یہی وقت ہے چوروں کو پکڑنے کا

Posted on April 8, 2015



یہی وقت ہے چوروں کو پکڑنے کا
شیراز خاکوانی

میں ۲۰۰۸ میں امریکہ میں جب پڑھ رہا تھا تو وہاں ایک اور پاکستانی صاحب تھے جو پوسٹ ڈوک (پی ایچ ڈی کے بعد ریسرچ جاب) کر رہے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صدر مشرف کے چل چلائو کا وقت تھا۔ جمہوریت کے سنہری دور کی آمد آمد تھی۔ تو میری ان صاحب سے اکثر جمہوریت اور آمریت کے بارے میں بحث ہوتی رہتی تھی۔ اس وقت ان کا خیال تھا کہ مشرف چونکہ ایک آمر ہے اس لئے وہ امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار نہیں کر سکا، اور اگر ایک جمہوری حکومت بیٹھی ہوتی تو اسے عوام کے دبائو کا سامنا ہوتا اور یہ سارا مسئلہ پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوتا اور پھر امریکہ کے منہ پہ چانٹے لگائے جاتے وغیرہ وغیرہ۔ اور مثال وہ ترکی کی دیتے کہ ان کی پارلیمنٹ نے امریکیوں کو انکار کر دیا ۔ دوسرا ان کو کافی یقین تھا کہ جوں ہی جمہوری حکومت آئے گی تو ڈرون حملے تو فوراً ہی رک جائیں گے۔ میں حیران ہوتا تھا کہ یہ کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ میں نے کہا بھی کہ بھائی ترکی سے القائدہ کے بندے تھوک کے حساب سے نہیں پکڑے جا رہے۔ اور جس دن ترکی سے القائدہ کے بندے پکڑے جانے لگے اس دن میں دیکھوں گا کہ ترکی کی پارلیمنٹ کہاں جاتی ہے۔ ڈرون حملوں کے بارے میں تو ان کی بات اتنی سچ ثابت ہوئی کہ جہاں مشرف کے دور میں چار حملے ہوئے وہاں جمہوریت کے دورِ اول میں تقریباً چار سو حملے ہوئے اور ہم لوگ پارلیمنٹ کی عوامی طاقت کا انتظار کرتے رہے۔ پھر جب دورِ شریفی آیا تو پھر تو سب کو یقین تھا کہ میاں صاحب کے سرخ و سفید چہرے کی تاب نہ لا کر سارے ڈرون خود ہی گر جائیں گے۔لیکن دو سالوں میں اب تک درجنوں حملے ہو چکے ہیں، میاں صاحب کی طاقت پتہ نہیں کہاں ہے۔ اور وہ یاد ہے جب عافیہ صدیقی جہاز کی ٹکٹ کٹا کر بیٹھی تھی کہ جوں ہی میاں صاحب آئے تو بس پھر امریکیوں کی کیا جرأت ہے کہ یہاں روک سکیں۔ قصہ مختصر میں نے ان صاحب کو ایک جملہ کہا تھا کہ جو کام برے ہو رہے ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ برے ہوں گے اور جو کام اچھے ہو رہے ہیں وہ بھی بند ہو جائیں گے۔ ڈرون کے بارے میں تو عرض کر چکا کہ چار کی جگہ چار سو ہو گئے۔ دوسرا میڈیا خصوصاً ٹی وی پر بے حیائی کا الزام مشرف پر لگایا جاتا ہے۔ تو جمہوری دور میں یقینا آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ اب تو حج عمرے کے سوا ٹی وی پر کچھ نظر نہیں آتا۔ اب دوسری طرف ایچ ای سی مشرف کا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا اور اس کے تحت ہزاروں طلبہ اور طالبات نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں بہترین تعلیم حاصل کی۔ پھر جب جمہوری دور آیا اور ارکانِ پارلیمنٹ کی ڈگریوں کا مسئلہ بنا تو پیپلز پارٹی نے ایچ ای سی کے فنڈز روک لئے اور بہت سے اسٹوڈنٹس کو بیرونِ ملک مسجدوں میں بھیک مانگ کر گزارا کرنا پڑا۔ ۲۰۰۸ کے بعد سے ایچ ای سی زوال کا شکار ہی رہی۔
اسی طرح معیشت کی جو حالت ۲۰۰۸ تک تھی وہ دوبارہ اب تک حاصل نہیں ہو سکی۔ہاں اگر آپ سمدھی صاحب سے یا احسن اقبال سے پوچھیں گے تو پھر یقینا لگے گا کہ پاکستان ہی دنیا کی نمبر ون اکانومی ہے۔ دراصل ہر نالائق حکمران کو ایسے ہی دو چار چرب زبان، سانپ کا تیل بیچنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی آنکھوں کے آگے پردہ ڈالی رکھیں۔ اب سمدھی صاحب ہر دوسرے روز سناتے ہیں کہ آج زرِمبادلہ کے ذخائر اتنے ہو گئے اور آج اتنے ہو گئے۔ کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ حضرت یہ تو بتائیے کہ ان میں سے ہمارے اپنے کتنے ہیں اور ادھار کے کتنے؟ یہ انتہائی اہم بات ہے کہ جتنا قرض ماضی کی سب حکومتوں نے لیا اسکے برابر نواز شریف کی حکومت نے اپنے دو سالوں میں لے لیایا اس کے معاہدے کر لئے۔ یہ جس زرِمبادلہ کے بارے میں روز سنتے ہیں وہ سب کا سب قرضہ ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے میں بنک سے ایک کروڑ قرضہ لوں اورپھر خود کو کروڑپتی سمجھنے لگوں۔ اب نہ تو اس قرضے کے بارے میں عوام سے پوچھا جاتا ہے نہ پارلیمنٹ سے۔ یہ قرضہ لیں گے سمدھی صاحب اور پھر پشتوں تک قوم یہ قرضہ اتارتی رہے گی۔ اپنے ایک انٹرویو میں مشرف صاحب نے بہت اہم بات کی۔ وہ یہ کہ ۲۰۰۸ کے بعد سے تقریباً ۵۰ ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے اور ملک میں کوئی ایک ایسی چیز نظر نہیں نظر آتی جس پر یہ پیسہ لگا ہو۔ نہ کوئی ڈیم بنا، نہ کوئی بڑی سڑک، نہ کوئی بڑا دفاعی سامان۔ ہاں تقریباً سب سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی بیرونِ ملک جائیدادیں بن گئیں۔ پچھلے سات سالوں میں جو لوٹ مار ہوئی ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ہر کچھ دنوں بعد نواز شریف یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ تو حضور اسکی وجہ آپکی نیکی نہیں بلکہ یہ ہے کہ میڈیا کے سب سے بڑے حصے (جنگ اور جیو گروپ) کو آپ نے اشتہاروں کے ذریعے خرید رکھا ہے۔ دوسرا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی میں انہیں آپکی ضرورت بھی ہے۔ اس لئے انصار عباسی جیسے لوگ جن کا قلم کرپشن کے بارے میں لکھتے لکھتے تھکتا نہیں تھا، آج کل ریسٹ کر رہا ہے۔ دوسرا عدلیہ جسے پیپلزپارٹی کے مچھر بھی نظر آجاتے تھے اسے اب ن لیگ کے اونٹ نظر نہیں آتے۔ دو چار اسکینڈل تو بیٹھے بٹھائے میں ہی بتا دیتا ہوں، نندی پور جوبارہ ارب سے شروع ہوا پھر بائیس ارب کا ہوا پھر اٹھاون ارب کا اور اب تو سنا ہے سو ارب سے اوپر جا چکا ہے۔ حالانکہ اگر ڈالر کے ریٹ کو بھی ایڈجسٹ کر لیا جائے تب بھی اتنا نہیں بنتا۔ اور مزے کی بات یہ کہ اتنا خرچہ کرنے کے بعد بھی نندی پور پراجیکٹ بند پڑا ہے۔ یہ پراجیکٹ ہمارے پیارے وزیر نہ پانی نہ بجلی کے دل کے بہت قریب تھا۔ اس کے لئے وہ سپریم کورٹ بھی گئے تھے۔ وہاں فرماتے تھے کہ اگر نیت صاف ہو تو چھ مہینے میں بجلی کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ قدرت کو انکی یہ بات اتنی پسند آئی کہ انہیں ہی وزارت پانی اور بجلی عطا کر دی۔دو سال ہو گئے اب کسی کو جا کے ان کی نیت چیک کرنی چاہئیے کہ آیاصاف ہے یا نہیں۔ ویسے برسبیلِ تذکرہ، میں نے ان سے زیادہ ڈھیٹ شخص کم ہی دیکھا ہیْ وزارتِ پانی و بجلی تو چل نہیں رہی تھی اوپر سے وزارتِ دفاع بھی قبول کر لی۔ ان کے ماضی کے خیالات کی وجہ سے فوج نے انہیں پہلے دن ہی سے انہیں گلی کے ایک خاص جانور کی طرح ٹریٹ کیا، کاکول میں ان کی تصویر نہیں آنے دی گئی، کسی فوجی تقریب میں انہیں کوئی ملنا پسند نہیں کرتا، کسی کنٹونمنٹ میں یہ جا نہیں سکتے، فوجی قیادت نے جو بات کرنی ہوتی ہے وہ ڈائریکٹ وزیرِاعظم سے کرتے ہیں۔ پھر بھی آفرین ہے بے شرمی پر کہ استعفیٰ دینے کا نہیں سوچتے۔ خواجہ تو پہلے ہی تھے اپنی پارلیمنٹ کی پرفارمنس کے بعد سرا بھی ہو گئے۔
خیر، میٹرو بس پراجیکٹس کرپشن کی ایک اور مثال ہیں۔ دنیا میں اس سے مہنگی بس سروس ڈھونڈے سے نہیں ملے گی۔ نہ صرف یہ کہ بناتے وقت یہ بس سروس انتہائی مہنگی تھی بلکہ اس کے بعد بھی اب تک اسے کئی ارب کی سبسڈی مل چکی ہے۔ اور بغیر سبسڈی کے یہ بس سروس چل ہی نہیں سکتی۔ یہی حال راولپنڈی والی میٹرو کا ہو گا، اور یہی حا ل ملتان اور فیصل آباد والی میٹرو بسوں کا۔ ہر سال کئی کئی ارب کی سبسڈی دی گئی تو یہ بسیں چلیں گی ورنہ بند ہو جائیں گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ جب لاہور میٹرو بس پراجیکٹ کے آڈٹ کی باری آئی تو ایل ڈی اے پلازہ میں آگ لگ گئی اور بانس اور بانسری سب جل گئے۔راولپنڈی میٹرو بھی آپ نے ایک منشیات فروش کے ہاتھ میں دے دی تاکہ عمران خان سے ہارنے پر انکی اشک شوئی کر سکیں۔آج کل وہ ایفیڈرین کی شیشیاں پیتے ہیں اور پانچ پانچ ہزار کے نوٹوں سے اپنے آنسو پونچھتے ہیں۔ اب تازہ ترین اسکینڈل ایل این جی کا ہے۔ جو اگرچہ کہ اگلے مہینے آنے والی ہے لیکن اس کی قیمت قومی راز ہے۔ اور جس قیمت پر قطر سے ایل این جی لینے کی بات ہو رہی ہے اسکے بعد تو ملک کی معیشت کا اللہ ہی حافظ۔
اب آخری بات، عمران خان کے لئے بھی اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی۔ وہ یہ کہ اگر آپ نے ملک کی اکانومی انہی چوروں کے ہاتھ میں دیے رکھی تو ملک اس نہج پر پہنچ جائے گاکہ پھر چاہے حکومت میں عمران خان آجائے یا کامران خان، کوئی بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔ قرضہ دینے والوں کو اس سے غرض نہیں کہ قرضہ نوازشریف نے لیا یا زرداری نے۔ ان کو یہ پتا ہے کہ یہ قرضہ دینا حکومتِ پاکستان نے ہے۔ عمران خان کو چاہئیے کہ جس معاہدے میں انہیں کرپشن نظر آئے اس پر شدومد سے آواز اٹھائیں اور ہر فورم پر اسے چیلنج کریں۔ جوڈیشل کمیشن اہم ہو گا لیکن ملکی معیشت اس سے زیادہ اہم ہے۔ نوازشریف نے آپ کو جوڈیشل کمیشن کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے اور خود ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ بھی چوروں کے گریبان تک ہاتھ لے کر جاتی ہے پھر پیچھے ہٹا لیتی ہے جس سے قوم میں شدید بد دلی پھیلتی ہے۔ طالبان اور ایم کیو ایم کے دہشت گردوں اور قاتلوں کو پکڑنا انتہائی قابلِ تحسین اقدام ہے لیکن اتنا ہی اہم زرداری، نوازشریف جیسے معاشی دہشتگردوں کو پکڑنابھی ہے۔میرا چھوٹا سا مشورہ یہ ہے کہ چپکے سے اداروں کو ایکٹیویٹ کیجئے۔ مثلاً ایف آئی اے اور نیب کو ذرا ڈنڈا دیجئے اور انہیں بتائیے کہ سیاستدان آج ہیں کل نہیں ہوں گے لیکن اسٹیبلشمنٹ کی طاقت زیادہ پائیدار ہے۔ اس سلسلے میں کوئی زیادتی نہ کریں مبادہ کسی کو باتیں بنانے کا موقع ملے۔ بلکہ خالص میرٹ پر تحقیق کریں اور چوروں سے مال بھی واپس لیں اور انہیں لٹکائیں بھی سہی۔خود کو پس منظر میں رکھیں اور سول اداروں کو آگے رکھ کے ان کے ذریعے چوروں کو پکڑیں۔ جنرل راحیل شریف کی دیانتداری اور غیر جانبداری کے سب قائل ہیں۔ اگر انہوں نے اپنی مدت ضائع کر دی اور چوروں کو نہ پکڑا تو پتہ نہیں اگلا آرمی چیف کس طرح کا ہو اور پتا نہیں وہ یہ کام کرے یا نہ کرے۔ کیانی صاحب کے دور سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ہر آرمی چیف برابر نہیں۔