ا کنا مک کوریڈور میں گلگت بلتستان کہاں ہے

Posted on April 10, 2015



سلام آباد:پاک چائنا اکنامک کوریڈور کونسل کا ابتدائی اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔یہ اجلاس سینیٹر طلحہ محمود اور ان کے ساتھیوں نے بدھ کے روز اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں طلب کیا تھا ، اجلاس میں گلگت بلتستان سے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر وزیر بیگ، نگران وزیر بلدیات قلب علی، مسلم لیگ ن کے لیڈر میر غضنفر ، سابق وزراءمحمد اسماعیل، محمد علی اختر ، حاجی گلبر ، سابق رکن اسمبلی رحمت خالق اور سابق رکن کونسل عطاءاللہ شہاب ، چیمبر آف کامرس گلگت کے صدر جاوید حسین سمیت گلگت بلتستان کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد شریک تھے، اجلاس میں بلوچستان اور کے پی کے کے بعض تاجر بھی موجود تھے۔جس ہال میں اجلاس ہو رہا تھا اس کے سٹیج پر چار نشستیں رکھی گئی تھیں ، ایک نشست بلوچستان کے وزیراعلیٰ ، ایک نشست طلحہ محمود، ایک نشست احسن اقبال اور ایک نشست چینی سفیر کیلئے مخصوص کی گئی تھی ، تقریب شروع ہوتے ہی تحریک انصاف گلگت بلتستان کے ڈاکٹر زمان اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور شور مچانا شروع کر دیا پاک چائنا اکنامک کوریڈور کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر گلگت بلتستان ہے ہم سب کو یہاں بلایا گیا اور ہمارے کسی لیڈر کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی یہ چیزیں ہماری توہین ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، ڈاکٹر زمان کی جذباتی تقریر سے ہال میں کھلبلی مچ گئی اور گلگت بلتستان کے نمائندوں نے یک زبان ہو کر احتجاج شروع کر دیا ، احتجاج کرنے والوں میں قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور سابق وزراءبھی پیش پیش تھے اسی دوران طلحہ محمود نے پریشانی کے عالم میں مائیک اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خاتون سٹیج سیکرٹری کو سٹیج سے ہٹا دیا۔احتجاج کرنے والوں کو خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کرتے اور اعلان کیا گیا کہ سٹیج پر گلگت بلتستان کے بھی کسی نمائندے کو نشست دی جائے گی اسی دوران اجلاس کے منتظمین کے ایک نمائندے نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر وزیر بیگ سے بدتمیزی شروع کر دی جس پر گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے چیخنا شروع کر دیا اور کہا کہ خبردار ان کو کچھ نہ کہا جائے۔ یہ ہمارے سپیکر ہیں۔پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے کارکن سلطان گولڈن، چیمبر آف کامرس کے صدر جاوید حسین اور نگران وزیر قلب علی احتجاج کرنے والوں کا غصہ ٹھنڈا اور سمجھانے کی کوشش کرتے رہے اسی دوران میر غضنفر کو سٹیج پر بلایا گیا اور انہیں ایک نشست دی گئی کچھ لوگوں نے وزیر بیگ کو بھی سٹیج پر جانے کا مشورہ دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے سٹیج پر بیٹھنے کا شوق نہیں ہے لیکن میں ضرور بولوں گا جب تقریر کرنے کی باری آئی تو میر غضنفر نے چینی سفیر سے اپیل کی کہ گلگت بلتستان سے پھل فروٹ چین کو برآمد کرنے کی اجازت دی جائے اور گلگت اور کاشغر کے درمیان فضائی سروس شروع کی جائے۔ جب وزیر بیگ کو تقریر کیلئے سٹیج پر بلایا گیا تو انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں اجلاس کے منتظمین کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اجلاس میں شریک گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں گلگت بلتستان کے لوگوں کا اس لئے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کے مطالبے پر مجھے یہاں تقریر کرنے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے فوائد سے گلگت بلتستان کو محروم رکھا گیا اس کوریڈور سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا البتہ بڑی تعداد میں ٹرکوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہمارے علاقے میں دھواں کی وجہ سے آلودگی بڑھے گی۔ اجلاس کے آخر میں جب طلحہ محمود نے تقریر شروع کی تو ممتاز اینکر پرسن سلیم صافی کھڑے ہو گئے اور کہا کہ یہ کیسا کوریڈور ہے جس میں ان لوگوں سے پوچھا ہی نہیں جا رہا جو اس کے اصل سٹیک ہولڈر ہیں اگر یہاں بلوچستان کے وزیراعلیٰ موجود ہیں تو گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو بلانا چاہیے تھا۔سلیم صافی کے ریمارکس کے بعد ہال کے اندر پھر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی ، گلگت بلتستان کے ایک سیاسی و سماجی لیڈر امان اللہ جذباتی ہو گئے اور کہا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ مذاق بند کیا جائے اسی دوران سلطان آگے بڑھے اور امان اللہ کو خاموش کرنے کی کوشش کی تو امان اللہ نے انہیں برا بھلا کہا اور شور شرابہ بڑھ گیا اور طلحہ محمود اپنی تقریر ختم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اجلاس کے بعد کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے ایوان صنعت و تجارت کے صدر جاوید حسین نے کہا کہ ہمیں پتہ چل گیا کہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور کونسل فراڈ اور ڈرامہ ہے۔ ہمارے اس سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ بے وقوف نہیں ہیں کہ اس قسم کے ڈراموں کا حصہ بنیں گے سابق وزیر انجینئر اسماعیل نے کہا کہ ہمیں بلایا گیا تھا اس لئے ہم چلے گئے لیکن جب ہم اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو عجیب صورتحال تھی اجلاس میں بدمزگی ہوئی ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ کونسل بعض لوگوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے بنائی ہے۔ نگران صوبائی وزیر قلب علی نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور کونسل سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ابتدائی اجلاس ہے ، اس میں کونسل کے اغراض و مقاصد اور قانونی حیثیت کے بارے میں بتایا جائے گا اور تاثر دیا گیا تھا کہ یہ کوئی باقاعدہ ادارہ ہے تو پاک چین تجارت بڑھانے کیلئے کام کرے گا لیکن جب ہم اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو پتہ چلا یہ سب ڈھونگ ہے وہاں ہم نے انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی سپیکر قانون ساز اسمبلی ہمارے سینئر لیڈر ہیں انہیں جگہ ہی نہیں دی گئی ان سے ہم نے زبردستی تقریر کرائی اور انہوں نے بہت اچھی تقریر کی۔