والدین اور ہم

Posted on March 17, 2015 Articles



بسم اللہ الرحمن الرحیم
والدین اور ہم(۱)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ! محترم قارئین میں نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچا ہے کہ جس پر لکھنے کی ہر دور میں ضرورت بھی رہی ہے اور اہل دل حضرات نے ہر دور میں اس موضوع کو اپنی تحریروں میں خاص اہمیت دی ہے۔ انشاءاللہ میں اس موضوع کو سلسلے وار لے کر چلوں گا اور اگر آپ لوگوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ہوئی تو بہت تیزی سے اس موضوع کو تسلسل دیتا رہوں گا۔اور کوشش کرونگا کہ جلد ہی اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائوں۔
والدین، عربی زبان کالفظ ہے جس کے معنی ماں اور باپ ہے، اردو زبان میں اس کو جننے والا اور اور جننے والے بھی کہا جا سکتا ہے، اسی طرح بچوں کے سرپرستوں کو بھی والدین کہا جاتا ہے۔
نیکی یا احسان (بھلائی) ایک بہترین صفت ہے اور کوئی بھی شخص اگر کسی دوسرے سے نیکی کرے گا تو نہ صرف اس کا اپنا دل و دماغ مطمئن ہو گا بلکہ معاشرے میں رہنے والے افراد بھی اس کی تعریف کریں گے اور اس سے ملنے جلنے والے تمام افراد اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ دوسروں کے ساتھ اچھائی سے پیش آنا نہ صرف علم و عقل کی نگاہ میں ایک بہترین عمل ہے بلکہ احادیث میں بھی اس کی مدح و تعریف کی گئی ہے۔ یہ عمل اللہ تعالی کے نزدیک ایک پسندیدہ بلکہ ایک خاص اہمیت کا حامل عمل ہے کہ جو دنیا میں عزت کے ساتھ ساتھ آخرت کی کامیابی ، اس دن کی مشکلات سے نجات اور اللہ کی رضا پانے کا سبب بھی ہے۔
نیکیاں اور اچھائیاں مختلف قسم کی ہیں، ان سب نیکیوں میں سے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ،اپنے ہی والدین کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ہے۔ قرآن مجید میں اس مسئلہ کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور 23مرتبہ انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اخلاق سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ ایسا اہم مسئلہ ہے کہ قرآن پاک میں بعض جگہوں پر خدا وندعالم نے اپنی اطاعت کے بعد والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے ایک شخص کے سوالـــ جو کہ اس نے والدین کے حقوق کے بارے میں پوچھاـ کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’ھُمَا جَنَّتُکَ وَ نَارُکَ‘‘ والدین تیری جنّت و دوزخ ہیں، جنت ان کی رضامندی اور دوزخ ان کی ناراضگی میں ہے۔
والدین کے ساتھ اچھائی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا صرف دین اسلام کا ہی خاصہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے تمام ادیان اور ان کے تمام مذاہب میں اس عمل کو ایک الگ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ اورتمام ادیان کے پیروکاروں کے نزدیک یہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ کسی بھی گروہ، مذہب، دین یا خطے کے افراد اس کی اہمیت سے انکاری نہیں ہیں۔ والدین کے حقوق تمام انسانون پر لاگو ہیں اور اسلام سے پہلے کے ادیان میں بھی یہ حقوق اسی طرح واجب تھے جیسا کہ بنی اسرائیل کو بھی خداوند قدوس نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین کی اطاعت کا ذمہ دار بنایا تھا۔اسی طرح جب ہم تاریخ کے کچھ اور اوراق پلٹتے ہیں تو حضرت نوح علیہ و علی نبینا صلو ٰۃ والسلام والدین کیلئے یوں دعا کرتے نظر آتے ہیں ’’ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَالِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیْ اَمِناً۔۔۔‘‘ خدایا مجھے، میرے ماں باپ کو اور ہر وہ جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہو، بخش دے اور خدایا مومن مردوں ، مومن عورتوں کی مغفرت فرما اور ظالموں کیلئے اپنے عذاب کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ فرما! ۔ اسی طرح جب ہم اور ورق گردانی کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حضرت داوود علیہ و علی نبینا الصلوۃ والسلام ایک دفعہ جب سوچ رہے تھے کہ کون ہو گا جو دنیا میں مجھ بڑھ کر عبادت گزار ہو گااسی اثناء میں اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہوا کہ پہاڑ پر جائیے اوروہاں ایک شخص ایک گناہ کی وجہ سے سات سو سال سے میری عبادت ، توبہ اور استغفار میں مصروف ہےحالانکہ اس کا وہ عمل میرے نزدیک گناہ نہیں تھا، اس کو میری طرف سے توبہ قبول ہونے کی بشارت سنا دیجئے۔ آنجناب جب پہاڑ پر تشریف لے گئے تو ایک کمزورو لاغر شخص کو جس کی ہڈیاں عبادت کی کثرت سے ظاہر ہو گئی تھیں ،نماز کی حالت میں دیکھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت داوود علیہ و علی نبینا الصلوۃ والسلام نے اس پر سلام کیا، اس شخص نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ ۔ آپ نے فرمایا میں داوود ہوں اور آپ کے استفسار کے بعد اس نے بتایا کہ مجھ سے ایک گناہ سر زد ہوا ہے۔ وہ یہ کہ ایک دن میں کسی کام سے اپنے گھرکی چھت پر چڑھا اور میرے چھت پر چڑھنے کے دوران وہاں سے گرد اڑ کر میری ماں کے سر پر جا پڑی، پس اس دوران جو غلطی مجھ سے سر زد ہوئی اس کا ازالہ کرنے کیلئے سات سو سال سے اس مقام پر عبادت اور توبہ میں مصروف ہوں ، نا معلوم میری ماں مجھ سے راضی ہوئی ہے یا نہیں؟ آیا خداوند متعال نے میری توبہ قبول فرمائی ہے یا نہ؟ پس آپ میرے لئے دعا فرمائیں تاکہ میری توبہ قبول ہو جائے۔اسی طرح تاریخ کی مزید ورق گردانی سے معلوم ہوا کہ ایک دن حضرت موسی ٰ علیہ و علی نبینا الصلوۃ والسلام خداوند سے راز و نیاز میں مصروف تھے کہ اس دوران ایک شخص کو عرش کے سائے میں دیکھا، عرض کیا خدایا! یہ شخص کون ہےکہ تیرے عرش نے اس پر سایہ کر رکھا ہے؟ جواب ملا یہ ایسا شخص ہے جس میں دو پسندیدہ صفات پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ والدین کا فرمانبردار ہےدوسری یہ کہ کسی کی غیبت نہیں کرتا۔ خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام پر وحی فرمائی کہ جو شخص میری عبادت کرے اوروالدین کی اطاعت نہ کرےمیں اس کو عاق لوگوں میں شمار کروں گا ۔
قرآن مجید میں چار جگہ پر اللہ تعالی نے اپنی عبادت و اطاعت کے فوراً بعد والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے، یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ والدین کا احترام،والدین کی اطاعت ، والدین کی فرمانبرداری اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنےکی اسلام میں کتنی اہمیت ہے اور قرآن مجید کا والدین کیلئے اتنی تاکید کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی نافرمانی کتنا بڑا گناہ ہے۔
انسان جب والدین سے نیکی سے پیش آئے تو اس عمل پر اترانے اور والدین پر احسان جتلانے کی بجائے اس کام کو ان کی خود کیلئے برداشت کی گئی تکلیفوں کا معمولی سا شکریہ سمجھےاور کبھی یہ گمان بھی نہ کرےکہ اس نے والدین کا حق ادا کر دیا کیونکہ والدین کا حق اتنا زیادہ ہےکہ انسان کی طاقت میں ہی نہیں ہےکہ ان کی تکلیفوں کا معاوضہ ادا کر سکے۔ انسان ہمیشہ خود کو ان کا حق ادا کرنے سے قاصر سمجھے اور ہمیشہ اس حق کو ادا کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔ جاری ہے…………………
ساجد حسین ساجد
[email protected]ahoo.com