پندرہ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری

Posted on March 9, 2015



Dated: 09.3.2015
Pandra Karoor Rupey Ki Sarmaey Kari
BY: SYED ANWER MAHMOOD
پندرہ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
تحریر: سید انور محمود

آج پاکستان میں جو دہشت گردی، کرپشن، تعصب اور دوسرئے جرائم ہورہے ہیں اُن میں سے بہت سوں کی ابتدا سابق فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کے زمانے سے شروع ہوئی یا اُس میں اضافہ ہوا۔ ڈکٹیٹرضیاءالحق کے1985ء میں کرائے گےغیر جماعتی انتخابات میں غیرسیاسی لوگ صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور یہ ایک نئے کرپٹ سیاسی نظام کی ابتدا تھی۔ جب لوگ سیاسی جماعتوں کے تحت سیاسی اور جمہوری عمل میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایک نظریہ کے ساتھ انتخابات اور جمہوری عمل کا حصہ بنتے ہیں، لیکن 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں تعلیم کی کمی اور سیاسی تربیت کے فقدان کی وجہ سے زیادہ تر ووٹ خاندان، برادری، فرقے اور مذہبی اور علاقائی تعصبات کی بنیادپر ڈالے جانے لگے، اور آج تین دہائیاں گزرنے کے باوجود وہی سب کچھ ہورہا ہے جسکی ابتدا ڈکٹیٹرضیاءالحق کے زمانے میں شروع ہوئی تھی۔ جب آپ انتخابی عمل کو غلط طریقے سے چلاینگے تو پھر ہر سطح کے انتخابی عمل میں دولت، سرمایہ اور دیگر ذرائع طاقت ور ہوجاتے ہیں اور پھر انتخابات محروم اور متوسط طبقات کی دسترس سے دُورہوجاتے ہیں۔ آج بلدیاتی، صوبائی، قومی اور سینٹ کے انتخابات میں عام لوگ حصہ نہیں لےپاتے کیونکہ دولت کا عمل دخل بنیادی عنصر بن چکا ہے جسکی وجہ سے ہر انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ 2013ء کے انتخابات کو دھاندلی والاانتخابات کہا جاتا ہے۔

پاکستانی عوام چیئرمین سینٹ کے انتخاب سے بے نیاز ہیں اور اُنکی طرف سے مکمل عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، سیاست کو سمجھنے والے عام پاکستانیوں کی چیئرمین سینٹ کے حوالے سے رائے یہ ہے کہ چیئرمین سینٹ کا انتخاب کسی بھی پارٹی سے ہو اس سے عام عادمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے منتخب ہونے والے چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری پاکستان پیپلز پارٹی سے وفاداری نبھاتے رہے لیکن عوام کےلیے کچھ نہ کیا اور یہ ہی وجہ ہے عوام کی اکثریت شاید اُنکے نام سے بھی واقف نہیں، اور شاید ایسا ہی اگلے چیرمین کے ساتھ بھی ہو کہ عام لوگوں اُس کے نام سے بھی واقف نہ ہوں۔

سینٹ کےحالیہ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں، پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں یہ کھیل ایک طویل عرصے سے ہورہا ہے اور ملک کی تمام بڑی جماعتوں کےرہنما اور سیاستدان اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں متوقع ہارس ٹریڈنگ کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کو یہ اندیشہ تھا کہ ان کی جماعت کے باغی ارکان کہیں ان کو سینٹ میں بھاری نقصان سے دو چار نہ کردیں ، یہ ہی وجہ تھی انہوں نے سینیٹ انتخابات کیلئے بائیسویں آئینی ترمیم لانے کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق اراکین اسمبلی سیکرٹ بیلٹ کی بجائے اپنے ووٹ کا استعمال شو آف ہینڈ سے کرتے اوریہ لازمی تھاکہ ان کی پارٹی سے وفاداری کے سوا کوئی دوسرا عمل باقی نہیں رہتا، لیکن وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں سیاسی جماعتیں آئینی ترمیم پر متفق نہ ہوسکیں۔عمران خان نے اس ترمیم کی حمایت کی جبکہ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے اس کی مخالفت کی۔ بائیسویں آئینی ترمیم کی حمایت نہ کرنے کی پیپلز پارٹی کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے کہ خفیہ رائے شماری کے زریعے ووٹنگ سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے باغی اراکین وفاداریاں تبدیل کر سکتے تھے جس کے باعث پیپلز پارٹی کیلئے دوبارہ سے سینیٹ میں اکثریتی پارٹی بننے کی راہ ہموار ہوتی، لیکن مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بائیسویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ بائیسویں آئینی ترمیم ہوجانے کے بعد سینیٹ انتخابات میں سے پیسے کا کھیل ختم ہوجاتا اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے اراکین اسمبلی پچھلے سینٹ کے انتخابات میں بھی بکتے آئے ہیں اور حالیہ سینٹ انتخابات میں بھی وہ کروڑوں روپے وصول کرنے کے خواہشمند تھے۔

صوبائی اسمبلی کے اراکین لاکھوں روپے خرچ کرکے اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے ہیں اور پھر وہ کروڑ پتی بننے کے چکر میں لگ جاتے ہیں، اس کام میں حکومت بھی اُنکی بھرپور مدد کرتی ہے، ترقیات کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈ دیے جاتے ہیں اور پھر حکومت کرپٹ مافیا کو احکامات بھی دیتی ہے کہ ان کی اسکیموں کو اچھے داموں اور اچھی کمیشن کے عوض خریدو۔ اسکے علاوہ ایک الیکشن کے دوران دو بار سینٹ کے انتخابات ہوتے ہیں۔ پہلے ابتدا میں اور دوسری بار مڈٹرم یعنی ان کو دوبار کمائی کے ذرائع مہیا کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم تاریخی طور پر دیکھیں تو ہارس ٹریڈنگ کا کاروبارحکمرانوں نے ہی شروع کیا ہے۔ ووٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والی دولت کو ارکان کے لئے بونس سمجھا جاتا ہے، اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، صوبائی اراکین اسمبلی کی اس کمائی کو ہمیشہ جائز قرار دیا گیا۔ کبھی کسی کے خلاف پوری پاکستانی تاریخ میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کا سب سے زیادہ فائدہ اراکین بلوچستان اسمبلی کو پہنچا۔ ان کو کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز ملے، انہوں نے کروڑوں روپے کی اسکیموں کو مافیا اور ٹھیکہ داروں کے ہاتھوں 20سے 25فیصد پر فروخت کردیا۔ اس طرح سے بلوچستان کے صوبائی اسمبلی کے اراکین سالانہ کروڑوں روپے اسکیموں اور ملازمتوں کی فروخت سے کماتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ حالیہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہو رہی تھی لیکن میڈیا کے دبائو اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی شور و پکار کی وجہ سے لوگ ہارس ٹریڈنگ سے پیچھے ہٹ گئے، عمران خان کا اپنی پارٹی کے ارکان پر شدید دبائو تھا کہ ہارس ٹریڈنگ نہ کریں جبکہ یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف میں کچھ ارکان جو اپنی قیادت سے ناراض ہیں اور دولت کا حصول بھی چاہ رہے تھے بکنے کےلیے تیارتھے۔ اس بات کا ثبوت خود عمران خان نےدیا کہ ایک شخص نے اُنکو تحریک انصاف کی طرف سے سینٹ کی سیٹ کے ٹکٹ کےلیے پندرہ کروڑ روپےکی آفر کی تھی۔ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کرکٹر شاہد آفریدی کا نام لیا گیا لیکن عمران خان نے خوداس بات کی تردید کردی کہ اُنکو پندرہ کروڑ روپے کی آفر کرنے والا شاہد آفریدی تھا، اُنکا اصل آدمی کا نام بتانے سے مسلسل انکار ہے، ساتھ ہی وہ اُس شخص کو ایماندار قرار دئے رہے ہیں۔ افسوس عمران خان قوم کو ایمانداری کی لولی پاپ دئے رہے ہیں، وہ بتاکیوں نہیں دیتے کہ اُن کو پندرہ کروڑ روپےکی آفرکرنے والا حاجی کون تھا۔ عمران خان کے خاص دوست وزیراطلات پرویز رشید کا یہ مطالبہ بلکل جائز ہے کہ عمران خان اُس شخص کا نام بتایں جس نے اُن کو سینٹ کے ٹکٹ کےلیے پندرہ کروڑ روپے کی آفر کی تھی، ساتھ ہی انہوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ اگر عمران خان اُسکا نام نہیں بتاینگے تو وہ خود اُسکا نام بتادینگے جو وہ نہ بتاسکے۔

ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک عرصے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ وہ افراد جو عام انتخابات میں ہار جائیں یا جنہیں عام انتخابات میں جیتنے کی کوئی اْمید نظر نہ آ رہی ہو ایسے لوگ پیسے کے زور پر سینیٹر بننے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ انہیں ووٹ دینے والے اراکین اسمبلی بھی راتوں رات کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھے تعداد کی نشست کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں اور ممبران کی مدت چھ سال ہوتی ہے۔ گزشتہ بیس سالوں سے سینٹ میں پیسہ چل رہا ہے اور سینیٹ کے انتخابات میں اراکین اسمبلی اپنے ووٹ بیچتے آئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں سیاست ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ تین سال پہلے ہونے والے انتخابات میں تو سینیٹ کی ایک نشست ستر کروڑ روپے میں بک چکی ہے۔موجودہ کرپٹ سیاسی نظام دراصل ایک تجارتی نظام ہے، جب تک اس نظام کو درست نہیں کیا جائے گا ووٹ بکیں گے اور خریدار خریدیں گے کیونکہ خریدار جانتے ہیں کہ پندرہ کروڑکی سرمایہ کاری کرکے اُسکو چار گنا کیسے کیا جاتا ہے، لعنت ہے اس کرپٹ سیاسی نظام پر۔