کسے حال دل سناؤں

Posted on March 27, 2015



بسم اللہ الرحمن الرحیم
کسے حال دل سناؤں؟
اسی (۸۰) کی دہائی تھی ایران و عراق دست و گریباں تھے دونوں طرف سے توپیں گرج رہی تھیں ، جنگی طیارے ایک دوسرے کے شہروں کو ویران کر رہے تھے ،ہر طرف سے لا شے گر رہے تھے، دونوں طرف مساجد میں جنگ کی کامیابی کیلئے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ ہر ایک خدا کی مدد کا طلب گار تھا، دونوں مظلومیت کے دعویدار تھے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ آپ اس جنگ میں کس کے ساتھ ہیں اور کس ملک کی فتح چاہتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیا ہم دونوں کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔
اسی طرح جب شام(سوریہ) میں جاری موجودہ خانہ جنگی کے بارے پوچھا گیا تو بھی اس کا یہی جواب تھا۔ یعنی جب بھی دو مسلمان گروہ یا دو مسلمان ملک آپس میں لڑتے ہیں جنگ کرتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ یہودی نا جائز ریاست کو ہی ہوتا ہے۔ اب ان کی بلا سے کوئی بھی گروہ کامیاب ہو یا ناکام، جو بھی مرے گا ،مرے گا تو مسلمان ہی ناں۔۔۔
اپنے گذشتہ آرٹیکلز میں اسی طرف اشارہ کر چکا ہوں کہ اس یہودی ریاست کے استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان کی مسلح شیعہ تنظیم حزب اللہ تھی، دو سال قبل جب یہ تنظیم اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح باغیوں کے ساتھ شام میں بر سر پیکار ہوئی تو اسرائیل کے نزدیک یہی بہت بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس سے پہلے حزب اللہ ، شیعہ و سنی کی تفریق کے بغیر مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی اور اب اس تنظیم کو ان باغیوں کے ساتھ الجھا کراس یہودی ریاست نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کر لی۔ اب مسلمان اسرائیل پر حملوں کی بجائے آپس میں بر سر پیکار ہیں اور اسرائیل کو سکھ کا سانس نصیب ہوا ۔ اسرائیل کو یہ اطمینان میسر ہوا کہ اب وہ بغیر کسی مزاحمت کے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کے ذریعے اپنی ناجائز و غیر قانونی ریاست کی سرحدوں کو وسعت دے پائے گا یہ اور بات ہے کہ وہ اس عمل میں اپنی امیدوں کی مقدار میں کامیابی حاصل نہ کر پایا بہر حال وہ مسلمانوں کو جو کہ پہلے سے ہی گروہ بندی اور فرقہ واریت کا شکار ہیں، مزید گروپوں میں تقسیم کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہو گیا۔
سعودی عرب کہ جس کو مسلمانوں کی نمائندہ ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،بد قسمتی سے اس ریاست پر مسلمانی لبادے اوڑھے ہوئے استعماری ایجنٹوں کا قبضہ ہے اور سادہ لوح مسلمان ان سعودی بادشاہوں کی عیاری سے نا واقف ہیں اور ان کے مکروہ عزائم کو یہ سوچ کر کہ شاہ کونین کی سر زمین سے فرمان جاری ہوا ہے، قبول کر لیتے ہیں۔ ان بادشاہوں کی بد نیتی کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں پر پابندی لگا دی ہے کہ وہ سرور دو جہاں ﷺ کے مقدس روضے کی پاک جالی کو بوسہ تک نہیں دے سکتے ، آپ ﷺ سے منسوب ہر ایک یادگار کو نابود کر دیا گیا ہے اور ہر جائز شرعی عمل بلکہ عبادت پر شرک و بدعت کا فتوا لگا دیتے ہیں۔
مصر اور لیبیا میں عوامی انقلاب کو یرغمال بنانے اور ان دونوں ملکوں میں خانہ جنگی برپا کروانے کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کو صرف یمن سے خطرہ باقی تھا کیونکہ یمن میں ایک کروڑ کے قریب شیعہ آبادی ہے جو کہ سوا دو کروڑ آبادی والے ملک کا تقریباً ۴۵ فیصد بنتی ہے۔ اس ملک پر حکومت کی گرفت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے اور حوثی قبائل جو کہ زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، صنعا پر قابض ہونے کے بعد عدن تک پہنچ چکے ہیں۔ اب اگر یمن کی حکومت شکست کھاتی ہے اور باغی قبائل قابض ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں سعودی عرب کیلئے یمن کی حکومت کی شکل میں مسائل کے پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے کیونکہ یمن ، سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے اور دوسری طرف عراق میں بھی داعش کی پسپائی جاری ہے اور اس طرح سعودی عرب کو ہر طرف سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یمن کی بغاوت کو کچلنے کیلئے سعودی عرب نے امارات، کویت، قطر اور بحرین سے مل کر یمن پر فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں ۔ سعودی عرب نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اسے امریکہ سمیت ان پانچ ملکوں کے علاوہ پاکستان کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان اس خطے میں ایک بہترین فوجی قوت کے علاوہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا حامل واحد اسلامی ملک ہے اس لئے اس ساری صورت حال کو بگاڑنے یا سنوارنے میں پاکستان کے فیصلے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور ساتھ ہی سعودی عرب نے بیان دیا ہے کہ یمن میں ایرانی مداخلت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس بیان کے بعد کہ سعودی عرب کی سالمیت کو خطرے کی صورت میں پاکستان اس کا دفاع کرے گا ، کیا پاکستان اس اتحاد کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ ایران ، عراق، شام اور لبنان اس ساری صورت حال میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
امریکی اور یہودی خبر ساز اداروں کی سنی بلاک اور شیعہ بلاک بنانے اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوششیں کافی حد تک کامیاب ثابت ہو ئی ہیں۔ اس ساری صورت حال کا ایک فائدہ اسرائیل کو یہ بھی ہوا ہے کہ شیعہ اکثریتی آبادی والے ممالک جو کہ ہمیشہ سے اسرائیل کے مخلاف رہے ہیں اب امریکہ نواز سعودی اتحاد ان سے براہ راست الجھے گا تو اسرائیل کو کچھ عرصے کیلئے سکھ کا سانس لینا نصیب ہو گا اور وہ چین کے ساتھ مظلوم فلسطینیوں کا جینا حرام کرتے ہوئے اپنی سرحدوں میں وسعت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر پائے گا کیونکہ سعودی اتحاد سے تو اسے کبھی بھی خطرہ نہیں رہا اب باقی ممالک بھی اپنے مسائل میں الجھ کر نا جائز یہودی ریاست کو بھول جائیں گے اور اسرائیل کیلئے یہی موقع غنیمت ہو گا۔
اے اللہ مسلمانوں کو اتحاد کی قوت سے مالا مال فرما ۔ آمین!
ساجد حسین ساجد
[email protected]