عبدالرشید کچھی کی تیسری برسی۔ تحریر۔ حبیب جان

Posted on March 18, 2015 Articles



حبیب جان پر قتل کا مقدمہ قائم۔
مورخہ 18 مارچ 2012 کو لیاری تھانہ کلری کی حدود میں عبدالرشید کچھی عرف ہائی کورٹ کو ہمیشہ کی طرح نا معلوم قاتلوں نے قتل کردیا۔ عبدالرشید ہائی کورٹ میں غالبا پیشکار تھے اور ایک شریف النفس انسان تھے دوران ملازمت ہی لیاری سے پوش علاقے کلفٹن شفٹ ہںوگئے تھے۔ ایک سیاسی کارکن ہںونے کے ناطے کبھی کبھار میری ان سے ملاقاتیں رہتی تھی۔ ملازمت کے آخری سالوں میں رشید صاحب کنسٹرکشن کے کاروبار سے منسلک ہںوگئے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل طور پر عبدالرشید اب بلڈرز کہلانے لگے تھے۔ اور یہئی وجہ تھی دوبارہ عبدالرشید لیاری کی محبت میں اپنا دن لیاری میں گزارنے لگے تھے اور نیا آباد کلری کھڈہ مارکیٹ میں 5 منزلہ بلڈنگیں تعمیر کرنے لگے تھے۔اسی دوران سیاسی شوق اور ممبر اسمبلی بننے کا ارادہ بھی پروان چڑھنے لگا اور کیونکہ ایک پڑھے لکھے انسان تھے کاروباری معاملات آسان بنانے کیلئے آج کل عموما لوگوں کا خیال ہںوتا ہںے کہ سیاسی چھتری ضروری ہے لہذا رشید صاحب نے کوشش کی اور ان کا خیال تھا پیپلز پارٹی میں جگہ بن جائے گی۔ لیکن PPP والے بڑے گاھک لوگ ہیں بچارے رشید کچھی جیسے لوگ ووٹ تو ڈال سکتے ہیں لیکن خود الیکشن لڑنے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ بہرحال عبدالرشید نے سیاسی طور پراپنی ذاتی دکان کھول کر KRC کا یعنی کچھی رابطہ کمیٹی کا بورڈ لگالیا۔ آپ KRC کے بانیوں میں سے تھے۔ جوں جوں KRC مقبول ہںوتی گئی روابط بھی بڑھتے گئے، ٹارگٹ بھی بلند ہںونے لگے سابق اسپیکر عبدالللہ حسین ہارون بھی سرگرم ہںوگئے، الطاف حسین کی للچائی ہںوئی نظریں بھی KRC کے پلیٹ فارم کے ذریعے لیاری پر قبضہ کا خواب دیکھنے لگی۔ فاروق ستار اور صدر ٹاؤن کے ناظم اور موجودہ ممبر اسمبلی دلاور خان جو خود بھی ایک معروف بلڈر ہے اور متحدہ کے مال بناؤ کمیٹی کے فعال رکن ہے۔ لیاری کو قبضہ کرکے کراچی الطاف کا ہںے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گھناؤنا کھیل کھیلنے لگے۔ KRC کے ہاتھ سے کھیل نکل کر MQM کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ زرداری، ٹپی، رحمن ملک، نبیل گبول حتی کہ پولیس والے بھی چودھری اسلم کی صورت میں لیاری کو سونے کی چڑیا کا خطاب دے کر شکار کرنے نکل کھڑے ہںوئے۔ لیکن جب الللہ نے کسی سے کام لینا ہںو تو چیونٹی کے ذریعے ہاتھی اور ابابیلوں کے ذریعے ابراھم کے لشکر کو نیست ونابود کر دیتا ہے۔ لیاری میں عبدالرحمن عرف خان بھائی کی شہادت کے بعد عزیر جان بلوچ اور اس کی ٹیم نے جس جانفشانی سے نہ صرف لیاری بلکہ قدیم شہر مائی کلاچی کا بھی بھرپور دفاع کیا اور آج تک دفاع پر مامور ہیں۔ شہید عبدالرشید کچھی کو میں نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے گھر ہںونے والی میٹنگ میں کہا تھا بھائی جان آپ کے دوستوں کے اہداف بدلتے جارہیے ہیں آپ بہت احتیاط کریں اسی طرح میں نے KRC کے دیگر دوستوں کو بھی قبل ازوقت بتادیا تھا۔ بلآخر 18 مارچ 2012 کو شام عبدالرشید کچھی کو نامعلوم افراد نے ہمیشہ کیلئے خاموشی کی نیند سلادیا اہداف حاصل کرنے والوں نے شہید کے قتل کا مقدمہ مجھ پر یعنی حبیب جان پر درج کروادیا یعنی ایک تیر سے دو شکار۔ مجھ پر یہ پہلا مقدمہ تھا اس کے بعد روز مقدمہ قائم ہںونے لگے ECL پر نام ڈالا گیا اور PEMRA قوانین کے زریعے الیکٹرانک میڈیا پر بولنے کی پابندی لگائی گئی جو ہنوز جاری ہے۔ میں آج بھی انتہائی وثوق سے کہتا ہںوں کہ میں آج بھی معصوم ہںوں بلکل جیسے پیدائش کے وقت معصوم بچہ۔ آج الطاف حسین کے خلاف ریاست کا مضبوط ادارہ FIR کٹوارہا ہے تو دوسری طرف 90 نامی ہیڈ کوارٹر دہشت گردوں سے پاک ہںورہا ہے۔ انشاءالللہ متحدہ کے جرائم اور کرائم ایکسپوز ہںونے کے بعد لیاری میں جاری متحدہ کی ایجاد کردہ پرڈکٹ گینگ وار اپنی موت آپ مرجائے گی۔ الللہ لیاری کی تمام قومیتوں میں دوبارہ اتحاد پیدا فرمائیں اور شہید عبدالرشید کچھی کے درجات بلند فرمائیں اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔ پاکستان زندہ باد۔ ایک لیاری سب پر بھاری۔