18 Crore Kis Ke Sath?

Posted on April 19, 2015



اٹھارہ کروڑ کس کے ساتھ؟
تحریر:انعام الحق
ہر سیاستدان منہ اُٹھا کر کہہ دیتا ہے کہ اٹھارہ کروڑ عوام اُس کے ساتھ ہیں.حقیقت میں بھلے اٹھارہ لوگ بھی اُس کے ساتھ نہ ہوں.کہتے ہیں جیسی عوام ویسے حکمران لیکن اگر عوام بھوکے ننگے ہیں تو حکمران امیر کیسے ہو گئے؟یقینا جعل سازی اور کرپشن کی مدد سے.جس طرح پاکستان کے حکمرانوں کو منہ پھاڑ کر بولنے کی عادت ہے عین اُسی طرح عوام کو ایک دوسرے کی جیبیں پھاڑ کر پیسے نکالنے کی بھی.پچھلے دونوں جب خان صاحب کا دھرنہ جاری تھا تب خان صاحب کہتے تھے کہ اٹھارہ کروڑ عوام میرے ساتھ ہیں جبکہ جہاں سے دھرنہ شروع ہو رہا تھا وہاں سے اسلام آباد کے باہر تک سڑکوں پر عوام ہی عوام کھڑی کر دی جائے تو بھی شاید دو کروڑ سے اوپر تعداد نہ جائے۔جبکہ وزیراعظم نواز شریف یہی کہتے رہے کہ اٹھارہ کروڑ عوام کا وزیر اعظم ہوں پانچ ہزار لوگوں کے کہنے پر استعفیٰ کیسے دو؟ہر سیاسی جماعت الیکشن سے پہلے اپنی تشہیر کرتے ہوئے اٹھارہ کروڑ عوام کا نعرہ لگاتے ہیں کہ’’ اٹھارہ کروڑ اُن کے ساتھ ہیں۔‘‘لیکن الیکشن کے بعد سب دھاندلی کے نعرے کا سہارا لیتے ہیں۔
مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ جس ملک میںصوبوں کی نفرت سے لے کر ڈویژن،ضلع،شہر،محلہ اور گلی تک اتحاد کا نام و نشان نہ ہو،یہاں تک کہ ذات پات کی تفریق سے ہی جو آزاد نہ ہو سکے ہوں وہ کس طرح یکجا ہو کر کسی ایک سیاستدان کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ہمارے ہاں تو سندھ والوں کو پنجابیوں کا نام لے دیں تو وہ مارنے پر اُتر آتے ہیں ۔چوہدری،چٹھے،چیمے،گجر وغیرہ وغیرہ جہاں ایک دوسرے کے دشمن ہوں وہاں حکمران کیسے کہہ سکتے ہیںکہ اٹھارہ کروڑ ہمارے ساتھ ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اٹھارہ کروڑ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ،تو پھر اُن سیاستدانوں کے ساتھ کس طرح ہو سکتے ہیں جو اپنے خون کے رشتہ داروں کے نہیں،میں اُن سیاستدانوں کی بات کر رہاہوں جو پاکستان کی سر زمین کو ’’دھرتی ماں‘‘کہتے ہیں اور پھر اپنی ماں کے ساتھ ہی بے وفائی کرتے ہیں اور اُسے بیچتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی ٹیلی ویژن پر کوئی سیاستدان یہ کہتا ہے کہ فلاں موقف اٹھارہ کروڑ عوام کا موقف ہے تو کم علم لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔جس ملک کی ایک معمولی سی گلی میں دو فریق کسی بات پر راضی نہیں ہوتے وہاں اٹھارہ کروڑ کس طرح راضی ہو سکتے ہیں۔جہاں امیر کیمرے کے سامنے پیٹ ننگا کر کے روئے اور غریب کو کیمرے کے سامنے نہ آنے دیا جائے وہاں اٹھارہ کروڑ کس طرح اکٹھے ہو سکتے ہیں؟جہاں غریب مجبوراً بھوکے سوتے ہوں اور امیر بھوک نہ ہونے کی وجہ سے بھوکے سوئیں وہاں اٹھارہ کروڑ کس طرح اکٹھے ہو سکتے ہیں؟جس ملک میں غریب کو اہمیت صرف ووٹ حاصل کرنے کے لئے دی جائے اور امیر سے منت سماجت کرنے کے بعد ووٹ کی درخواست کی جائے وہاں اٹھارہ کروڑ کس طرح اکٹھے ہو سکتے ہیں؟جس ملک میں غریب کے لئے سزا اور امیر کے لئے معافی کا نظام ہو وہاں اٹھارہ کروڑ عوام اکٹھے نہیں ہو سکتے جناب!جب تک یہ اٹھارہ کروڑ ذات پات ،مذہب،رنگ اور نسل کی تفریق کرنا نہیں چھوڑیں گے انہیں دُنیا کی کوئی طاقت اکٹھا نہیں کر سکتی۔قائد اعظم محمد علی جناح نے جس مخلصی سے پاکستان کے حصول کو ممکن بنایا اُس کی بنیاد’’تنظیم،اتحاد،ایمان‘‘کرار دی اُس مخلصی اور خلوص کو توڑنے کا ہمارے دشمنوں نے آسان طریق یہ نکالا ہے کہ انہیں صرف یکجا نہ ہونے دیا جائے ان کا ایمان اور تنظیم خود بخود ٹوٹ جائے گا۔جس دن پاکستان میں میڈیا کا کرداد انصاف پر مبنی ہوگا اُس دن سے یہ اُمید لگانا بھی درست ہو گا کہ یہ قوم ایک دن یکجا ہو سکے گی۔