اسلام آباد اور دہلی کی جمہوریت میں فرق – تحریر: سید انور محمود

Posted on February 15, 2015



Dated: 15.2.2015

Islamabad Aur Delhi Ki Jamhureat Mey Farq
BY: SYED ANWER MAHMOOD
اسلام آباد اور دہلی کی جمہوریت میں فرق
تحریر: سید انور محمود

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ریاستی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ 6رکنی کابینہ نے بھی حلف اٹھایا۔ ہزاروں افراد نے دہلی کے رام لیلا میدان میں اس تقریب کو براہ راست دیکھا۔ اس موقع پربھارتی دارلحکومت دہلی کی سڑکوں پر جشن کا ماحول ہے ہر گلی اور ہر سڑک پر لوگ اپنی خواہش کے کامیاب ہوجانے پر جھوم رہے ہیں۔ یہ ان کا حق بھی ہے کہ وہ اس کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں اور کھل کر کامیابی کے اس جذبے سے لطف اندوز ہوں۔ مگر سیاسی شخصیات،گروپوں اور جماعتوں کے لئے تجزیہ کا وقت بھی ہے اور خاصکر ہم پاکستانیوں کوپاکستان کی سیاست کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کسطرح صرف 27 ماہ پہلے 26 نومبر 2012ء کو ایک عام آدمی اروند کیجریوال نے “عام آدمی پارٹی” کے نام سے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی اورصرف 27 ماہ کے مختصر عرصے میں پہلی مرتبہ2013ء کے ریاستی الیکشن میں 70 میں سے 28 اوراب دوسری مرتبہ 70میں سے 67نشستیں جیت لیں۔ انڈین نیشنل کانگریس جس کی سیاسی عمر 120برسوں سے تجاوز کر چکی ہے اور 15سال سے اِس صوبے کی حکمران چلی آ رہی تھی اسکا بالکل صفایا ہو گیا ہے۔ اِسی طرح بی جے پی جو 1980ء میں قائم ہوئی تھی صرف تین نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ جبکہ وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کو ابھی صرف نو ماہ ہوئے ہیں۔مرکز اور دس سے زائد صوبوں میں حکومت پر قابض بی جے پی نے دہلی الیکشن میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی، لیکن عام آدمی پارٹی کے مقابلے میں اسے تاریخ ساز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

کیجریوال نے سرکاری کرپشن کے بارئے میں جاننے کے بعد محکمۂ انکم ٹیکس میں ایک اعلیٰ افسر ہوتے ہوئے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا، وہ اَناہزارے کی کرپشن کے خلاف چلائی جا نے والی تحریک میں شامل ہوئےاورسابق ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مذاکرات کے بعد اُنہوں نےمحسوس کیا کہ عوام کی حالت میں بنیادی تبدیلی سیاسی جماعت ہی لاسکتی ہے اور اسمبلیوں میں غریب اور درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کا پہنچنا بہت ضروری ہے، چنانچہ اُنہوں نے 2012ء میں “عام آدمی پارٹی” بنائی ، اُسے منظم کیا اور ایک سال بعد ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا اور “جھاڑو” کا انتخابی نشان حاصل کیا۔ پہلی ہی مرتبہ میں کامیابی تو ملی لیکن آزادی نہیں کیونکہ کیجریوال کانگریس کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ کیجریوال نے جب اپنے اہداف کی راہ میں اپنے اقتدار کی شریک کارکانگریس کی کرپشن کے خلاف لوک پال بل میں رکاوٹیں دیکھیں تو اُنہوں نے صرف 49 دن حکومت کرنے کے بعد وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دیدیا۔ کیجریوال پر بہت تنقید ہوئی اور ان کے کئی ساتھی پارٹی چھوڑ گئے۔ 2014ء کے انتخابات کے بعد جس میں “عام آدمی پارٹی” کے 414 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگیں تھیں بھارتی سیاسی تجزیہ نگاروں نے اپنے تجزیوں میں صاف صاف کہہ دیا تھاکہ کیجریوال کا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا ہے جبکہ کیجریوال نے عام آدمی کے ساتھ اپنا ناطہ جوڑئے رکھا۔اُس نے اپنے ناراض ووٹروں سے دہلی کی سرکار چھوڑنے پرمعافی بھی مانگی اورایک مرتبہ پھردہلی کی ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں دوبارہ حصہ لینے کا اعلان کردیا۔

کیجریوال نے سستی بجلی،مفت پانی،نئے کالجز اور یونیورسٹی کا قیام،کچے مکانوں کو پکے مکانوں میں تبدیل کرنے،رشوت خوری ختم کرنے اور صاف شفاف سیاست کا وعدہ کیا ہے،۔ اس کیلئے عام آدمی نے عام آدمی پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔عام آدمی پارٹی نے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو امیدوار بنایا اورجن وعدوں نے نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ان میں اہم ترین وعدہ یہ تھا کہ تمام پبلک مقامات پر انٹرنیٹ کی سہولت (وائی فائی سروس) مفت فراہم کی جائے گی اوردہلی کے مضافاتی علاقوں میں نئے کالج بنائے جائیں گے۔ بجلی اور پانی کے بلوں پر سبسڈی دینے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ ہر امیدوار سے یہ حلف لیا گیا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد سرخ بتی والی کوئی گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ بلاضرورت سیکورٹی نہیں لے گا، بڑے بنگلے میں نہیں رہے گا اور کرپشن کے خلاف بل کی حمایت کرے گا۔ عام آدمی پارٹی کی طرف سے نہ ہی کوئی مذہبی نعرہ لگایا گیا اور نہ ہی کسی انقلاب کی بات کی گئی، صرف لوگوں کے بنیادی مسائل پر بات کی گی اور یہ ہی اُسکی جیت کا راز ہے۔

بی جے پی جسکےبارئے کہا جاتا تھا یہ پارٹی اقتدار کے لیے اپنے اصولوں سے دست بردار ہو ہی نہیں سکتی،اس کی قلعی دہلی اسمبلی کےانتخابات سے قبل ہی اترچکی تھی۔ گجرات کے سابق وزیراعلی نریندرمودی نے نو ماہ قبل بھارتی پارلیمینٹ کاالیکشن جیتنے کے بعداور وزیراعظم بننے کے بعدیہ سمجھ لیا تھا کہ اب شاید بی جے پی ناقابلِ شکست ہے۔مودی انتخابات میں عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کر کے بھارت کو ہندو ریاست بنانے میں لگے تھے۔ بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے،مہنگائی کم کرنے، بدعنوانی کا سدباب کرنے، بے روزگاری ختم کرنے کے لئے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے وعدے بھول چکے تھے۔اچھی حکومت، سب کی ترقی کا وعدہ کرنے والی بی جے پی سرکار ان وعدوں سے توجہ ہٹاکرلو جہاد،نفرت کی سیاست، اقلیتوں کو خوف زدہ کرنے اور بھارت کے بڑئے سرمایہ داروں کو نوازنے میں لگی ہوئی تھی۔دہلی اسمبلی الیکشن کے دوران ہی عیسائی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہے، مسلمانوں کے خلاف بیان بازیاں ہوتی رہیں لیکن مودی حکومت مجرمانہ طور پر خاموش رہی۔

بھارت کی آزادی کے بعد سے بھارت کا سیاسی نظام بھارتی سیاستدان چلا رہے ہیں جبکہ پاکستان اپنی آزادی کے بعد سے ابتک چار مرتبہ فوج کی حکمرانی میں رہا ہے، جسکی وجہ سے آجتک پاکستان میں سیاسی استحکام نہ آسکا ہے۔ بھارت میں سیاسی استحکام ہونے کی وجہ سے اُسکےمثبت نتائج میں سب سے پہلی چیز یہ ہوئی کہ انتخابات کے نتایج پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی اور انتقالِ اقتدار اور نئی بننے والی حکومتیں بغیر کسی اختلاف یا تنازعے کے ریاستی انتظامات کو ہاتھ میں لیتی ہیں۔ پاکستان میں آجتک سوائے 1970ء کے ہر انتخاب کے پیچھے دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے کبھی آئی جے آئی اور کبھی ایم ایم ائے بنائی جاتی ہے، مسلم لیگ تو ائے سے زیڈ تک موجود ہیں، ایوب، ضیاء اور مشرف اپنی مرضی کے انتخابی نتایج بنواتے رہے اور نام نہادمسلم لیگ کے زریعے اقتدار پر قابض رہے اور اس جرم میں پاکستان کے تمام سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔پاکستان میں سیاست ایک کاروبار ہے، باپ کےبعد بیٹا ہی سیاسی پارٹی کا رہنما ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایک عام آدمی پارٹی کی ضرورت ہے جو سیاست کو نہ تو مذہبی تجارت بنائے اور نہ ہی اپنی تجارت کو ترقی دینے کا زریعہ، کسی انقلابی نعرئے کے بھی ضرورت نہیں بس عوام کے ووٹ کی طاقت سے عوام کے مسائل حل کرئے لیکن یہ تب ہی ہوگا جب انتخابات سو فیصد شفاف ہوں۔پاکستان میں جب تک شفاف انتخابات کا نظام مستحکم نہیں ہوتا نہ ہی پاکستان ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی انتظامی اور سیاسی معاملات میں سے کرپشن کو ختم کیا جاستات ہے۔پاکستان میں اگر کوئی عام آدمی پارٹی وجود میں آبھی جائے تو اس کرپٹ انتخابی نظام میں اُسکا جیتنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا اور یہ ہی فرق ہے اسلام آباد اور دہلی کی جمہوریت میں۔