پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے

Posted on April 10, 2015



آج کل یمن کی صورتحال نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے ۔ عالمی سازشیں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں اور مسلما ن باہم دست و گریبان نظر آرہے ہیں۔ کون ظالم ہے اور کس پر ظلم ہو رہا ہے ہر کسی کی اپنی اپنی رائے ہے لیکن جو بھی ہورہا ہے وہ عالم اسلام کے لئے اچھا نہیں ۔بڑے مسلم ممالک مثلاََ پاکستان ،ترکی اور ایران وغیرہ کو چاہئے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا اپنا مخلصانہ کردار ادا کریں تاکہ مذہب اسلام کی جگ ہنسائی نہ ہو۔۔ویسے بھی اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خلفائے راشدین کے دور میں ہی اسلام یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا شکار ہوگیا تھا اور مسلم باہم دست و گریبان ہوتے رہے اور یہ روائت آج تک چلتی آرہی ہے۔خدا سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو باہم امن سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کل ایک خبر پڑھ رہا تھا جس میں لکھا تھا کہ پاک نیوی کا جہاز 171لوگوں کو یمن سے بٹھا کر پاکستان لے آیا جن میں 11بھارتی باشندوں سمیت دوسرے ممالک کے لوگ بھی شامل تھے ۔یہ خبر پڑھ کر سر فخر سے بلند ہوگیا ۔یہ ایک بڑا کارنامہ تھا جو پاک نیوی کے جوانوں نے سرانجام دیا اس سے پہلے بھی پی آئی اے کے طیارے پاکستانیوں کو یمن کے ایسے علاقوں سے جہاں کشیدگی عروج پر تھی نکال کر لائے تھے اور وہ واپسی پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔اور کل تو انڈین باشندوں نے بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا۔ یہ سب دیکھ کر ایک نئی امید سی جاگ جاتی ہے کہ وہ ملک جہاں ہر طرف مایوسی و ناامیدی کے بادل چھائے ہیں۔کسی کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر نہیں آتے لیکن ایک اس ملک کے سیکیورٹی ادارے ایسی پیشہ وارانہ صلاحیتیں رکھتے ہیں جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی یہ بات چل رہی تھی کہ جن لوگوں کو پی آئی اے کے طیارے موت کے منہ سے نکال کر لائے ہیں وہ جب یہاں سے بیرون ملک گئے تھے تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ
پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے؟یہاں رکھا ہی کیا ہے؟
آج وہی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے نظر آرتے ہیں کیونکہ پاکستان نے ان لوگوں ایک نئی زندگی دی ہے ۔
کچھ دن پہلے یوم پاکستان گزرا ۔ساری قوم نے اپنے دفاعی اداروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو دیکھا اور سب عش عش کر اٹھے اور خاص کر بین الاقوامی میڈیا کے لئے بھی یہ سب حیران کن تھا کیونکہ ملک پاکستان کا جو عکس دنیا پر اس سے پہلے تھا وہ اسے صرف ایک ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے ہی دیکھتے تھے۔ ویسے اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ یہ ایک ترقی پزیر ملک ہے اور یہاں لوگوں کی اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم ہے لیکن اس کے باوجود اتنی منظم اور مضبوط فورس کا ہونا کسی کرشمے سے کم نہیں ۔ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔
تو پھر کیونکر لوگ اتنے مایوس ہوگئے ہیں ۔کافی دوست جن کے سر پر ملک چھوڑنے کا بھوت سوار ہے ان سے بات ہوتی ہے تو وہ یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ اس ملک میں کیا رکھا ہے ،غربت ،بے روزگاری،دہشت گردی ،کرپٹ حکمران،اور نااہل افسر شاہی۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ ملک اس وقت بہت نازک دور سے گزر رہا ہے ۔لیکن کہتے ہیں کہ مشکل میں کسی اپنے کا ساتھ نہیں چھوڑتے تو دوستوں یہ ملک تو اپنا ہے جس کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں ،جہاں ہمارا بچپن گزرااور آج یہ مشکل میں ہے تو ہم کیسے اسے چھوڑ کر جاسکتے ہیں ۔کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی کے اپنے کو کوئی موزی مرض لاحق ہو تو آپ اسے چھوڑ دیں۔ نہیں بلکہ آپ اس کا علاج کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے تو یہ دھرتی بھی تو اپنی ماں ہے تو جب اسے نااہل حکمرانوں اور کرپٹ بیوروکریسی کا مرض لاحق ہوا ہے تو آپ کیونکر اسے چھوڑ کر جاسکتے ہو ۔بلکہ آپ کا فرض تو یہ ہے کہ اسی نظام کا حصہ بن کر اسے ٹھیک کریں کیونکہ اس کی بہتری کے لئے کوئی باہر سے نہیں آئے گا بلکہ ہمیں ہی آگے بڑھ کر اسے ٹھیک کرنا ہوگا۔
اور ویسے بھی یہ بات حقیقت ہے کہ ترقی کے جتنے مواقع اس ملک میں ہیں شائد ہی کہیں اور میسر ہوں اور سب سے بڑھ کر آپ کو یہاں آزدی ،خود مختاری کا جو احساس ملتا ہے جس کے لئے ہمارے بڑوں نے الگ ریاست کا فیصلہ کیا تھا وہ کہیں اور نہیں مل سکتا چاہے آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں۔
دوسرے ممالک کی طرف بھاگنے والوں سے میں صرف یہ پوچھوں گا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے اگر آپ کوئی پھلدار درخت لگائیں اس کی حفاظت کریں اور جب پھل لگے تو اسے کوئی اور لے جائے یہی حال اس ملک کا ہوگا جب اس کی خدمت کرنے کا موقع آیا تو آپ لوگوں کو باہر جاکر دوسروں کی غلامی کرنا بہتر لگ رہا ہے صرف اس لئے کہ یہاں آج حالات اچھے نہیں ۔روزگار کے مواقع نہیں ۔
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے کے مصداق پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کے لئے یہاں بھی بہت سے مواقع ہیں وہ خود کو اس قابل تو بنائیں۔
پاکستان میں کیا نہیں ہے۔دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمیپاور ہے۔دوسری بڑی اسلامی قوت ہے ،دنیا کی پانچویں بڑی فوج ہے جس نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔کوئلے کے وسیع زخائر ہیں ۔دنیا کے پانچویں نمبر پر سونے کے زخائر ہیں ،گوادر اور پورٹ قاسم جیسی بندرگاہیں ہیں ۔سب سے بڑا نہری نظام ہے،دنیا کا دوسرا سب سے بڑاڈیم ہے ،زراعت کے حوالے سے دیکھا جائے تو ساتویں نمبر پر سب سے زیادہ چاول پیدا کرنے والا ملک ہے ۔دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ۔ٹو ہے ۔گیس کے وسیع زخائر ہیں ۔بہادر لوگوں کا ملک ہے یہ ۔ایم ایم عالم جیسے ہیرو پیدا کئے ہیں اس نے ۔ وہ عرب ممالک جہاں پاکستانی روزگار کے لئے جاتے ہیں اور وہہاں ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے وہ اپنے تحفظ کے لئے پاکستان کے مرہون منت ہیں۔۔دنیا کی اول درجے کے انٹیلی جینس ادارے ہیں۔سب سے بڑھ کر جنرل راحیل شریف جیسا سپہ سالار ہے جو آنکھ بھر کر دیکھ لے تو دشمن کے پسینے چھوٹ جائیں۔ پھر بھی آپ کہتے ہو کہ کیا رکھا ہے اس ملک میں؟
کاش آپ ان پاکستانیوں سے ملو جو یمن میں محصور ہوکر رہ گئے تھے تو اس وقت انہیں اپنا ملک یاد آیا تھا جہاں میجر عزیز بھٹی جیسے جوان سرحدوں پر اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر کے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔آخر میں یہی کہوں گا کہ اچھا برا وقت ہر قوم پر آتا ہے لیکن بہادر قومیں ہی جوانمردی سے اس کا مقابلہ کرتی ہیں۔آج اگر بے روزگاری ہے تو کل حالات بدل بھی سکتے ہیں ۔آج اگر غربت ہے تو آنے والا دور خوشحال ہوگا ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بیرون ملک کی بجائے یہاں کام کریں تھوڑا کمائیں یا زیادہ لیکن اس سسٹم کا حصہ بنیں اور اسے تبدیل کریں۔
ایک نوجوان نے قائد اعظم سے پوچھا تھا کہ عہدوں میں تو آپ جیسے بڑی عمر کے لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ خود کو اس قابل بناؤ کہ بوڑھوں کی جگہ لے سکو ۔ بالکل قائد کے فرمان کی طرح خود کو اس قابل بناؤ کے کوئی بھی ادارہ چاہ کر بھی آپ کو رجیکٹ نہ کر سکے ۔مجھے یقین ہے کہ اس قوم کی تقدیر صرف نوجوان ہی بدل سکتے ہیں۔اس لئے انہیں آگے آنا ہوگا۔خود اپنے بل بوتے پر ۔
اگر پھر بھی کوئی جانا چاہتا ہے تو شوق سے جہاں چاہے جائے بس خدارا میری ایک التجا ہے کہ یہ کبھی نہ کہے کہ اس پاکستان میں رکھا کیا ہے۔
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شائد کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات