مشرق وسطی میں امریکی مداخلت کے اسباب / فتح علی

Posted on February 11, 2015



پوری دنیا جانتی ہے اور اگر نہیں جانتے تو ہم نہیں جانتے اگر نہیں جانتے تو پاکستانی حکمران نہیں جانتے اگر نہیں جانتے تو پاکستانی سیاستدان نہیں جانتے کیا واقعا اایسا ہی ہے یا کوئی اور بات ہے وہ کون سی بات ہے جسے پوری دنیا جانتی ہے آئیں آپ بھی جان لیں امریکا اور اس کے حواری جانتے ہیں ، کہ اگر ایک دفعہ روس کو گرم پانی تک تجارت کا موقع مل گیا تو پھر امریکا کے لئے اپنی اجارہ داری اور گرفت قائم رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ اگرچہ امریکا نے اب افغانستان میں اپنی دس ہزار فوج مستقل رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، بھارت کو بھی تھانیداری دی جا رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان کے ذریعے روسی تجارت کا خواب ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہتے ہیں، انہیں یہ بھی علم ہے کہ پاکستان بھی محض مالی مشکلات کی وجہ سے بحران کا شکار ہے، اس لئے وہ ورلڈ بنک‘ آئی ایم ایف اور امریکا کی تمام شرائط قبول کرنے پر مجبور ہے۔
اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر گوادر پورٹ فنکشنل ہو گئی ،گوادر اور آس پاس کے علاقوں میں انڈسٹری اور کارخانے قائم ہو گئے، پاکستان نے بلوچستان میں موجود معدنیات کے خزانوں سے خود فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو پاکستان کبھی بھی آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور امریکا کی ناجائز شرائط تسلیم نہیں کرے گا۔ چنانچہ ان عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے عالمی قوتوں نے پاکستان میں نئے کھیل کا آغاز کر دیا۔
وطن عزیز کو غیر مستحکم رکھنے کے پلان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، پاکستان کی اقتصادیات اور معاشیات کو خاص دباؤ کا شکار کر دیا گیا ہے، عوام کے مختلف طبقات کے درمیان خلیج وسیع کر دی گئی ہے، مختلف طبقات کے مابین بہت زیادہ عدم توازن پیدا ہو چکا ہے، اکانومی بھی عدم توازن کا شکار ہے۔’’گریٹ گیم‘‘ شروع ہو چکی ہے، تقریباً تمام پاکستانی کسی نہ کسی طرح اس گیم کا حصہ بن چکے ہیں۔
ملک میں انتشار اور افراتفری نظر آ رہی ہے، ہر طرف بے چینی، نفسا نفسی اور بے یقینی کا دور ہے، لوگ جتھوں اور گروہوں میںبٹ چکے ہیں، ان جتھوں اور گروہوں کی اپنی ایک سوچ ہے، پاکستانی قوم کے متحد نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی قوتوں اور ملک دشمن طاقتوں کو اپنے عزائم کی تکمیل میں بڑی آسانی ہو رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پوری قوم آپس میں متحارب ہے، ایسے حالات میں بڑے سے بڑا لیڈر بھی ملک و قوم کے مفادات کے لئے کھل کر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ کوئی راہنما کھل کر قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ نہیں کر سکتا کہ وہ امریکا‘ نیٹو اور ایساف ممالک کے غیض و غضب کا شکار نہیں ہوناچاہتا، ایک کمزور ملک میں کسی بھی طاقت کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ملک کے دفاع کے ذمہ دار ادارے‘ سیاسی و جمہوری قوتیں‘ دانشور‘ اہل اقتدار و اہل اختیار اور عوام مل کر اپنی منزل کا تعین کریں، اپنی پالیسیاں واضح کر دیں، پوری قوم کو اعتماد میں لے کر منزل کا اعلان کیا جائے، سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم کو متحد کیا جائے، اپنی ترجیحات کا تعین کیا جائے اور قوم کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے کہ ہمارا لائحہ عمل اور منزل کیا ہو گی؟ اس وقت پوری قوم اور ملک ابہام، غیر یقینی اور غیر واضح صورتحال سے دور چار ہے، ہمیں ایک قوم کی طرح اپنے راستوں کا تعین کرنا پڑے گا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے گوشے گوشے سے مختلف صدائیں بلند ہو رہی ہیں، ملک میں انتشار و خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہو رہا ہے۔ کراچی کے حالات دگر گوں ہیں، ہر طرف لاقانونیت‘ افراتفری‘ بے چینی‘ مفاد پرستی اور لوٹ کھسوٹ ہے، ساری قوم اضطراب اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
مشہور صوفی بزرگ ابو انیس صوفی برکت علیؒ کہا کرتے تھے کہ ’’ایک وقت آئے گا کہ دنیا کے فیصلے پاکستان کی سرزمین سے ہوں گے۔‘‘ اگر پاکستان کا محل وقوع ذہن میں رکھا جائے اور اس ملک کے وسائل اور افرادی قوت کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بات بالکل ایک حقیقت نظر آتی ہے۔ مگر پاکستانی عوام بہت سادہ لوح ہیں، اپنی سادگی کی وجہ سے بہت جلد دوسری قوتوں کا چارہ بن جاتے ہیں، انہیں اپنی اہمیت کا احساس نہیں ہے، اپنے آپ کو ’’کیش‘‘ کروانا نہیں آتا، جس دن قوم اپنی منزل کا تعین کر کے متحد ہو گئی، اسی دن سے طاقت کا توازن تبدیل ہونا شروع ہو جا ئے گا، ہم فیصلہ کرنے والے بن جائیں گے۔
عالمی قوتیں بھی پاکستان کی خوشنودی کی محتاج ہوں گی، مگر یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب پاکستانی رہنما عقل و فہم اور بصیرت کا مظاہرہ کریں گے‘ دنیا کودکھانا پڑے گا کہ پاکستانی ’’آلہ کار‘‘ نہیں ’’اعلیٰ‘‘ قوم ہے ۔ مگر پاکستانی راہنما اپنی انا کے اسیر ہیں وہ حالات کی نزاکت نہیں سمجھتے‘ انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ ’’دو‘‘ کی لڑائی میں ہمیشہ ’’تیسرا‘‘ فائدہ اٹھاتا ہے مگر ہم اتنے نااہل ہیں کہ دو عالمی قوتوں کی لڑائی میں بھی فائدہ کی بجائے نقصان اٹھا رہے ہیں. ایسا کیوں ہے اس لئے کہ ہمیں اور ہمارے سیاستدانوں کو نہ ملک سے محبت ہے نہ اپنی ملت اور قوم سے ۔