شیعہ سنی محاذ جنگ

Posted on March 19, 2015 Articles



بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیعہ سنی محاذ جنگ
فرمان خداوندی ہے «وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعَاً وَلَا تَفَرَّقُواْ» (سوره آل عمران: 103) کہ اے مسلمانو! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ ہم مسلمان بھی عجیب قوم ہیں ایک وقت تھا کہ دنیا مسلمانوں کی محتاج تھی تمام علوم اور ٹیکنالوجی پر مسلمانوں کا راج تھا اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارا موبائل یا کمپیوٹر چینی ساخت کا ہے اور ہم جو خبریں پڑھتے یا سنتے ہیں وہ اسرائیلی ساخت کی ہیں، ان اسرائیلی ساخت کی خبروں کے مطابق عراق اور شام میں شیعہ سنی لڑائی ہو رہی ہے سنی مسلمانوں نے شیعہ حکومتوں کے مظالم سے تنگ آ کر قیام کر دیا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے کے بعد عراق اور شام کے ایک وسیع رقبے پر قابض ہو گئے ہیں اب پوری دنیا کے شیعہ مل کر ان کو شکست دینے کے لیے ان پر فوج کشی کر رہے ہیں
ان سنی مسلمانوں کی شکست کے پیش نظر علاقے میں موجود سنی حکومتیں شدید خطرے سے دوچار ہیں اس لیے سعودی عرب ترکی اور مصر آپس میں گٹھ جوڑ کر رہے ہیں کہ کس طرح اس طاقت سے نمٹا جائے جبکہ دوسری طرف ایران عراق اور شام اور لبنان کی پہلے سے ہی گٹھ جوڑ ہو چکی ہے
اس پورے منظر نامے میں امریکہ ایک مصلح کا کردار ادا کرنے کا دعویدار ہے امریکہ نے پہلے شام میں حکومتی مظالم سے تنگ سنی مسلمانوں کو اسلحہ اور ٹریننگ فراہم کی تاکہ علاقے میں ڈکٹیٹر شپ کو ختم کر کے جمہوری نظام لایا جائے جب ان امریکی تربیت یافتہ مسلمانوں نے شام میں عام شہریوں کا قتل عام شروع کیا تو پوری دنیا میں اس کے خلاف نفرت پھیلنے کے بعد امریکہ غیر جانبدار ہو کر تماشا دیکھنے لگا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال نے امریکہ کو دوبارہ اٹھنے پر مجبور کر دیا اور امریکہ شام میں لیبیا کی طرز کا حملہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا لیکن روس اور ایران کی مداخلت پر اسے دوبارہ واپس بیٹھنا پڑا
پھر عسکری اور امریکی تربیت یافتہ گروہ نے جس میں اس وقت تک پوری دنیا سے سنی مجاہدین مل چکے تھے عراق پر حملہ کر دیا اور اس حملے میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا اور انسانی تاریخ کی بھیانک ترین قتل عام کی داستان رقم کی یہاں پر مذہبی جنگ نے تھوڑا عجیب رخ اختیار کیا سنی اکثریتی علاقے کردستان کے سنی مسلمانوں نے یہ خیال کر رکھا تھا کہ یہ گروہ بھی سنی مسلمان ہیں اور یہ شیعہ لوگوں سے بدلہ لینے آئے ہیں اس لیے ہمارے علاقے پر حملے یا قبضے کا کوئی خطرہ نہیں اس لیے انہوں نے اس سنی مسلمانوں کی جماعت کی مدد بھی کی تھی لیکن جب یہ سنی گروہ کردستان پر بھی چڑھائی کرنے لگا تو کردوں نے ان کا مقابلہ شروع کر دیا
یہاں امریکہ نے سنی مسلمان کردوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کو جدید اسلحہ فراہم کرنا شروع کر دیا جو کہ غلطی سے ان کے مخالف سنی گروپوں کو بھی سپلائی ہوتا رہا۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ان سنی مسلمانوں پر بمباری شروع کر دی جن کو اس نے خود تربیت دے کر شام میں بھیجا تھا۔
اب جب یہ سنی اتحاد شکست کھا رہا ہے اور شیعہ حکومتی افواج کے ساتھ کرد بھی انکو عراقی سرزمین سے واپس دھکیل رہے ہیں تو امریکہ نے سنی ممالک سعودی عرب ترکی اور مصر کی مدد اور حمایت کا عندیہ دیا ہے تاکہ ایک شیعہ الائینس سے مل کر مقابلہ کر سکیں یہ تو اسرائیلی ساختہ خبروں کی کہانی تھی اب ایک عام مسلمان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کیا ہیں۔
کیا شیعہ اور سنی مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں ؟
امریکہ شام میں شیعہ بادشاہ کی مخالفت جبکہ سعودی عرب میں سنی بادشاہ کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ مصر میں سنی انقلاب کی مخالفت جبکہ فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کرتا ہے اور ایران میں بادشاہت کی حمایت کرتا تھا اب شیعہ جمہوری حکومت کی مخالفت کیوں کرتا ہے ؟ امریکہ شیعہ مسلمانوں کا ساتھی ہے یا سنی مسلمانوں کا ؟ مصر میں سنی مسلمانوں نے انقلاب برپا کیا اپنی جمہوری حکومت بنائی پھر ان پر ایک ڈکٹیٹر مسلط کیا گیا جس نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا تو کیا اب امریکہ مصری ڈکٹیٹر کی مدد کرے گا ؟ امریکہ جمہوریت کا حامی ہے یا بادشاہت کا ؟ امریکہ نے شام میں سنی مسلمانوں کی مدد اور حمایت کی جبکہ عراق میں امریکی اتحاد سنی مسلمانوں پر بمباری کیوں کر رہا ہے ؟
شیعوں اور سنیوں میں وہ کون سے اختلافات ہیں جن کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں یہ اختلافات مذہبی ہیں یا علاقائی ہیں ؟
جاری ہے………….
ساجد حسین ساجد۔
[email protected]