سعودی عرب کا ترکی اور مصر کے ساتھ اتحاد

Posted on March 25, 2015



سعودی عرب کا ترکی اور مصر کے ساتھ اتحاد: مستقبل میں پیش آنے والے چلینجز
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ملک سلیمان کےاقتدار میں آنے کے بعد اس حد تک سرگرم رہی ہے،کہ اسکی مثال آج تک کے سعودی عرب کی تاریخ نہیں ملتی، ملک سلیمان کی اپنے حمایتیوں سے ملاقاتیں،قطر،کویت، متحدہ عرب امارات،سیسی ، اردوگان اور نواز شریف جو پاکستان کے وزیراعظم ہیں ، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سعودی عرب نے اپنے اندرونی معاملات کو منظم کرنے کے بعد،اپنی خارجہ پالیسی ہکو منظم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔
ان مسائل میں مخصوصا اپنے خطے میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں خاص طور پر یمن میں وقوع پزیر ہونے والی تبدیلیوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ ترکی اور مصر کے صدور کا ایک ہی وقت میں سعودی عرب میں موجود ہونا ، کوئی اتفاق نہیں ہے،مزید یہ کہ مصر کے صدر کے ساتھ یہ میٹینگ تین گھنٹے تک جاری رہی اور اس میٹینگ کا کوئی پہلو منظر عام پر نہیں آیا، اسی طرح ترکی کے وزیر اعظم اردوگان کے ساتھ بھی میٹینگ تسس منٹ سے زائد دیر تک جاری رہی اور اس میٹنگ میں سعودی عرب اور ترکی کے باہمی معاملات کو استوار کرنے پر زور دیا گیا۔
ریاض میں وقوع پذیر ہونے والی اس داستان نے سعودی عرب کو سیسی اور طیب اردغان کے درمیان ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، اور میڈیا میں اس سے متعلق بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ سیسی نے شرم الشیخ میں اقتصادی کانفرنس کے برپا کرنے اوردہشت گردوں سے مبارزہ کے لیے ایک عرب فوج کے قیام کا مطالبہ کیا اور اسی مقصد کے لیے اس نے سعودی عرب کا سفر کیا، اسی طرح سعودی عرب سے رخصت ہونے سے پہلےانھوں نے سعودی عرب سے مالی اور اخوان المسلمین سے مقابلے کے لیے فوجی امداد کے فراہمی کے حصول کے لیے زور دیا۔
ترکی کے صدر طیب اردگان نے ملک سلیمان سے اپنے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے پر زور دیا ،اور اسی طرح شام میں بشا الاسد کی حکومت کے سقوط تک باغیوں کی پشت پناہی پر اتفاق کیا ۔روزنامہ گار کے ایڈٹیر اور العرب ٹی وی چینل کے مینیجر جمال خاشقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ”ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا دورہ سعودی عرب ،اور مستقبل میں سعودی بادشاہ کا دورہ آنکارا، دونوں ممالک کے درمیان جدید ارتباطات کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب ،شام اور ایران کی قیادت نمٹنے کے لیے تین ملکی اتحاد (سعودی عرب ،مصر،ترکی) قائم کر رہا ہے؟
سعودی عرب کی نئی پالیسی یہ ہے کہ داخلی بحرانوں ،اور اسی طرح بین الاقوامی بحرانوں سے نمٹنے یا یمن میں انصاراللہ کا قیام اور داعش کی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے مصر اور ترکی کی مدد سے ایک سنی تنظیم تشکیل دی جائے کہ جو ان تمام مشکلات کا مقابلہ کر سکے، اسی طرح سیسی اور اس کے دیرینہ دشمن یعنی اردگان کہ جس کے اقدمات ہمیشہ مصری حکومت کے مخالف رہے ہیں ، اُن کے درمیان صلح کرائی جائے،تا ہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ کیوں اخوان المسلمین کے موضوع کو ترجیح دی جا رہی ہے کہ جس کی طرف بعد میں اشارہ کیا جائے گا،
شواھد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ سہ ملکی اتحاد کی کامیابی کے مواقع بہت کم ہیں،کیونکہ مصر کے صدر کو مالی امداد کی ضرورت ہے،سیسی جس دور میں وزیر دفاع تھا اسی کی طرف سے اس قسم کے راز افشاں ہوئے ہیں کہ مصر ماضی میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی طرف سے سکیورٹی فراہم کرنے کے نام پر بلیک میلنگ جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ اردگان کی طرف سے عرب فرنٹ لائن کے ساتھ ہم آہنگی،ترکی اخوان المسلمین کو مصر میں ایک نئے طریقہ سے سیاسی محاذ پر دیکھنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو “اسلام ترکی” کے نام سے یاد کیا جائے۔ اور سعودی عرب مالی پشت پناہی سے سیسی کو قانع کرنےکی کوشش کرے گا،اور اس کے علاوہ داعش نے سعودی عرب کو دھمکی دی ہے اور مکہ اور مدینہ کو اپنے ہیڈ کواٹرکے لیے منتخب کیا ہے، اسی طرح مصر صحرای سینا اور لبیا میں” انصار بیت المقدس” سے درگیر ہے۔ جو چیز اس سہ ملکی اتحاد میں شک کا باعث بن رہی ہے، وہ موانع ہیں کہ جس پر مصر ، ترکی اور سعودی عرب کا اتفاق ہوا ہے،کیونکہ ان دو ممالک کے تعلقات میں بہت سے نشیب و فراز آئے ہیں،لیکن اس اتحاد کے مہم ترین موانع درج ذیل ہیں:
اول: اخوان المسلمین کے ساتھ رابطہ
جب مصر اخوان المسلمین کو ایک دہشتگرد تنظیم جانتاتھا اور ترکی کے ساتھ تعلقات صرف اس شرط پر استوار کرنا چاہتا ہے کہ اگر وہ اخوان المسلمین کی پشت پناہی نہ کرے، ترکی کے صدر نے اس شرط کی شدید مخالفت کی اور اسے اپنے اعتقادات میں سے قرار دیا، بالکل اسی طرح کہ سعودی عرب کی پالیسی اس تنظیم کے لیےملک سلیمان کے دوران بادشاہی میں تبدیل ہوئی، کہ اخوان یمنی (حزب اصلاح) کے ساتھ سعودی عرب کے نزدیکی روابط اس کی واضح دلیل ہیں۔
دوم: یمن کا کیس
یمن کی موجودہ صورتحال نے سعودی عرب کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، اور سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ القاعدہ کی حامی تنظیموں کو انصاراللہ کے خلاف پشت پناہی کرے ، اور ترکی بھی اس امر میں حزب اصلاح( اخوان المسلمین) کی پشت پناہی کے سبب شراکت دار ہے، جبکہ مصر اس مسئلہ میں بالکل جدا نظریہ رکھتا ہے، جب سیسی ریاض میں موجود تھا عین اس وقت قاہرہ “انصاراللہ” یمنی کے ایک گروہ کی میزبانی میں مصروف تھا، اور اس کے علاوہ مصر نے سعودی عرب کی یمن میں “تنگہ باب المندب” کے راستے داخل ہونے کی درخواست کو شدید طرح سے رد کیا ہے۔
سوم: شام کا کیس:
سعودی عرب اور ترکی کے قریبی تعلقات انہی ممالک میں ،شام حکومت مخالف گروپس اور انکی تربیت کا سبب بنی، جبکہ یہ دو ممالک شام کے اس بحران کو حل کرنے کے لیےباغیوں کو مستحکم کرنے اور بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ سمجھتےہیں جبکہ مصر کے صدر ، اخوان المسلمین اور داعش سے نمٹنے کے لیے ایک ہی نظریہ رکھتے ہیں، اور مصری صدر اس بات پر یقین رکھتے کہ شام کے صدر مسائل کے حل کا اہم جز ہیں اور انھیں کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
چھارم: دوسرے مسائل
اسی طرح کچھ دیگر عوامل موجود ہیں کہ ان سے کسی بھی صورت میں غافل نہیں ہوا جا سکتا، متحدہ عرب امارات اور سیسی ایک اہم پیمان کے پابند ہیں کہ جواخوان کے بدترین دشمنوں میں سے ہےاور ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھتا، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے ریاض کے ساتھ بھی تعلقات کچھ مسائل کی وجہ سے خوشگوار نہیں ہیں اور محمد بن زید اور محمد بن نایف کے درمیان بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کہ مصر اور ترکی کے درمیان تعلقات موجودہ شرایط میں محال نظر آتے ہیں جبکہ خطے میں اس کے علاوہ بھی بہت سے اتحاد وجود رکھتے ہیں جو کہ اس اتحاد کے مخالف ہیں جیسے ترکی، سعودی عرب قطر اور مصر ،شام اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اتحاد۔
سید رضوان حیدر شیرازی
[email protected]