ہم اور میڈیا

Posted on March 10, 2015



ہم اور میڈیا
پچھلے کئی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ اپنی قوم کے اجتماعی قومی مزاج پر قلم اٹھاؤں اور کچھ لکھ کر دل کا بوجھ ہلکا کروں مگر مصر وفیات آڑے آئی ہوئی تھیں۔ جب بھی میڈیا کی کوئی فارمیٹ خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو الیکٹرونک میڈیا ہو یا پھر سوشل میڈیا سے میرا واسطہ پڑا کم از کم میں نے تو اس سے کوئی مثبت یا صحت مند رویہ اخذ نہیں کیا۔ مجھے تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ من حیث القوم ہم لوگ جا کدھر رہے ہیں؟ آیا ہم میں سے کسی کو منزل کا پتہ بھی ہے یا بس منہ اٹھائے دوسروں کی اندھی تقلید کیئے جا رہے ہیں۔ کیونکہ جب بھی آپ کا واسطہ کسی سوشل ویب سائٹ سے پڑے تو لگتا یہی ہے یہاں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا جا رہا کہ دیکھیں ہم میں سے کون دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کا چیمپئن ہے۔ آیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہی الفاظ جو ہم دوسروں کیلئے لکھ رہے ہیں اگر کوئی دوسرا شخص یہی الفاظ، یہی القا بات خود ہمارے لئے استعمال کرے تو ہمارا رویہ کیا ہو گا؟ کیا ہم اس شخص کو معاف کر دیں گے..……..
میرے خیال میں ہمارے قومی لیڈر ان خواہ جیسے بھی ہیں کیونکہ ان لوگوں کو لیڈر ہم نے بنایا ہے اور یہ بھی ہم میں سے ہماری طرح کے انسان ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے ترجمہ: اور ہم نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس نے ان کو کہا ایک خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں(القرآن۔ سورہ المو منون، آیت ۳۲) یعنی اللہ تعالی ہر دور میں اپنے پیارے بندوں کو اپنی ہی مخلوق میں سے منتخب کرتا رہا ہے اور یہ اللہ تعالی کا طریقہ رہا ہے کہ اس قوم کے حکمرانوں کو بھی اسی قوم میں سے ہی قرار دیتا رہا ہے البتہ یہ قوم پر ہی منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے افراد کو اپنا راہنما اور لیڈر منتخب کرتے ہیں۔ ہاں البتہ خدا وند کریم ہر دور میں اپنی مخلوق پر مہربان رہا اور باوجود ان کی کوتاہیوں کے انہی کے درمیان اپنے اصلاح پسند اور کامل لوگوں کو بھیجتا رہا تا کہ وہ ان کو اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سکھائیں، انکی تعلیم و تربیت کر کے ان کو سیدھی راہ دکھائیں۔ آج سے لگ بھگ ۳۳۰۰ سال پہلے ایک قوم بنی اسرائیل کے نام سے اس دنیا میں موجود تھی اس وقت ان پر فرعون حکومت کرتا تھا اور وہ لوگ اسی لائق ہی تھے کہ ان پر فرعون حکومت کرے خداوند کریم نے ان کی نجات کیلئے اپنے ایک پیارے نبی حضرت موسیٰ علیہ و علی نبینا السلام کو بھیجا جو ایسے اولوالعزم پیغمبر تھے کہ جن کو خدا سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل تھا اور اسی وجہ سے ان کا لقب کلیم اللہ تھا۔ جب اس قوم نے فرعون سے نجات پا لی تو اپنی عادت سے پیچھے ہٹنے کی بجائے موقع ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ و علی نبینا السلام کو تنگ کرنا اور ان کو طرح طرح کی اذیت دینا شروع کر دیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ آیا صرف حکمرانوں کو گالیاں دینا یا ان کے توہین آمیز کارٹون بنا لینا ہمیں ان کے شر اور ظلم سے نجات دلا دیگا؟ آیا ہمارا کوئی فریضہ نہیں بنتا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی قوم کی نجات کا بیڑا اٹھائیں؟ قوم کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی قوت اور نعمت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قوم کی نجات کیلئے کوشش کرے۔ اب بھی وقت ہے جاگ جائیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دور کا کوئی فرعون یا اس سے بھی بد تر شخص ہماری قوم پر مسلط ہو جائے اور ہماری حالت بنی اسرائیل سے بھی بدتر ہو کر رہ جائے۔ کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ اب ہماری نجات کیلئے کوئی موسیٰ علیہ و علی نبینا السلام تشریف لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ہم آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت ہیں۔ لیکن اس کیلئے عملی اقدام کی ضرورت ہے جب کہ ہماری ہمیشہ سے خواب خرگوش کے مزے لینے والی قوم اس خام خیا لی میں غرق ہے کہ ہم لوگ حکمرانوں کو گالیاں دے کر، شخصی محفلوں میں ان کا گلہ کر کے اور سوشل میڈیا پر سارا گند پھیلا کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہو جاتے ہیں۔ اور تو اور صاحبان اثرو رسوخ اور اعلی تعلیم یافتہ افراد کو بھی جب میڈیا پر موقع ملتا ہے تو وہ ایسی ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ کم پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی نسبت مہذب اور سلجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان اشخاص سے کیا گلہ کہ جب مختلف چینلز کے فاضل، ڈگری ہولڈر اور اپنے پیشے میں لاثانی بلکہ اپنے پیشے میں نو آموزوں(سیکھنے والوں) کیلئے اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے میزبانوں کی گفتگو سننے کو ملتی ہے تو دماغ یکدم ماؤف سا ہو جاتا ہے اور جب وہ تمام تر تہذیب و شرافت کو اپنے پاؤں کے نیچے روندتے ہوئے اور سامنے والے کی عزت کی دھجیاں بکھیرتے ہوئےنظر آتے ہیں تو لگتا یہی ہے کہ یہاں تو آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے۔
ہم لوگ حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں کو گالیاں دیتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہ لوگ یوں ہی اچانک کہیں سے ابھر کر سامنے نہیں آئے بلکہ ہمارے ہی ووٹوں سے مسند اقتدار پر بر اجمان ہوئے ہیں حتی کہ اگر یہ لوگ نااہل ہونے، جعلی ڈگریاں رکھنے، داغدار ماضی کے حامل ہونے اور اسلام اور ملک دشمن ہونے کے باوجود ووٹ خرید کر ایم۔این۔اے اور ایم۔ پی۔اے کی سیٹ سے منتخب ہو کر ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں اور وزارتوں پر بر اجمان ہو جاتے ہیں تو اس میں ساری ذمہ داری ہم عوام کی ہے۔ کیوں ہم ایسے لوگوں کو اپنا قیمتی ووٹ یا دوسرے لفظوں میں اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔ ہم ووٹ دیتے یا بیچتے وقت صرف یہ سوچتے ہیں کہ اس با اثر شخص نے میرے ووٹ کے بغیر بھی جب جیت ہی جانا ہے تو میں کیوں اپنا تعلق خراب کروں، میں کیوں اس کی دشمنی مول لوں۔ جب سب لوگ ہی یہی سوچتے ہیں تو پھر نتیجہ ایک نااہل شخص کے تسلط کی صورت میں نکلتا ہے اور ہم لوگ اپنے ہی ہاتھوں اپنی تقدیر کا سودا کر کے اگلے پانچ سالوں کیلئے روتے رہ جاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے درمیان موجود ایمان دار اشخاص جو کہ اللہ کی نعمت ہیں کو ڈھونڈ کر ان کی بے لوث حمایت کر کے ان کو ایوان میں پہنچا کر اپنا فرض ادا کریں اب یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہاں اپنے جیسے مظلوم طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے قانون سازی میں کردار ادا کرے اور لوگوں کو ظلم کی چکی میں پسنے سے بچائے۔
جب ہم نے ان بے ضمیر افراد کو خود ہی اپنی قوم پر مسلط کیا تو اب گالیاں دینے سے پہلے ایک لمحہ فکر تو کر لینی چاہیے۔ میرا مقصد ہرگز کسی بھی شخص کی بے جا حمایت نہیں ہے بلکہ اس بات کو میں ایک اور مقصد کیلئے نقل کر رہا ہوں کہ جب بھی سوشل میڈیا کی کسی سائٹ یا کسی بھی چینل اور اخبار سے واسطہ پڑا بہت کم ہی لوگوں کو سلجھے ہوئے لہجے میں بات کرتے پایا۔ اگر ہم میں سے کسی کو کسی بھی دوسرے شخص سے اختلاف ہے تو اس اختلاف نے اس بندے کو گالیاں دینے کا حق نہیں دیا۔ ہاں میری اس بات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں تنقید کرنے کو برا کہہ رہا ہوں نہیں بلکہ تنقید کے طریقے کو برا کہہ رہا ہوں۔ تنقید کرنا ہمارا حق مگر گالی دینے یا کسی کی توہین کرنے اور ایک بندے کے کسی عمل کی وجہ سے اس کے پورے خاندان کی مٹی پلید کرنے کا حق نہ ہمیں خدا نے دیا ہے نہ اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دیا ہے اور نہ ہی کسی صحابی، کسی ولی اور کسی عاقل انسان کا وطیرہ رہا ہے۔
راہ حل یہی ہے کہ ہم لوگ ان خرافات میں پڑنے کے بجائے صحیح راستے پر چل کر ان تمام مسائل کو دور کرنے کی کوششیں کریں اور کسی بھی ظالم، جابر، ملک دشمن، قومی خزانے اور عوام کے مال لوٹنے والے، لٹیروں، ڈاکوؤں اور قاتلوں کی سرپرستی کرنے والے شخص کی بجائے اہل افراد کو اپنے درمیان سے ڈھونڈ نکالیں اور ان کی ہر طرح سے مدد کر کے ایوانوں میں پہنچائیں تاکہ وہ ہمارے حقیقی نمائندے ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے ظلم اور جبر کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کریں.
ساجد حسین ساجد
[email protected]