پاکستانی “جمہوریت” کے “حسین” اتفاقات

Posted on March 4, 2015



پاکستانی “جمہوریت” کے “حسین” اتفاقات
___________________________________
By: Muhammad Tahseen

آج سینٹ آف پاکستان میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید صاحب نےفرمایا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ٣٤ لاکھ روپے گاڑی کی مرمت کے لیےدیئے گئے۔ ان کے اس ارشاد کو سننے کے بعد کئی حسین اتفاقات میرے ذہن میں دوڑ گئےجن کو آپ سے شیئر کیے بغیر مجھے چین نہیں آرہا اس لیے اتنی لمبی تحریر لکھنی پڑی۔آپ میں سے ہر کسی کو یاد ہوگا کہ ٢٠١٣ کے الیکشن کے فوری بعد پاکستان کی ہر ایک سیاسی جماعت نے کسی نہ کسی طرح اس الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا۔ حتٰی کے مرکزمیں حکومت بنانے والی جماعت نون لیگ نے بھی الزام لگایا کہ سندہ اور خیبرپختونخواہ میں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیرمین آصف زرداری نےپہلی بار اس الیکشن کو آر اوز کا الیکشن قرار دیا جس کے بعد یہ اصطلاح کافی مشہورہوگئی۔ اے این پی اور جمعیت علماء اسلام نے خیبر پختونخواہ میں دھاندلی کا الزام لگایا. اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں انتخابات چرائے گئے ہیں اور تحریکِانصاف نے اسے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ
الیکشن قرار دیا۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ساری بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طرح صوبوں اور مرکز میں حکومت کا حصہ بن گئیں اس لیے انھوں نے یہ ضروری نہیں سمجھا کہ دھاندلی کا وہ الزام جو کہ انھوں نے خود لگایا تھا اس کی تحقیقات ہوں اور اگر واقعی دھاندلی ہوئی ہے توذمہ داروں کو سزا دے کر آئندہ شفاف الیکشن کی راہ ہموار کی جاسکے۔ تحریکِ انصاف کاخیال تھا کہ سب سے زیادہ دھاندلی ان کے ساتھ ہوئی ہے اس لیے خیبر پختونخواہ میں حکومت ملنے کے باوجود وہ اس دھاندلی کے الزام کو تواتر کے ساتھ دہراتی رہی اورحکومت سے مطالبہ کرتی رہی کہ الیکشن کی تحقیقات کی جائیں۔ سب سے پہلے حکومت سےڈیمانڈ کی گئی کہ صرف چار حلقوں میں تحقیقات کرلی جائیں اور اگر وہاں دھاندلی ثآبت ہوتی ہے تو پھر ملکی سطح پر مزید حلقوں میں تحقیقات کی جائیں۔ اور اگر دھاندلی ثابت نہیں ہوتی تو ہم خوشدلی سے حکومت کو تسلیم کرلیں گے اور اگلے
الیکشن کاانتظار کریں گے۔

اس دوران نون لیگ کی حکومت مختلف حیلوں بہانوں اور ٹال مٹول سے کام لیتی رہی اورتحریکِ انصاف کے چیرمین مسلسل کہتے رہے کہ اگر چار حلقوں میں تحقیقات نا ہوئیں توپھر وہ تحریک چلائیں گے اور حکومت کو سارے الیکشن کی تحقیقات کروانی پڑیں گی۔حکومت کے وزرا اور تحریکِ انصاف کے درمیان ڈیڑھ سال تک وار آف ورڈز چلتی رہی اوربالآخر تحریکِ انصاف کے چیرمین نے چودہ اگست ٢٠١٤ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ یاد رہے کہ یہ اعلان عمران خان نے جولائی کے وسط میں کیا تھااور کہا تھا کہ حکومت اس دوران ان کا مطالبہ مان لے تو وہ لانگ مارچ کا اعلان واپس لے لیں گے۔ لیکن یہ ایک مہینہ بھی گذر گیا اور جب تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کاآغآز ہوگیا تو ١٣ اگست کو نواز شریف صاحب نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کردیا لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ سیاست میں ٹائمنگ سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے اس لیے عین اسوقت جب تحریکِ انصاف کے ہزاروں کارکن لانگ مارچ میں شرکت کے لیے گھروں سے روانہ ہوچکے تھے وزیرِاعظم صاحب کا یہ اعلان بے سود تھا۔

چنانچہ ١٤ اگست ٢٠١٤ سے تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ اور دھرنے کا آغاز ہوا۔ اس دھرنے نے اگست ستمبر کی گرمی بھی دیکھی اور ساون کی بارشیں اور طوفان بھی، پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے بھرپور طاقت کا استعمال بھی اور پھر نومبر دسمبر کی سردیاں بھی۔ اس دوران کئی اہم موڑ آئے۔ ملکی تاریخ نے وہ لمحات بھی دیکھے جب ساری سیاسی جماعتیں جو خود بھی دھاندلی کا الزام لگاتی تھیں ایک طرف اور تحریکِ انصاف دوسری طرف کھڑی تھی۔ وہ وزیرِ اعظم جو پارلیمنٹ میں جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں ایک ہفتےتک صبح سے شام تک پارلیمنٹ میں موجود رہے۔ کیا حسین اتفاق تھا کہ ہر ایک پارلیمنٹیرین اپنی تقریر میں یہ واضح طور پر کہہ رہا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اورعمران خان کا موقف صحیح ہے لیکن دوسری طرف ساری پارلیمنٹ تحریکِ انصاف کے خلاف یکجا بھی تھی۔ پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے لیڈر ایک دوسرے پرسنگین الزامات لگاتے رہے حتٰی کے وزیرِ اعظم اور ان وزراء کے رویے پر شدید تنقید ہوتی رہی لیکن ساری جماعتیں “جمہوریت” بچانے کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرتی رہیں۔ اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ملکی
سطح پر عوام میں اپنے حقوقکے لیے شعور اور اس کے لیے جدوجہد کرنے کو قرار دیا جاتا ہے۔

اس تحریک کے دوران پاکستان کی تاریخ کے بڑے بڑے جلسے منعقد ہوئے اور مختلف شہروں میں تقریبا ایک کروڑ سے زائد لوگ سڑکوں پر نکلے۔ وزیرِ اعظم نے آرمی چیف سے مداخلت کی اپیل بھی کی لیکن جب پارلیمنٹ میں تنقید ہوئی تو اپنی بات سے صاف مکر گئے۔ ١٢٦دن کی اس تحریک میں ہر دن ڈرامائی موڑ آتے رہے کسی دن حکومت مضبوط نظر آتی اورکبھی تحریکِ انصاف کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ۔ کروڑوں لوگ ٹی وی پر دھرنے کی لمحہ بہ لمحہ کوریچ دیکھتے رہے۔ اسی دوران تحریکِ انصاف نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتےہوئے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ہڑتال کا اعلان کیا جو بہت کامیاب ثابت ہوا. بالآخر١٦ دسمبر ٢٠١٤ کا المناک واقعہ پشاور میں پیش آیا اور یوں ١٢٦ دن کی تحریک کوکارکنوں کے آنسوؤں کے ساتھ ختم کرنا پڑا۔ یوں تو اس تحریک اور دھرنے کی اور بھی بہت سی قابلِ ذکر باتیں ہیں لیکن جو باتیں میں آپ کے ساتھ خاص طور پر شیئر کرناچاہتا تھا وہ عمران خان کے کچھ خاص شخصیات اور ایک ادارے کا نام لے کر ان پرالزامات تھے۔ اس ساری تحریک کے دوران عمران خان نے چند لوگوں اور ایک میڈیا ہاؤس کو اس الیکشن دھاندلی کا محور قرار دیا۔ ان میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے، جسٹس ریاض کیانی، نجم سیٹھی اور جیو نیوز کے مالک میر شکیل الرحمٰن شامل ہیں۔

بات کچھ لمبی ہوگئی لیکن میں جو “حسین اتفاقات” آپ سے شیر کرنا چاہتاتھا وہ انھیں شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں جسٹس افتخارچوہدری کا جو عمران خان کی تنقید کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ چیف جسٹس افتخارچوہدری پر نوازلیگ کی نوازشات کا تو بتانے کی بھی ضرورت نہیں صرف ایک ہی چیز کاذکر کافی ہوگا. ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کرپشن کے الزامات، اپنے والد کے منصب کو ذاتی فوائد کے لیے استعمال کرنا اور اس جیسے دوسرے الزامات اور عدالت میں ان کےخلاف کیس اور ہر پاکستانی کی طرف سے شدید احتجاج کے باوجود بلوچستان سرمایہ کاری بوڑد کا چیرمین لگایا جارہا تھا لیکن پاکستان کی خوش قسمتی سمجھیے کہ ایسا ناہوسکا۔ کس نے یہ ایشو اٹھایا یہ بھی آپ جانتے ہیں۔
اور اس پوسٹ کے لیے ارسلان افتخار کی کیا کوالیفیکشن اور تجربہ تھا اگر کوئی بتا سکے تو ہر پاکستانی اس کاشکرگزار ہوگا۔

اس کے بعد جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے صاحب کا کچھ ذکر کرتے ہیں۔ ان کی ایک عزیزہ کوایم-این-اے بنوایا گیا اور اب دو
سال ایم-این-اے رہنے کے بعد ان کو نون لیگ کی طرف سے سینٹ کا ٹکٹ بھی عنایت کیا گیا ہے۔ جسٹس صاحب کے بیٹے کو ایڈوکیٹ جنرل پنجاب لگایا گیا۔ باقی کوالیفیکشنز کو تو ایک طرف رکھ دیں اس عہدے کے لیے جو کم سے کم عمر کی حد تھی وہ اس پر بھی پورا نہیں اترتے تھے۔ جسٹس رمدے بہت جلد پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے چیرمین بننے والے ہیں جہاں فنڈز کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس وقت وہ اسی پروگرام کے بورڈ آف گورنرز کے ہیڈ ہیں۔

کچھ تذکرہ جیو نیوز کا۔ اس چینل کا پرانا نام تو جیو ہی تھا لیکن اب کافی عرصے سے یہ پی ٹی وی ٹو کے نام سے جانا جاتا
ہے۔ اور وہ مشہورِ زمانہ ویڈیو کون بھولا ہوگاجس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران نوازشریف صاحب وزیرِداخلہ کو لقمے دے رہے ہیں “جیو کا نام لو، جیو کا نام لو”۔ کیا کبھی دنیا میں کبھی ایساہوا ہے کہ ایک ملک کا وزیرِ اعظم ایک پرائیویٹ ادارے کے حق میں بات کرنے کے لیےوزیرِ داخلہ کو حکم دے رہا ہے۔

کچھ بات نجم سیٹھی صاحب کی کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جتنی تنقید ان صاحب پر ہوئی ہے شاید ہی کبھی کسی پر ہوئی ہو۔ پہلے انہیں چیر مین پی سی بی لگایا گیا۔ مانا یہ بہت تجربہ کار اور جہاندیدہ آدمی ہیں لیکن ان کا زیادہ تجربہ صحافت کے حوالے سے ہےلیکن کرکٹ کے حوالے سے وہ کیا جانتے تھے اور کیا تجربہ تھا یہ میاں صاحب کو ہی پتہ تھا۔ پھر ایک لمبے عرصے تک ان کے اور ذکا اشرف کے درمیان میوزیکل چیر کا گیم چلتارہا اور یہ حد سے زیادہ متنازعہ ہوگئے اور بالآخر انھیں چیرمین پی سی بی کے عہدےسے ہٹنا ہی پڑا لیکن ستم بالائے ستم کے پھر کسی نہ کسی طرح انھیں پی سی بی کا حصہ بناہی دیا گیا۔ اب میاں صاحب کو ان میں کیا دکھائی دیتا ہے کہ اس قدر لعن طعن کےباوجود بھی سیٹھی صاحب ان کے منظورِ
نظر ہیں یہ میاں صاحب ہی بتا سکتے ہیں۔

جسٹس ریاض کیانی کی بیٹی مریم کیانی جو کے ایل-ڈی-اے میں تھیں انھیں وہاں سے ہٹاکر سی ڈی اے میں ایک انتہائی اعلٰی عہدے پر فائز کیا گیا۔ سی ڈی اے میں تعیناتی سےپہلے انھیں ایل ڈی اے میں ہی ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل ہاوسنگ کا چارج بھی دیا گیا۔ یہی تھے وہ چند حسین اتفاقات جو میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا تھا۔ عمران خان جن لوگوں کو انتخانی دھاندلی کا محور کہتے تھے ان پر “قدرت” بہت زیادہ مہربان ہوگئی۔ اب یہ حُسنِ اتفاق ہے یا کچھ اور شاید کبھی اس راز پر سے پردہ اٹھ سکے۔ تب تک فیصلہ پاکستان کے عوام خود کرلیں۔
(محمد تحسین)
https://www.facebook.com/MuhammadTahseen