امریکیات؛ خصوصی مضمون ، محسن ظہیر

Posted on February 11, 2015



امریکیات

آزادی صحافت : امریکہ سے محسن ظہیر
[email protected]

امریکہ کا سیاسی نظام بہت پچیدہ ہے ۔ شاید پچیدہ اس لئے بھی لگتا ہے کہ اسے جب پہلی نظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوتی۔نظام کو سمجھنے کے لئے فکر کی اُس گہرائی میں غوطہ زنی کرنا ہو تی ہے کہ جس گہرائی کی حد سے بھی کہیں دور جا کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بانیوں نے صدیوں پہلے نظام کو تشکیل دیا ۔ یہ نظام ترامیم اور اصلاحات کے مراحل سے گذرا اور گذررہا ہے ۔اس نظام کے حامی اور مخالف صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ امریکہ میں بھی موجود ہیں ۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نظام کامل نہیں ہوتا ۔ صرف چند دہائیوں قبل کے( کالے گورے کی تمیز سمیت دیگر امتیازی روئیوں پر مشتمل) امریکی نظام کی کسی بھی مہذب نظام سے برابری نہیں کی جا سکتی تھی لیکن جن معاشروں میں بصیرت اور دوراندیشی کیساتھ غور و فکر کا عمل جاری رہتا ہے وہاں اصلاح کا عمل بھی جاری رہتا ہے ۔

نظام کو چلانے والی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والے کو ایک انتہائی باریک چھاننی سے گذارا جاتا ہے تاکہ ’’گاڑی‘‘بھی محفوظ رہے اور اس میں بیٹھے ’’مسافر‘‘ بھی ۔بڑی مثالیں موجود ہیں ، ایک حالیہ مثال امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری کی ہے ۔ دو ہفتے قبل وہ اپنے سرکاری فرائض منصبی کی ادائیگی کے لئے بیرون ملک دورہ پر تھے ۔ اس دوران ان کے آبائی شہر بوسٹن میں شدید برفباری ہوئی ۔ شہر کے مئیر نے سختی سے اعلان کررکھا تھا کہ ہر شہری کو اپنے گھر کے آگے سے راہگیروں کیلئے اپنے اپنے گھر کے سامنے والا فٹ پاتھ کا حصہ خود صاف کرنا ہوگا۔جن جن شہریوں نے اپنے گھر کے سامنے سے برف صاف نہیں کی ، انہیں سٹی گورنمنٹ کی جانب سے جرمانہ ہوا ۔ عام شہریوں کی طرح امریکی وزیر خارجہ کو اس کے شہر کی میونسپل کمیٹی نے جرمانہ کیا جو کہ انہوں نے ادا بھی کیا

آج میرا موضوع امریکی نظام کی وکالت یا اس پر لیکچر دینا ہر گز نہیں ۔سیاسیات اور صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے بعض خبروں پر میری سوئی اٹک جاتی ہے ۔ جب سوئی اٹک جاتی ہے تو میں یہاں کے سیاسی نظام پرغور کرنا شروع کردیتا ہوں ۔ اس نظام کو میں نے ’’امریکیات‘‘ کا نام دے رکھا ہے ۔ ریاضیات ، معاشیات، طبیعات، سیاسیات ، فلکیات وغیرہ وغیرہ کی طرح امریکیات بھی ایک علم ہے ۔ جب کسی سوال کا جواب نہیں ملتا تو امریکیات سے رجوع کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ علم ہے کہ جسے مفکرین تھنک ٹنکوں کی بیٹھ کرتشکیل دیتے ہیں ۔ تھنک ٹنک والے دنیا و جہان سے صاحب علم و صاحب معلومات کو مدعو کرکے ان کے لیکچر سنتے ہیں ۔ ایسے دو لیکچر میں نے بھی سن رکھے ہیں۔ ایک سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کا امریکی ریاست کنکٹی کٹ میں اور دوسرا پنسلوینیا میں سابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کا جنہیں لیکچرز دینے کا ہزاروں ڈالرز معاوضہ ادا کیا گیا تاکہ تھنک ٹنک میں بیٹھے مفکرین علم کے خزانے بھر سکیں ۔پھر یہی خزانے ذریعہ بنتے ہیں اہم قومی و عالمی امور پر رہنمائی کا اور ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کا جن پر دماغ کی سوئیاں جا کر اٹک جاتی ہیں
میرے دماغ کی سوئی آجکل امریکہ اور اسرائیل (یاامریکی صدر براک اوبامہ اور اسرائیل وزیر اعظم نتن یاہو کے) تعلقات پر اٹکی ہوئی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ان تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا؟صدر اوبامہ اور وزیر اعظم نتن یاہو کے تعلقات میں تناؤ اور اہم امور پر اختلافات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے ۔اسی طرح صدر اوبامہ اور امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان کے ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سپیکر جان بینر اور ریپبلکن پارٹی کے درمیان اہم قومی و عالمی امور پر شدید محاذ آرائی پر مشتمل کھڑاکے دار سیاست زبان زد عام ہے ۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ اور معطل ہیں ۔ مختلف ادوار میں ایران کے معاملات بالخصوص اس کے نیوکلئیر عزائم کے مسلہ کے حل کیلئے مختلف پالیسیاں اپنائی گئیں ۔سابق صدر جارج بش کے دور میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس (سٹیٹ آف دی یونین ) سے خطاب میں ایران کو ’’برائی کا محور ‘‘قرار دیاجاتا رہا ہے اور ایک جارحانہ انداز اپنائے رکھا گیا ۔ اس کے برعکس صدر اوبامہ کے دور میں ایران کے ساتھ پابندیوں اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کی زبان استعمال کرنے کی بجائے سفارتی ذریعوں سے ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے مسلہ کے حل کی کوشش جاری ہے ۔امریکہ سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ ارکان اور جرمنی گذشتہ کچھ عرصے سے مسلسل ایرانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ کچھ ایران نے لچک دکھائی تو امریکہ سمیت عالمی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی پیدا کی گئی ۔

امریکی کی عالمی سیاست میں ایران کے مسلہ یہ ’’یوٹرن‘‘ دراصل صدر اوبامہ اور وزیر اعظم نتن یاہو کے درمیان ہی نہیں بلکہ واشنگٹن ڈی سی میں صدر اوبامہ اور اکثریت کی بنیاد پر امریکی کانگریس کو کنٹرول کرنے والی ریپبلکن پارٹی کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے ۔

اگلے روز صدر اوبامہ نے امریکی کانگریس کے اپنے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران ریپبلکن پارٹی کو دوٹو ک اور واضح الفاظ میں باور کروایا کہ اگر ایران کے ساتھ مسلہ کی انکی سفارتی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے اکثریت کے بل بوتے پر ریپبلکن پارٹی ایران پر پابندیوں کے حوالے سے کوئی قانون سازی کرتی ہے تو وہ اسے اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ویٹو کر دیں گے ۔
صدر اوبامہ کی اس سیاسی دھمکی کا جواب اگلے روز ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بینر نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دے کر دیا اور کہا کہ وہ آئیں اور کانگریس کو ایران کے مسلہ پر آکر خطاب کریں ۔نتن یاہو نے فوری خطاب کی دعوت قبول کرتے ہوئے مارچ میں واشنگٹن یاترا کا اعلان کیا ۔
اگلے روز صدر اوبامہ کو جب معلوم ہوا ہے کہ پروٹوکول کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر اور ان کو اطلاع تک نہ دینے کی زحمت گوارا کئے بغیر اسرائیل کے وزیر اعظم کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے سپیکربینر نے دعوت دے دی ہے تو انہوں نے (سیاسی پنڈتوں کے بقول) اپنے ردعمل کا اظہار اس اعلان کے ساتھ کیا کہ وہ (اوبامہ) اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ واشنگٹن ڈی سی کے دوران ان سے ملاقات نہیں کریں گے ۔ وجہ یہ بیان کی گئی کہ امریکی صدر کسی بھی ایسے حکمران سے ملاقات سے گریز کرتے ہیں کہ جو مستقل قریب میں انتخابی عمل کا سامنا کرنے والا ہو۔اس اصول کی منطق یہ بیان کی جاتی ہے کہ کوئی عالمی رہنما امریکی صدر سے اپنی ملاقات کو اپنے سیاسی اثر و رسو خ کو ظاہر کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال نہ کر سکے ۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نتن یاہو تین مارچ کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور اس خطاب کے دو ہفتے بعد ان کے ملک میں عام انتخابات ہیں جن میں وہ تیسری ٹرم کے لئے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں ۔

امریکی نائب صدر بہ لحاظ عہدہ امریکی سینٹ کا پریذیڈنٹ بھی ہوتا ہے ۔ سینٹ کا اجلاس اس کی صدارت میں منعقد ہوتا ہے ۔کانگریس کا جب بھی مشترکہ اجلاس ہوتا ہے تو اس کی صدارت ایوان نمائندگان کے سپیکر اور سینٹ کے پریذیڈنٹ دونوں مشترکہ طور پر کرتے ہیں ۔امریکی نائب صدر جو بائیڈن ، اپنے صدر اوبامہ کے وزیر اعظم نتن یاہو سے ملاقات نہ کرنے کے اعلان کے بعد مخمصے میں پھنسے ہوئے تھے کہ وہ کیا کریں ؟اگلے روز ان کے دفتر کی جانب سے یہ اعلان سامنے آگیا کہ جب اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن ڈی سی میں ہوں گے تو اس وقت نائب صدر و پریذیڈنٹ سینٹ جو بائیڈن پہلے سے طے شدہ اپنے ایک دورہ کی وجہ سے واشنگٹن ڈی سی میں موجود نہیں ہونگے لہٰذا ان کی بھی ملاقات نہیں ہو سکے گی ۔

اسرائیلی وزیر اعظم کو انکے بعض ساتھیوں کی جانب سے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ دورہ واشنگٹن ڈی سی ملتوی کر دیں لیکن آخری اطلاعات تک وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں ۔
واشنگٹن ڈی سی کے ان حالات و واقعات سے دو سوالات نے جنم لے رکھا ہے ۔ اول امریکہ ، اسرائیل (یا اوبامہ ، نتن یاہو)تعلقات کے مستقبل کی نوعیت کیا ہو گی ؟دوئم کیا امریکہ سمیت اقوام عالم کی چھ اہم طاقتیں ، سفارتکاری کے ذریعے ایران کے ایٹمی پرگرام کے مسلہ کا کوئی حل نکال پائیں گے ؟

مجھے امریکیات کے مطالعے کے ذریعے ان سوالات کا جواب کچھ یوں ملا کہ ’’وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے ‘‘