یمن اور سعودی عرب

Posted on March 27, 2015



سعودی عرب اور یمن
یمن کے دارالحکومت سے یمنی صدر کےبھاگ کر عدن پہنچنے کے بعد سعودی عرب نے یمن پر فضائی حملہ کر دیا ہے اور سعودی عرب نے دس ملکی اتحاد کا بیے دعوی کیا ہے کہ جس میں کویت،قطر، بحرین، اردن،امارات، سوڈان،مصر اور پاکستان بھی شامل ہیں۔
اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے سے پہلے یمن کی جغرافیایی حدود اور زمینی حدود کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یمن کی دوکروڑ بیس لاکھ آبادی کا 42 فیصد حصہ شیعہ افراد پر مشتمل ہے، اس میں سے 30 فیصد شیعہ زیدی، 12 فیصد اسماعیلی اور دوازدہ امامی ہیں۔ اس کی 58 فیصد آبادی سنی آبادی شافعی مسلک سے تعلق رکھتی ہے، شیعہ آبادی میں سے 50 لاکھ افراد سادات ہیں،شیعہ اکثریتی آبادی یمن کے شمال میں موجود ہے۔ یمن 1780 میں خلافت عثمانیہ کا حصہ بنا، پہلی جنگ عظیم کے بعد یمن برطانیہ کے زیر تسلط چلا گیا ، 1922 میں یہ ایک مستقل ملک کی صورت میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا، 1922 سے 1962 تک یمن میں زیدی مذہب کی حکومت تھی”امام یمن”حکومت کا کنٹرول سنبھالتا تھا، 1962 میں مصر نے یمن پر فوجی حملہ کر کے یمن سے زیدی حکومت ختم کر کے یمن میں جمہوری کا نام دیا، 1990 میں علی عبداللہ نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کر کے ملک کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا، علی عبداللہ 2013 میں حکومت عبداللہ منصور ھادی کو سونپ کر خود ملک سے فرار ہو گیا اور اب عبداللہ منصور ہادی کی بھی ملک سے فرار ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، یمن میں شیعوں اور حکومت کے درمیان جنگ اصل میں یمنی شیعوں کی 1962 تک قائم حکومت کو دوبارہ سے بحال کرنے کی کوشش سے شروع ہوئی عراق امریکا جنگ میں جب بعثی پارٹی کے لوگ بغداد سے فرار کر کے صنعا میں پناہ گزین ہوئے اس قت اس جنگ کو حتمی شکل ملی۔
حوثی قبائل کا موقف یہ تھا کہ حکومت نے سعودی عرب اور امریکہ کے کہنے پر جو ناروا سلوک ان کے ساتھ اپنا رکھا ہے اسے بہتر بنائے اور ان کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنایا جائے۔ اس عمل کو جائمہ شکل پہنانے کے لیے حسین بدرالدین الحوئی نےصعدہ سے قیام کا اعلان کیا، اُس کا نعرہ یہ تھاکہ امریکا اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائےاور امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، کا نعرہ لگایا، یہ جنگ 2004 میں سیدحسین حوثی اور ایک ہزار دیگر افراد کی شھادت کے بعد ختم ہو گئی، 2005 اور 2006 میں سید حسین حوثی شہید کے بھائی عبدالملک حوثی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی اور 2008 میں حکومت سے باضابطہ جنگ کا اعلان کر دیا لیکن یہ بہت جلد قطر کی مداخلت اور توافق نامے کے بعد صلح پر اختتام پذیر ہوئی، لیکن اس صلح نامے پر دونوں فریقین نے عمل نہیں کیا۔
اگست 2009 میں ریاض اور صنعا کے توافق کے بعد دوبارہ حوثی قبائل پر مسلح حملہ کیا گیا لیکن اس کے بعد بھی فوج اپنے آپ کو فاتح میدان کہلانے میں ناکام رہی، اگر تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیں تو سعودی عرب نے یمن پر حملہ کر دیا ہے اور پاکستانی فوج نے بھی اس کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حقائق پر غیر جانبدرانہ رویہ اپنایا جائے ،کیا مغربی ممالک اس قسم کی خانہ جنگی سے دور کیوں ہیں، صرف مسلمان ممالک آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں، مسلم ممالک کی آپس میں اس جنگ سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے، اگر آج مسلم ممالک متحد ہو جائیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان کس کو ہو گا اور مسلم ممالک کی آپس میں درگیری سے فائدہ کس کو ہے، کیا مسلمانوں آپس میں ان مسائل کی وجہ سے کبھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں، کیا مسلم ممالک اور بلخصوص پاکستان اندرونی مشکلات کو سلجھانے کی بجائےدوسرے ممالک کے معاملات میں دخل اندازی کا متحمل ہے ؟ فیصلہ آپ خود کریں۔۔۔
سید رضوان حیدر شیرازی
[email protected]