نظریہءِ ضرورت

Posted on March 15, 2015 Articles



نظریہءِ ضرورت
_____________________
By: Muhammad Tahseen

کھڑکی سے سردیوں کی برستی بارش کو دیکھتے ہوئے یونہی بےدھیانی سے ٹی وی چینل تبدیل کرتے کرتے میں اچانک ایک چینلپر رک گیا اور میری سوچ کا دھارا بارش کی خوبصورتی سے ہٹ کر پاکستان کی سیاست پرمرکوز ہوگیا. اس کی وجہ چوہدری نثار کا وہ خوبصورت بیان تھا جو کئی دوسرے بیانات کے ساتھ اس وقت ایک نیوز چینل پر ٹِکر کے طور پر چل رہا تھا. “ایم کیو ایم فوج پر تنقید سے پہلے یہ مت بھولے کہ وہ اسی فوج کے ساتھ نو سال تک اقتدار میں شریک رہی

دیکھنے میں تو اس بیان میں کوئی خاص بات نظر نہیں آتی اور بظاہر یہ الطاف حسین کے ان بیانات کا ردعمل ہے جووہ سارا دن فوج کے خلاف دیتے رہے. لیکن تھوڑی گہرائی میں جائیں تو اس بیان میں پاکستان کی تاریخ کے تلخ حقائق اور بہت سے مسائل کا حل چھپا ہے. مجھے نہیں پتہ کہ چوہدری نثار نے یہ بیان اسی سینس (پیرائے) میں دیا ہے جیسے میں سوچ رہا ہوں یا یہ صرف ایک معمول کا بیان ہی ہے

اس بیان میں گہرائی کیا سمجھمیں آئی مجھے اسے صرف دو لفظوں میں بیان کروں تو وہ الفاظ ہیں “نظریہءِضرورت” جی ہاں یہ ہماری ملکی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت ہے. یہی ایم کیو اہم آج جس کے خلاف فوج آپریشن کررہی ہے اسی ایم کیوایم کو ساتھ ملا کر ایک فوجی جرنیل نےتقریبا ایک دہائی تک حکومت کی اور اسی دور میں 11 مئی کا اندوہناک واقعہ پیش آیاجس میں کئی لوگ جاں بحق ہوئے اور کئی وکلاء کو زندہ جلا دیا گیا. ایم کیوایم کے ہی دہشت گرد اس واقعے میں ملوث تھے لیکن چونکہ ایم کیو ایم اس وقت ایک ضرورت تھی اس لیے گیارہ مئی کی شام خوشی سے سرشار اس وقت کے فوجی صدر نے مکا لہرا کر کہا “آج ہم نے کراچی میں اپنی طاقت دکھا دی

یہی نظریہ ضرورت تھا کہ طالبان اور درجنوں مسلح جہادی تنظیمیں پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے ملک میں لڑنے کے لیئےبھیجا گیا اور آج وہی طالبان اور تنظیمیں ہمارے ملک کے لیے ایک ناسور بن چکی ہیںاور ہماری فوج کے خلاف برسرپیکار ہیں. نظریہءِ ضرورت ہی تھا جس کے تحت ایم کیو ایم کو جنم دیا گیا اور پھر اس کے مسلح ونگ کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا گیا. آج وہی ایم کیوایم پاکستان کی اقتصادی شہ رگ پر سوار اس کا خون چوسنے میں مصروف ہے. پاکستان کی تاریخ کے ایک بڑے حصے میں یہی نظریہ ضرورت عدلیہ پر بھی کارفرما رہا اور آئین کی روح کو پامال کرتے ہوئے بڑے بڑے فیصلے اسی نظریہ کے تحت ہوتے رہے۔

نظریہء ضرورت ہی ہے کہ خود کوجمہوری کہلانے والی ہر جماعت اپنی حکومت کو بچانے اور کرسی کو مضبوط کرنے کے لیےایم کیوایم کے مسلح ونگ کی حقیقت جانتے ہوئے بھی اسے حکومت کا حصہ بناتی ہے. یہی نظریہ ہے کہ ماضی میں ایم کیوایم پر سنگین ترین الزامات لگانے والے پاکستان کےموجودہ وزیراعظم نے سینٹ کی چند نشستوں کے لیے سترہ سال بعد ایم کیوایم سے رابطہ کرکے اس کی مدد مانگ لی. اسی نظریہ کے تحت اے این پی اور جے یو آئی جیسی 180 ڈگری تک متضاد نظریات رکھنے والی جماعتوں نے سینٹ میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لیے

نظریہءِ ضرورت ہی ہے جس کے تحت این آر او کی گنگا بہائی گئی جس میں نہا کر ہر وہ شخص، جماعت اور ادارہ
پاک و پوترہوگیا جو اس ملک کو نقصان پہچانے کے پاپ میں ملوث تھا. اسی نظریہ کے تحت جمہوریت ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ میں کسی حزب اختلاف کا وجود نہیں اور جمہوریت کے نام پر اس بار ہم اگلی باری تم کا کھیل کھیلا جارہا ہے. اسی نظریہ کا کرشمہ ہے کہ ملک میں احتساب کے کسی ادارے کا وجود نہیں اور نا ہی کوئی ادارہ جو احتساب کرسکتا ہے، اشخاص یا اداروں کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ہر ادارے کو اس کا”حصہ” بخوبی مل رہا ہے. چنانچہ کون ہے جو اس رنگ میں بھنگ ڈالنا چاہےگا

نظریہءِ ضرورت کے گرداب میں ہی پھنس کر ایک اور نظریہ کہیں کھو گیا ہے اور وہ نظریہ ہے نظریہ پاکستان. جس نظریہ کے تحت اس ملک کو ایک فلاحی مملکت بننا تھا، اقوام عالم کے لیے ایک مثال بننا تھا،اسلام کے اصولوں کی تجربہ گاہ بننا تھا اور ان سب خوابوں کی تابیر بننا تھا جوبرصغیر کے مسلمانوں کو دکھائے گئے تھے. لیکن ہوا ان سب باتوں کے برعکس اور نظریہ ضرورت نے اس خطہءزمیں کو ایک چراہ گاھ بنا دیا. ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق اس چراہ گاھ سے چرا بھی اور اس میں چھید بھی کیا. اگر کبھی کوئی ادارہ، جماعت یا فرد پاکستان کو بچانے کے لیے سنجیدہ ہوا تو پھرا اسے ساری مصلحتوں، مفاہمتوں اور خودغرضیوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا. نظریہءِ پاکستان کو
زندہ کرنے کے لیے نظریہءِضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا.
محمد تحسین
https://www.facebook.com/MuhammadTahseen