پاکستان کا مطلب کیا؟ – محمّد تحسین

Posted on February 11, 2015



پاکستان کا مطلب کیا؟
_____________________
By: Muhammad Tahseen

پاکستان، ایک ایسا ملک جو چھ لاکھ انسانوں کا خون بہنے کے بعد وجود میں آیا۔ جس کا نام پاکستان یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ رکھا گیا، جس کو مملِکتِ خداداد بھی کہا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریاستِ مدینہ کے بعد یہ وہ پہلی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی۔ ایک واحد ملک جو رنگ، نسل یا زبان کے نام پر نہیں بلکہ ایک نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس ملک کے بانی نے کہا تھا کہ یہ ملک ایک ایسی تجربہ گاہ ہوگی جس میں اسلام کے اصولوں کو آزمایا جائے گا۔ ایک ایسا خطہ زمین جس کے بارے میں خواب دیکھا گیا تھا کہ وہاں کا دستور قرآنِ پاک ہوگا۔ ایک ایسا ملک جس کو حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سے تشبیہ دی گئی۔ اور ایک ملک جس کا تعلق لیلتہ القدر سے جوڑا جاتا ہے۔

یہ تو وہ خواب تھے جو دیکھے گئے، جو دکھائے گئے اور جو ابھی بھی دیکھے جاتے ہیں. لیکن اگر اس ملک کی ستر سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ اس ملک کے بانی کو جس نے ٹی- بی جیسے مرض کو دنیا سے اس لیے پوشیدہ رکھا کہ کہیں دشمن ان کے مرنے کے انتظار میں برِ صغیر کی تقسیم کو موخر نہ کردیں. انھیں سلو پوائزنگ کے ذریعے قتل کیا گیا اور ان کی میت کو لے جانی والی ایمبولینس خرابی کی وجہ سے گھنٹوں سڑک پر کھڑی رہی۔ جس کے پہلے وزیرِ اعظم اور تحریکِ پاکستان کے اہم کارکن لیاقت علی خان کو بھرے مجمے میں گولی ماردی گئی اور قاتل کو پکڑنے کی بجائے اسے بھی اسی لمحے موت کی نیند سُلا دیا گیا اور آج تک ان کے قتل سے پردہ نہ اٹھ سکا۔ یہ ملک کئی سال تک سرزمینِ بے آئین بنا رہا اور قیام کے صرف گیارہ سال بعد مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔ قائدِ اعظم کی بہن جنہیں ہم مادرِ ملت بھی کہتے ہیں انھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف الیکشن لڑا تو ان نا صرف ان کو ہرایا گیا بلکہ مادرِ ملت کہلانے والی اس خاتون کی اس طرح بے عزتی کی گئی کے کتیا کے گلے میں لالٹین ڈال کر شہر شہر گھمایا گیا کیونکہ مادرِ ملت کا انتخابی نشان لالٹین تھا۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کو بھی بدترین تشدد کرکے قتل کیا گیا اور ان کے قتل کو طبعی موت قرار دے دیا گیا۔

وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے لیکن اس کا آدھا حصہ قیام کے صرف چوبیس سال بعد گنوا دیا گیا اور وجہ یہ تھی کہ الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے جماعت کو حکومت بنانے نہیں دی گئی ۔ اسلام کے نام پر بنے ملک میں صرف چوبیس سال بعد زبان کی بنیاد پر اِدھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگا دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک اکثریت کسی اقلیت سے علیحدہ ہوئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا ۔ اس ملک میں ہمیشہ نت نئے تجربات ہوتے رہے۔ کبھی نیشنلائزیشن تو کبھی پرائیوٹائزیشن، کبھی مارشل لاء تو کبھی نام نہاد جمہوریت۔ خواب ٹوٹتے چلے گئے اور نظریے کے بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک مسلکوں، فرقوں، زبانوں، صوبوں اور نسلوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا۔ ایک ایسا ملک جس کو اسلام کے اصولوں کو پرکھنے اور نافذ کرنے کی تجربہ گاہ بننا تھا وہاں اسلام کے نام پر ہی قتل و غارت گری کا ایسا بازار گرم کیا گیا کہ ستر ہزار انسان لقمہءِ اجل بن گئے۔ مسلمانوں کو فرقے کی بنیاد پر شناختی کارڈ سے نام پڑھ پڑھ کر اور بسوں سے اتار اتار کر ذبح کیا جانے لگا۔

کٹے ہوئے انسانی سروں سے فٹبال کھیلا گیا، لاشوں میں بارود بھر کا انھیں آگ لگا کر ان کا ناچ دیکھا گیا۔ ناموسِ رسالت کو پراپرٹی پر قبضے اور لین دین کے جھگڑوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے ناموسِ رسالت کا قانون بنایا گیا نوے فیصد مقدمات جعلی بنائے گئے۔ شبِ قدر میں وجود میں آنے والے ملک کی مساجد کے باہر پولیس کے پہرے ہیں، مزارات کو بموں سے اڑا دیا جاتا ہے، سکولوں میں بچے تک محفوظ نہیں رہے۔ اقلیتوں کی بستیوں کی بستیاں جلا دی جاتی ہیں۔ موضوعِ بحث یہ ہے کہ کیا ستر ہزار مقتول جنتی ہیں یا ان کے قاتل۔ قاتل اور ان کے ہمدرد کھلے عام شہروں میں دندناتے پھرتے ہیں۔ دین کو کاروبار بنا لیا گیا ہے اور مدارس کو کمائی کا ذریعہ۔ ہر شخص اپنے نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کو کفر کے سرٹیفیکٹ بیچتا پھرتا ہے۔

یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں ہیر ریموونگ پاؤڈر سے دودھ بنایا جاتا ہے، آٹے میں ریت اور سیمنٹ ملایا جاتا ہے۔ چائے کی پتی چنے کے چھلکے اور لکڑی کے برادے سے بنتی ہے۔ لال مرچوں میں اینٹیں پیس کر ملائی جائی ہیں۔ گھی اور کوکنگ آئل مردہ جانوروں کی انتڑیوں اور ہڈیوں سے بنایا جاتا ہے، چینی کی جگہ سکرین استعمال کی جاتی ہے، جہاں کے ڈاکٹر مریضوں کے گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں، مسلمان قصاب مسلمانوں کو ہی گدھے کا گوشت فروخت کرتے ہیں، جہاں جان بچانے والی ادویات بھی جعلی بنائی جاتی ہیں، جہاں کا قانون اور انصاف برائے فروخت ہوتا ہے۔ رشوت کو چائے پانی کہا جاتا ہے اور قابلیت کا معیار سفارش ہوتی ہے۔ جہاں کا مُلا مسجد کے منبر سے نفرت کا پرچار کرتا ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں سال کا آدھا حصہ سیلاب اور آدھا خشک سالی میں گذرتا ہے۔ جوا، شراب خانے اور فحاشی کے اڈے قانون کے محافظوں کی نگرانی میں چلتے ہیں۔ جہاں چوری اور بھتہ خوری میں پولیس حصہ دار ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں سب سے منافع بخش کاروبار اغوا برائے تاوان اور بینک لوٹنا ہے۔

ایک ایسا ملک جس کے لوگوں کا تکیہ کلام ماں، بہن کی گالیاں ہوں، دو دو سال کی بچیوں کا ریپ کیا جاتا ہو، انٹرنیٹ پر فحش مواد کی سرچنگ اور خواتین پر تیزاب پھینکے میں پہلا نمبر ہو، جہاں کے نوجوان جب بھی مل بیٹھتے ہوں تو ان کا موضوعِ بحث دوسروں کی بہنیں بیٹیاں ہوں جبکہ خود ان کے گھر پر خواتین ماں، بہن اور بیٹی کی شکل میں موجود ہوں، جہاں مائیں غربت کے ہاتھوں اپنے بچوں سمیت نہروں میں کود جائیں اور باپ اپنے بچوں کو فروخت کرنے سرِبازار پہنچ جائیں، جہاں ملازمت پیشہ خواتین کو بدکردار سمجھا جاتا ہو، بھوک کے ہاتھوں تنگ کوئی حوا کی بیٹی گھنگرو باندھ لے تو طوائف اور اسے نچانے والے اور نیلام کرنے والے شہر کے شرفاء کہلائیں۔ جس ملک کے حکمران اس کے کرپٹ، اور نااہل ترین لوگ ہوں، جن کے اپنے گھر بار اس ملک سے باہر ہو، وہ علاج بھی باہر سے ہی کرواتے ہوں، ان کے بچے تعلیم بھی بیرونِ ملک حاصل کرتے ہوں لیکن وہ حکمرانی اس ملک میں کریں۔

کیا اس سے پہلے دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسی قوم گذری ہے یا دنیا کے نقشے پر کسی ایسے ملک کا وجود رہا ہے؟ کیا یہی ہے وہ ملک جس کے لیے چھ لاکھ انسانوں نے اپنی جان کی قربانی دی؟ کیا یہی ہے مملکتِ خداداد؟ کیا یہی ہے صالح علیہ السلام کی اونٹنی؟ کیا یہی ہے ریاستِ مدینہ کا نمونہ؟ کیا یہی ہے شبِ قدر میں وجود میں آنے والا ملک؟ کیا یہی ہے پاکستان؟ آخر پاکستان کا مطلب کیا ہے؟
(محمد تحسین)