امریکی ہتھیار(اختلافات کا بیج) / قدوسی

Posted on February 14, 2015



امریکی ہتھیار (اختلافات کا بیج) / قدوسی
استعمار نے کس طرح اسلامی دنیا میں فرقہ واریت اور تکفیر کا بیج بویا اور اس کے ذریعے اپنے پہلے سے معین شدہ مفادات کو حاصل کیا۔جن میں سے ان علاقوں کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ہم یہاں اسکے بیرونی اسباب کے متعلق بحث کریں گے۔
اسلامی ممالک میں فرقہ واریت کا بیج بونےکیلئے چند ایک چیزیں امریکی پالیسی کیا حصہ ہیں جیسے،شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا،مسلمان قبائل اور گروہوں کو بھڑکانا۔لائیک،اسیکولر اور ناجائز حکومتوں کی سرپرستی کرنا،افواہیں پھیلانا،پراپیگنڈا کرنا،مسلمانوں کو باہمی آشنائی سے روکنا،اختلافات کو بڑا کرنا ،اختلافی کتب کو منشر کرنا شامل ہے۔اس کے برعکس مشترکات پراعتماد،مسلمان ملکوں کو نزدیک کرنا،دشمن کی دھمکیوں کے مقابلے میں اسلامی معاشروں کو تقویت کرنا،امت واحدہ کی تشکیل،علماء کا تعاون،اپنی اور دشمن کی مکمل پہچان،اسلامی دنیا میں اتحاد و وحدت قائم کرنے میں مددگار ہیں۔
بے شک امریکیوں کیلئے جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ اسلام کے دو بڑے ستون شیعہ اور سنی میں اختلاف کی آگ بھڑکانا ہے۔اور اس سے انکا اصلی ہدف اور مقصد اسلام کی نابودی ہے۔اگر امریکی دین اسلام کی ایک خاص تشریح کو قبول اوراسکی تبلیغ کرتے ہیں اور دوسری کی مخالفت کرتے ہیں تو اسکا مقصد یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کو اپنی طرف جذب کرکے انہیں اپنے اہداف کیلئے وسیلہ بنایا جاسکے۔دشمن کی طرف سے ایک خاص گروہ یا فکر کی تائید کرنے کے حوالے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انکا مقصد دین اسلام ہے اور وہ اس طریقے سے نابود کرنا چاہتے ہیں،جیسے ہی دین مبین اسلام کی نابودی کی بنیاد بنے گی یہ اسے نابود کرنے میں اسے ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کریں اور اسکے ساتھ وہی کریں گے جو انہوں نے ماضی میں اندلس میں انجام دیا تھا۔
اگر ہم تھوڑا سوچیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اسلام کے دو بڑے ستون شیعہ اور سنی ہیں اور ایک گروہ جسے ان دونوں کی تکفیر کی ذمہ داری سونپ دی ہے اور مخصوص فکر کو پوری دنیا میں ہتھیار کے طور پر پھیلایا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں وفاقی وزیر سید ریاض پیرزادہ نے کہا کہ سعودی عرب اپنے پیسے سے پاکستان سے لیکر بوسنیا تک آگ لگانا ہے اور مخصوص سوچ کو نافذ کرنا ہے۔مخصوص سوچ کے حامل افراد اور مدارس کو سعودی امداد فراہم کی جاتی ہے لیکن سرکاری طور پر کم اور غیر سرکاری طور پر بے بہا پیسہ دیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کی تکفیر کی جاسکے۔اس سے قبل امریکی ایما پر سعودی عرب نے افغان جہاد کی داغ بیل ڈالی اور آج تکفیر کی گولی سے کھیل رہا ہے۔ شیعہ اور سنی چودہ سو سال سے اکٹھے زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ایک دوسرے کی خوشی غمی کے شریک ہیں۔دشمن کا ید واحد کی طرح مقابلہ کیا ہے۔وہ ایک دوسرے سے شادیاں بھی کرتے ہیں اور ہنسی خوشی رہتے ہیں۔پس ہمیں سوچنا چاہیئے کہ اس فرقہ واریت جسے دشمن سالہا سال سے اور امریکہ عصر حاضر میں اسے کنٹرول کررہا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔جسکا سب سے زیادہ نقصان ہم مسلمانوں کو ہی ہوا ہے اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور اتحاد اور وحدت کیلئے انتہائی جدوجہد کریں اور اسے اولویت دیں تب ہی ہم دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کر پائیں گے ورنہ وہ ہمیں تنہا اور کھوکھلا کرکے نابود کردے گا۔