امریکی حکمت عملی اور ایران کا منہ توڑ جواب / ڈاکٹر شاہد عباس

Posted on February 11, 2015



ایران میں اسلامی جمہوری انقلاب کے اوائل ہی میں امریکہ کا عراق میں بٹھائے اپنے پٹھو اور درجنوں اتحادی ممالک کے ذریعے ایران پر حملے کا مقصد اسلامی انقلاب کا ابتدا ہی میں گلا دبانا تھا لیکن جب ایران کے عوام نے دس سالہ مسلط جنگ میں عظیم الشان دفاع مقدس کا فریضہ سر انجام دیا تو امریکہ نے نیا حربہ یعنی اقتصادی پابندیاں اور مشرق وسطی میں اپنے نفوذ کی حکمت عملی کو اپنایا- اس وقت پابندیوں کی یہ حالت تھی کہ کوئی ملک ایران کو خاردار تار تک دینے پر آمادہ نہ تھا ۔لیکن بانی انقلاب اسلامی نے ان پابندیوں کو ایرانی قوم کے لئے نعمت سے تعبیر کردیا کہ اس طرح ایرانی قوم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خودکفیل ہو جائے گی انقلاب اسلامی کی بابصیرت قیادت نے خاردار تار تو کیا زمین سے لے کر خلا تک کو مسخر کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ہر زمانے کے مسائل کا حل ہے، چاہے وہ پہلی صدی ہجری ہو یا اکیسیویں صدی- اِس وقت ایران پر اقتصادی پابندیوں کے جو منفی اثرات دکھائی دے رہے ہیں – امریکہ کی قیادت میں ایران کے اقتصادی محاصرے کے لیے اس کے جوہری پروگرام کو بہانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایران بارہا اعلان کرچکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اقتصادی مقاصد کے لیے ہے۔ علاوہ ازیں ابھی تک کسی عالمی ادارے کو اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مغرب کا تمام تر پراپیگنڈہ اور اقدامات فقط امکان اور احتمال کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ وہ این پی ٹی پر دستخط کے بعد عالمی قوانین کے مطابق حق رکھتا ہے کہ وہ سول مقاصد کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دے۔ علاوہ ازیں ایران کی ایٹمی تنصیبات عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے لیے کھلی ہیں اور اس کے نمائندے مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے نزدیک تنزل پذیر یورپی اقتصادیات ایران پر نئی پابندیوں کے نتیجے میں خود بھی مزید متاثر ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے یورپی سیاستدان اور دانشور یورپی قیادت کو امریکہ کی اندھی پیروی کے نتائج سے خبردار کر رہے ہیں۔ یورپ کے کئی ملکوں میں لوگ اپنے حکمرانوں پر امریکی پٹھو ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ سوال اہمیت کا حامل ضرور ہے کہ مسلم ممالک میں پاکستان کے بعد عراق، ایران اور لیبیا کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کی جو حکمت عملی کئی سال پہلے وضع کی گئی تھی اس کا مقصد کیا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو ایٹمی طاقت اِس لیے نہیں بننے دیا جائے گا کہ عالمی سطح پر تیل کے وسائل سے لے کر ترسیل کے عمل تک، اِن اسلامی ایٹمی قوتوں کی مکمل اجارہ داری نہ قائم ہو جائے، اِس خوف نے شاید امریکا سمیت دیگر مغربی اور بڑی طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہو۔
چند برس قبل جب مغربی ممالک نے ایران پر پابندیاں لگائیں تو ایران کی برآمدات 6 ارب ڈالر تھیں لیکن گذشتہ برس یہ بڑھ کر 18 ارب ڈالر ہو گئی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی صنعت کاروں کی ہمت سے آئندہ تین برسوں میں 60 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ایران کی صنعتی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا ہے اور آج ایرانی برآمدات ملک کے لئے باعث افتخار ہیں۔ مغربی ممالک ایران میں صنعتی، پٹرولیم اور گیس کے کارخانے نہ بنانے کے مختلف بہانے کرتے ہیں لیکن اس سے قبل مغربی ممالک ایران کے پیسے سے ایران کے لئے کام کیا کرتے تھے لیکن اپنے غیر قانونی مطالبات منوایا کرتے تھے۔ دشمن کا کینہ اور مخاصمت ایران کی ترقی کی وجہ سے ہے اور ساری دھمکیاں، سیاسی دباﺅ اور مغرب کی پابندیاں ایران کو صنعتی مرکز بننے سے روکنے کیلئے ہیں۔ ایران پر مغربی پابندیوں کے نتیجے میں عام ایرانی روز مرہ کی بعض اہم ضروریات سے محروم ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مغرب جانتا ہے کہ اس کے اقدامات کے غیر انسانی اثرات بیمار لوگوں پر پڑیں گے۔ ان پابندیوں سے ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ ایرانی مریض متاثر ہو رہے ہیں، جن میں خاص طور پر کینسر، تھیلیسمیا، ایم ایس اور دل کی بیماریوں میں مبتلا مریض قابل ذکر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 50 قسم کی شدید ضرورت کی ادویات پر ان پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے۔
ایران نے ہرسطح پر پابندیوں کے باوجود ملکی امور اور بالخصوص اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھ کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ایران کی جانب سے آب نائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی سے تیل کا عالمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ تو اپنی جگہ مگر دوسری جانب خلیج فارس کی ریاستوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی معطل کی جا سکتی ہے کیونکہ سعودی عرب، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بیش تر حصہ آب نائے ہرمز کے راستے ہی درآمد کیا جاتا ہے۔ اِس دھمکی کے بعد اِن ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے میگا پاجیکٹس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ کچھ مبصرین کے مطابق اِن منصوبوں کی تکمیل تک ایران پر پابندیاں تو جاری رکھی جائیں گی مگر فوجی جارحیت کا خطرہ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک مول نہیں لیں گے۔ ایران اقتصادی پابندیوں سے کس طرح نبردآزما ہوتا ہے؟ اس بارے میں موجودہ ایرانی حکومت کے موقف کو اور یورپی یونیئن اور امریکا کے سخت اقدامات کو گہری نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ خطے میں ایران پر عسکری جارحیت کے بالواسطہ اور بلاواسطہ منفی اثرات پاکستان پر بھی بہ ہرحال مرتب ہوں گے جس کا پاکستان ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا امریکہ کا خیال ہے کہ ایک سال سے پہلے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فوری فوجی کارروائی ضروری ہے کیونکہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے ۔ خطہ کے حالات کا تجزیہ کرنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی تعاون اور آشیرباد کے بغیر اسرائیل اپنے طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تا ہم وہ امریکہ کا انتہائی قریبی حلیف ہونے کے ناطے اور مغربی ممالک کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے بل بوتے پر ایران کے خلاف بہرحال عسکری کارروائی اور مہم جوئی کی فاش غلطی کا ارتکاب کر سکتا ہے ۔
ایران کے ایٹمی پروگرام نے اسرائیل اور اس کے حواریوں کی راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ تہران کو ایٹمی طاقت بننے سے ہر قیمت پر روکا جائے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اب اس منزل پر آ پہنچا ہے جہاں اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی روکا جا سکتا ہے ۔ گویا اسرائیل کی قیادت کے بیانات محض ایسی گیدڑ بھبکیاں ہیں جو دراصل ان کے داخلی خوف و ہراس اور خدشات کے سوا کچھ نہیں ۔