اور اُنکی بیگم کےلیے تحفوں کا بھی اعلان ہوا۔ عمران خان جب اسلام آباد جانے کےلیے کراچی ایرپورٹ پہنچے تو الطاف حسین اور ایم کیو ایم کیخلاف بات کرتے ہوئے اُنکا لہجہ مدہم تھا، جبکہ دوسرے دن اُنکی بیگم جو الطاف حسین کو غیر ملکی کہہ رہی تھیں، الطاف حسین کو الطاف بھائی کہکر پکاررہی تھیں۔ کوئی مانے یا نامانے ایم کیو ایم کا ضمنی انتخاب میں یہ دفاعی انداز ایم کیو ایم کی بہترین سیاسی چال تھی اور یہ ہی اُسکی شاندار کامیابی کا راز ہے۔

ایم کیو ایم کی ضمنی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد نبیل گبول جو دو سال تک اپنے ضمیر کو بیچ کر کھاتےرہے اُنکے 2013ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے حوالے سےایم کیو ایم پرلگائے گئے تمام الزامات مسترد ہوگے اور شاید نبیل گبول کا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہوگیا۔ الطاف حسین اس جیت کی بنیاد پرکہتے ہیں کہ اُن پر اور ایم کیو ایم پر لگے سارئےالزامات جھوٹے ہیں، جیت کے دوسرئے دن الطاف حسین میڈیا اور سوشل میڈیا اور کچھ اداروں پر برس رہے تھےاور اُنکے بقول اُن پر اور اُنکی جماعت پر جو لکھاری تنقید کرتے ہیں وہ سب یا تو متعصب ہیں یا وہ بکے ہوئے ہیں۔ چلیں چھٹی ہوئی اس ضمنی انتخاب کے جیتنے سے ایم کیو ایم کے سارئے گناہ دھل گئے۔ اگرالطاف حسین اور ایم کیو ایم کے دوسرئے رہنما سیاسی جماعت کے طور پر کام کریں تو کسی ادارے یا شخص کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن مجرمانہ سرگرمیوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا، ایم کیو ایم کے قائد کبھی وقت نکال کر سوچیں کہ 30 سال میں انہوں نے کراچی کو اور خاصکر مہاجروں کو کیا دیا ہے، لوگ تو کہتے ہیں بوری بند لاشیں اورخوف۔ کراچی اسوقت ایک اجڑا ہوا شہر ہے جس سے نہ ہی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو اور نہ ہی مسلم لیگ( ن) کی مرکزی حکومت کو کوئی دلچسپی ہے، لہذا الطاف حسین اورایم کیو ایم کی دوسری قیادت جو 85 فیصد کراچی کی نمائندگی کے دعوئے دار ہیں کراچی کاامن اورکراچی کی روشنیاں واپس لانے کے ذمہ دار بھی ہیں، اگر ایسا ہوا تو وہ آئندہ بھی شاندار کامیابی حاصل کرینگے اور ہم انہیں مبارکباد دیتے رہینگے۔