کچھ باتیں عمران خان اور ایم کیو ایم کے بارے میں

Posted on March 26, 2015



کچھ باتیں عمران خان اور ایم کیو ایم کے بارے میں
شیراز خاکوانی

عمران خان صاحب خدا کیلئے خدا کیلئے خدا کیلئے ہر بندے اور ہر بات پر اعتبار کرنا چھوڑ دیں۔ اس سے بجائے کہ یہ بات ظاہرہو کہ آپ دل کے بہت اچھے ہیں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ حکومت چلا سکیں۔ لوگ اپنے لیڈر کو صاحبِ فہم اور ذھین دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ کے کچھ بیانات ان تصورات کی نفی کر دیتے ہیں۔مثلاً چوہدری افتخار جیسے نیچ ذہنییت کے شخص کو پہلے آپ نے آسمان پر بٹھایا پھر اسے زمین پر لا پھینکا، پھر فخرو بھائی سے امید باندھی اور پھر توڑ دی۔ اب بھی جو کسی عہدے پر بیٹھتا ہے آپ فوراً اسکی تعریف کرتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد اسکی زجر شروع کردیتے ہیں۔کیا اس سے بہتر نہیں کہ آپ کہیں کہ اگراس بندے نے کوئی اچھا کام کیا تو تعریف کریںگے ورنہ تنقید۔ اس سے پہلے تو آپ نے اسی دن غلطی کر دی جس دن آپ نے چیف آف آرمی سٹاف کی بات ماننے سے انکارکر دیاکہ استعفیٰ کے سوا ہر شرط قابل قبول ہے۔ یہ یاد رکھیئے کہ پاکستان میں سب سے کمزور قوت عوامی قوت ہے اور ہمارے حکمران عوام کے اخلاقی دبائو کو زیادہ گھاس نہیں ڈالتے۔ اب یا تو آپ فیصلہ کرتے کہ ایوان وزیراعظم اور ایوان صدر اور سپریم کورٹ وغیرہ پرعوام کو لے کر چڑھ دوڑنا ہے اور پھر جو ہو سو ہو۔ یہ بھی آپ کرنا نہیں چاہتے تھے اور صرف نواز شریف پر بھروسہ کر کے بیٹھ گئے کہ شائد وہ خود ہی شرم کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں گے حالانکہ کہ یہ چیز تو انکے پاس ہے ہی نہیں۔ تو ایک ہی راستہ تھا کہ فوج انہیں باہر کا راستہ دکھاتی۔ لیکن یہ بات آسان نہیں تھی کیونکہ آخر ن لیگ کے کم یا زیادہ کچھ ووٹر تو ہیں جو احتجاج کرتے، دوسرا ساری سیاسی پارٹیاں جو جمہوریت کے سنہرے دور میں دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹتی رہیں وہ نوازشریف کے ساتھ آ کے ٹہر گئیں ورنہ ان کااپنا کچھا چٹھا کھل
جاتا، اور تیسرا سپریم کورٹ کو بھی نیا نیا جمہوریت کا شوق ہوا تھا تو ان کا بھی مسئلہ تھا۔ اس لئے فوج کے لئے آسان نہ تھا کہ صرف آپکی فرمائش پر حکومت کو چلتا کر دیتے۔ دوسرا اسٹیبلشمنٹ ایک کمزور وزیراعظم کو پسند کرتی ہے۔ ان کا دماغ تو خراب نہیں کہ اپنی داڑھی وہ نوازشریف کے ہاتھ سے چھڑوا کے آپ کے ہاتھ میں دے دیتے۔ اس لئے اس وقت جو کچھ مل رہا تھا وہ لے لیتے تو آپکا سیاسی قد کہیں سے کہیں پہنچ جاتا۔ دوسرا سول نافرمانی کی بات کر کے بھی آپ نے شدید غلطی کی۔ ذرا سوچئے کہ کل کو اگر آپ وزیراعظم بن جائیں اور نوازشریف یازرداری اعلان کر دیں کہ ہم آپکی حکومت کو جائز نہیں سمجھتے اور ہم آپکو ٹیکس نہیں دیں گے تو پھر آپکے پاس کیا جواب ہو گا؟ وہ بھی وہی دلائل دیں گے جو آپ دیتے رہے۔ خیر بات ہو رہی تھی جوڈیشل کمیشن کی۔ آپکو شائد ابھی تک سمجھ نہیں آرہی کہ سپریم کورٹ بڑے نرم انداز میں آپکو بتا چکی ہے کہ وہ اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہتی۔ ویسے بھی تاریخی طور پر جب بھی نوازشریف کو کہیں سے گرم ہوا لگنے لگے تو ساری عدالتیں اور سارے آئین اور سارے قوانین صف باندھے ان کی مدد کو حاضر ہو جاتے ہیں۔ پچیس مارچ کے دن کی خبر ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس ہیں کہ دھاندلی کے شواہد کے بغیرووٹوں کی نادراسے تصدیق نہیں کرائی جا سکتی۔ اب بتائیے کہ ان باتوں کے بعد کمیشن بن بھی گیا تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ اب کچھ پیشن گوئیاں، پہلے تو ایک فیصد بھی مجھے یقین نہیں کہ سپریم کورٹ یہ کمیشن بنائے گی۔ اگر بن گیا تو اس کے ممبر ہوں گے جسٹس جواد، جسٹس ثاقب اور ایک آدھ اور۔ اور فیصلہ یہ ہو گا کہ تاریخ کائنات میں اس سے اچھے انتخابات نہیں ہوئے اور کیوں نہ تادم مرگ نوازشریف کو وزیراعظم بنا دیا جائے اتنے پیارے تو ہیں وہ اور بال لگوانے کے بعد تو کیا ہی بات ہے۔ ھور چوپو۔

اب کچھ باتیں ایم کیو ایم کے بارے میں۔ میں نے اتنی ڈھٹائی زندگی میں کم ہی دیکھی ہے کہ گھر سے سزا یافتہ قاتل پکڑے جائیں، ممنوعہ اسلحہ پکڑا جائے، اور یہ سب کچھ کیمرے پر ریکارڈڈبھی ہو اورپھر بھی بے شرمی سے اس پر تاویلیں پیش کی جائیں۔ نائین زیرو کے اندر کئی کیمرے لگے ہیں تو اگر رینجرز کمبلوں میں اسلحہ لے کے آئے تھے تو کیوں نہیں آپ اس کی وڈیو جاری کر دیتے؟ اور اگر رینجرز نے عورتوں پہ تشدد کیا تو وہ بھی کہیں نہ کہیں کسی وڈیو پر ہو گا۔ اور چلیں اسلحہ تو کمبلوں میں آ گیا ہو گا، فیصل موٹا اور باقی درجنوں قاتل اور بھتہ خور بھی کمبلوں میں لپیٹ کر لائے گئے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پولیس یا رینجرز ان کے گڑھ نائین زیروپر بھی چھاپہ مار سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں تو سارے پاکستان اور شائد ساری دنیا میں سب سے محفوظ جگہ نائین زیرو ہی ہے۔ اس لیے انہوں نے سارے گندے انڈے ایک ہی ٹوکری میں جمع کر لئے۔ اور ان گندے انڈوں کے ساتھ وہی ہوا جو اس صورتحال میں ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم چونکہ جرمنی کی نازی پارٹی کے نقش قدم پر بنی ہے اس لئے انہیں پتہ ہے کہ پراپیگنڈہ کی کتنی اہمیت ہے۔ اس لئے وہ دن میں کئی کئی بار ایسی باتوں کی بھی تردید کرتے نظر آتے ہیں جس کی فلم سب نے دیکھ لی ہوتی ہے۔ ایک تصویر کو تو فوٹو شاپ وغیرہ سے بدل کے کچھ کا کچھ دکھایا جا سکتا ہے لیکن وڈیو کو بدل کے دکھانا ہالی ووڈ کیلئے بھی ممکن نہیں۔ اور قاتلوں نے جو اعترافی بیان دیئے ہیں وہ بھی صاف دیکھے جا سکتے ہیں کہ کسی دبائو کا نتیجہ نہیں ہیں۔ جس روانی سے وہ سارے واقعات بیان کرتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بغیر دبائو کے بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ زیرو ہو چکی ہے، بھتہ خوری اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ اس موقع پر تاجر برادری کو بھی چاہیئے کہ وہ فوج کا ساتھ دیں تاکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی لعنت سے ہمیشہ کیلئے جان چھٹ جائے۔ رینجرز اور فوج کو بھی چاہیے کہ بجائے چوری چھپے میڈیا کو اعترافی بیانات کی وڈیوز دینے کے ان وڈیوز کو اوون (own) کریں۔ جب بھی ایم کیو ایم والے کوئی الزام لگائیں یا کوئی جھوٹ بولیں تو فوراً پریس کانفرنس کریں اور صحافیوں کے سامنے ساری وڈیوز اور سارے حقائق رکھیں۔ اس وقت ایم کیو ایم یہ شور مچاتی ہے کہ سارا آپریشن ہمارے خلاف ہو رہا ہے حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک سارا آپریشن لیاری کی امن کمیٹی کے خلاف ہو رہا تھا۔ لیکن چونکہ وہ ایم کیو ایم جتنی بڑی مافیا نہیں اور نہ ہی زیادہ پڑھے لکھے ہیں اس لئے جو کچھ ان کے ساتھ ہوا یاہو رہا ہے وہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔اسی طرح طالبان کے خلاف بھی بیشمار آپریشن ہوئے جن میں ان کو زندہ پکڑنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی بلکہ زیادہ تر کوتو وہیں جہنم واصل کر دیا گیا۔ اسی طرح امید ہے کہ پیپلزپارٹی کی باری بھی آنے والی ہے۔ ایک اور بات جو ایم کیوایم نے عادت بنا لی ہے وہ ہے ملک توڑنے کی دھمکی دینا۔ اس کے لئے وہ مثال دیتے ہیں مشرقی پاکستان کی۔ تو جناب اسکی کئی دوسری وجوہات تھیں۔ ایک تو ان کی زبان اور رہن سہن ہم سے فرق تھا دوسرا وہ یہاں سے ایک ہزار میل دور تھے اس لئے دفاعی سامان پہنچانا بھی محال تھا۔ تو وہ لوگ جو ملک توڑنے کا شوق پورا کرنا چاہتے ہیں میں انہیں کہوں گاکہ کوشش کر دیکھئے پھر دیکھئے کہ تشریف پر کتنے چھتر پڑتے ہیں۔ ایم کیو ایم نے سارے اردو بولنے والوں اور سارے مہاجروں کا خود سے ہی ٹھیکہ اٹھا لیا ہے۔ اور جب بھی ان کی بھتہ خوری پر کوئی آنچ آتی ہے تو فوراً اسے اردو پنجابی یا اردو سندھی کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ بیوقوفو یہ تو سوچو کہ اگر پاکستانیوں کو اردو یا اردو بولنے والوں سے نفرت ہوتی تو کیا پاکستان کی قومی زبان اردو رہنے دی گئی ہوتی؟ میں کچھ مختصرسا عرصہ کراچی میں رہا ہوں اور میں نے اردو بولنے والوں کو ایک بہترین قوم پایا ہے جو سخت محنتی، خوش اخلاق اور بزنس مائنڈڈ لوگ ہیں۔ اردو بولنے والے جوچندلوگ مجھے ملے میں نے بڑی احتیاط سے ان سے ایم کیو ایم کے بارے میں بات کی۔ ان میں سے مجھے کوئی ایسا نہیں ملا جس نے کھل کر ایم کیو ایم کی حمایت کی ہواور ان کی حرکات کو سپورٹ کیا ہو۔ ایک ڈر سا میں نے محسوس کیاان میں کہ کہیں کوئی غلط بات ان کے منہ سے نہ نکل جائے جو مصیبت کا باعث بنے۔ ایک بات یاد رکھیئے کہ ایم کیو ایم ایک مافیا ہے اور ہر مافیا سب سے زیادہ اپنی ہی کمیونٹی کے لوگوں کو قتل کرتی ہے اور بھتہ بھی اپنی ہی کمیونٹی سے وصول کرتی ہے۔ جب بھی ایک مافیا بننے لگتی ہے تو اگر اسی وقت اسکا قلع قمع نہ کیا جائے تو پھر برسوں لگتے ہیں اسے ختم کرنے میں۔

شائد کچھ لوگوں کے لئے یہ بات حیرت کا باعث ہو کہ امریکہ کے بڑے بڑے شہروں جیسے نیویورک، نیو جرزی اور شکاگو میں بھی بڑی مضبوط مافیاز ہیں۔ نیو یورک میں اوسطاً ایک سے دو اور شکاگو میں اوسطاً تین سے چار لوگ روزانہ ان مافیاز کی وجہ سے یا ان کے آپس کے جھگڑوں میں مارے جاتے تھے اور غالباً صورتحال اب بھی کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ اور امریکہ کی جو ریاستیں میکسیکو کے ساتھ ہیں وہا ں توحالات حددرجہ خراب ہیں۔ اگر آپکو یہ سمجھنا ہو کہ مافیاکس طرح کام کرتی ہے، کیوں اور کن لوگوں کو قتل کرتی ہے ، کیسے بھتہ وصول کرتی ہے ، اور بھتہ کے پیسوں کو کیسے وہائٹ منی میں بدلتی ہے، پولیس کن مشکلوں سے پھر انہیں ختم کرتی ہے ، تو اس کیلئے ایک امریکی ٹیلیوژن سیریز سوپرانوز دیکھئے۔ اس سے آپ کو ایم کیو ایم کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ فلم گاڈ فادر بھی مافیا ہی کی بارے میں ہے
لیکن میرے خیال میں اس میں تفصیلات اس درجہ کی نہیں ہیں۔

ایک اور بات جو میری سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ مطالبہ ہے کہ الطاف حسین ملک میں واپس آئیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ خود بھی مرے جارہے ہیں ملک میں آنے کے لئے۔ اس لئے نہیں کہ یکدم ملک بہت اچھا ہو گیا ہے بلکہ انہیں پتا ہے کہ ایک دفعہ وہ اگر ملک میں آگئے تو انہیں جانثاروں کی ایک ایسی فوج مل جائے گی کہ پھر چاہے پولیس ہو، رینجر ہو یافوج ، کسی کے لئے بھی انہیں ہاتھ لگانا ممکن نہیں رہے گا۔ اور بالفرض اگر وہ عدالتیں چڑھ بھی گئے تو ان کے خلاف گواہی کون دے گا؟ اور اگر عدالتوں نے ان کے خلاف کوئی فیصلہ دے بھی دیا تو کیا پہلے کسی نے اس ملک کی عدالتوں کے کسی فیصلے کو قبول کیا ہے؟ ن لیگ کے جن رہنمائوں میں عقل کا کچھ ذرہ باقی ہے ان میں چوہدری نثار بھی ہیں۔ انہوں نے یہ بات پہلے ہی سمجھ لی تھی کہ اگر جن برطانیہ سے پاکستان آگیا تو سمبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے انہوں نے بہانے بہانے سے انہیں پاکستانی پاسپورٹ دینے سے احتراز برتا۔ اور الطاف حسین اب بیٹھے اس دن کو روتے ہوںگے جس دن انہوں نے عمران فاروق کو قتل کرنے کا سوچا۔ برطانوی حکومت کو اچھی طرح پتہ ہے کہ الطاف حسین کا کراچی میں کیا کردار ہے۔ لیکن چونکہ وہ الطاف حسین کے ذریعے کراچی اور پاکستان کو کنٹرول کر رہے تھے اس لئے انہوں نے اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ لیکن جب ان کی اپنی سرزمین پر ایک جرم کیا تو انہیں برداشت نہیں ہوا۔ اس لئے الطاف حسین کو اپنے گناہوں کی سزا اسی ملک میں پوری کرنے دیجئے جسے پچیس سال پہلے انہوں نے پاکستان کو ٹھکراکر اپنایا۔

جاتے جاتے ایک چھوٹی سی بات، کہ عمران خان کی پی ٹی آ ئی اور باقی جماعتوں میں کیا فرق ہے؟ وہ یہ ہے کہ پی ٹی آ ئی میں برائی ڈھونڈنی پڑتی ہے جبکہ باقی جماعتوں میں اچھائی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ اور یہ کہ عمران خان میں ملک کی بہتری کا ایک وژن نظر آتا ہے جبکہ نوازشریف میں ایک ہی وژن ہے کہ اس ملک میں سڑکیں ہی سڑکیں ہوں اور ان میں خوب خوب سریا استعمال ہو، اور زرداری کا ایک ہی وژن ہے کہ بل گیٹس بلکہ قارون بھی آ کے ان کے قدموں میں بیٹھ جائے اور اعتراف کرے کہ آپ سے زیادہ دولت کسی کے پاس نہیں۔ عمران خان کو چاہیئے کہ بہت احتیاط سے اچھے لوگوں کی ٹیم اکٹھی کریں، برے لوگوں سے جان چھڑوائیں، اور کراچی پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ اب وہاں کے لوگوں کو ایک اچھے لیڈرکی ضرورت پڑنے والی ہے۔