امریکہ اور القاعدہ ایک ہی سکے کے دورخ

Posted on March 4, 2015



امریکہ جہاں پوری دنیا میں اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اسی طرح پاکستان بھی امریکی سازشوں سے محفوظ نہیں ہے اور اس کیلئے امریکہ اپنا پرانا ہتھکنڈا یعنی دہشتگردی کو استعمال کرتا ہے۔جہاں اسے کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہے تو فورا امریکی سفارتخانوں یا سفارتکاروں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں القاعدہ یا کسی دوسرے دہشتگرد گروہ نے دھمکی دی ہے اور اس ملک کی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہمیں تحفظ دیا جائے اور ہمیں اپنے مقصد کے تحت اپنا کام کرنے دیا جائے۔
اسی طرح ایک صورتحال پنجاب کے بڑے شہر لاہور میں پیش آئی کہ امریکہ کافی عرصے سے امریکی قونصل خانے کیلئے پنجاب حکومت سے زمین کا تقاضا کررہا تھا تاکہ قونصل خانے کو توسیع دی جاسکے۔ لیکن پنجاب حکومت نے عوامی دباؤ کے پیش نظر مسلسل انکار کرتی رہی پھر امریکی قونصل خانے نے اپنا پرانا حربہ استعمال کیا اور کہا کہ ہمیں القاعدہ کی جانب سے دھمکی ملی ہے لہذا ہمیں فورا زمین دی جائے جس کیلئے ہم مسلسل درخواست دیتے آئے ہیں ۔ادھر حکومت نے ایک اجلاس بلا کر اس دھمکی کی تحقیق شروع کردی تو چشم گشا حقائق سامنے آئے کہ یہ امریکی قونصل خانے نے خود ہی القاعدہ کی دھمکی بنا ڈالی اور مخلتف حربوں سے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔
ہو م سیکریٹری پنجاب نے وضاحت کی ہے کہ امریکی القاعدہ کی طرف سے حملہ کی دھمکی کا بہانہ بناتے ہیں جبکہ پاکستان کے حساس اداروں کے مطابق ان کی طرف سے القاعدہ کی دھمکی اپنی ہی پیدا کر دہ ہے اسلئے وہ حکومت پنجاب کو پریشر میں لارہے ہیں کہ ان کوپسند کی جگہ فراہم کی جائے جہاں پر وہ قونصلیٹ کی عمارت تعمیر کر سکیں جس پر حکومت پنجاب نے امریکی قونصلیٹ لاہور کے لئے نئی جگہ خریدنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ ہوم سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان نے وزیر اعلی پنجاب کو ایک رپورٹ بھجوائی جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی قونصلیٹ کا عملہ لاہور میں نئے قونصلیٹ کے لئے جگہ کی تلاش کے لئے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہا ہے۔ ان کے موجودہ قونصلیٹ کی جگہ ان کے عملے کے اعتبار سے پوری ہے اسلئے ان کو نئی جگہ فراہم کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
ہوم سیکرٹری پنجاب کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی قونصلیٹ کے عملے نے قونصلیٹ کے لئے نئی جگہ کی خریداری کے لئے ایک مرتبہ پھر شہر کے مختلف علاقوں کے دورے شروع کئے گئے گزشتہ ماہ امریکی قونصلیٹ کے کیون انتھم، آر ایس او یو ایس قونصلیٹ، رابرٹ ولیم پلاننگ ڈیپارٹمنٹ یو ایس قونصلیٹ، ملرڈ پیٹرک، مائیکل ایڈورڈ بیکر، ائرلین کرسٹل ونسٹن، کیتھرین کونیل نے ڈی سی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشن، اے سی شالیمار ٹاون، اور دیگر افسران سے ٹاون ہال میں ملاقاتیں کی ہیں۔
ہوم سیکرٹری پنجاب نے کہا ہے کہ امریکی آفیشل اپنے نئے قونصلیٹ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں جگہ خریدنے کے لئے ایک مرتبہ پھر متحرک ہو ئے ہیں جبکہ گزشتہ سال بھی تین مرتبہ انہوں نے جگہ خریدنے کی کوشش کی تھی جس پر ان کو انکار کر دیا گیا تھا۔ تاہم ہوم سیکرٹری پنجاب نے کہا ہے کہ امریکی القاعدہ کی طرف سے حملہ کی دھمکی کا بہانہ بناتے ہیں جبکہ پاکستان کے حساس اداروں کے مطابق ان کی طرف سے القاعدہ کی دھمکی اپنی ہی پیدا کر دہ ہے اسلئے وہ حکومت پنجاب کو پریشر میں لارہے ہیں کہ ان کوپسند کی جگہ فراہم کی جائے جہاں پر وہ قونصلیٹ کی عمارت تعمیر کر سکیں۔
اسلئے انتظامی افسران کے مطابق امریکی قونصلیٹ کی نئے قونصلیٹ بنانے کی درخواست کو انکار حکومتی فورم پر کر دیا جائے۔ ہوم سیکرٹری پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی قونصل خانے کے دھمکی کے معاملات کو حساس اداروں نے چیک کیا ہے ان کو دھمکی ملی نہیں ہے۔یہ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں امریکیوں کا ایک بہانہ ختم ہوگیا لیکن اب اسلام آباد میں سفارتخانے کیلئے زمین مانگنا شروع کردی ہے کہ وہاں ۵۶ ایکڑ پر بیرک بنائے جائیں۔دنیا میں تین ممالک میں اتنے بڑے امریکی سفارتخانے ہیں جن میں عراق پہلے نمبر پر اور دوسرا پاکستان اور تیسرے نمبر پر افغانستان میں اسی طرح کا سفارتخانہ بنانا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں امریکی سفارتخانے کی عمارت تیس سالہ پرانی ہے نئی تعمیر کرنی ہے لیکن جن مماک میں پچاس سالہ عمارتیں ہیں وہاں کیوں نئی تعمیرات نہیں ہوتیں؟ چونکہ ایران میں امریکی سفارتخانہ کھو جانے کا امریکہ کو بہت زیادہ افسوس ہے جس سے وہ پورے خطے کو کنٹرول کرتا تھا اب وہی پرانا طریقہ استعمال کرکے تمام دہشتگردوں کو پاکستان سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے ۔اس کی ایک جھلک انٹرنیٹ پر ایران میں امریکی سفارتخانے کی سرچ کرکے دیکھی جاسکتی ہے۔یہ سب بہانے ہیں اور صرف امریکہ چاہتا ہے کہ ایشیا اور ایران اور دیگر ممالک کو نزدیک سے کنٹرول کرسکے اور دہشتگردوں قریب سے امداد اور تربیت فراہم کرسکے ۔حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔