امریکا اور جمہوریت مخالف امریکی حکمت عملی

Posted on February 11, 2015



امریکا کے علمی جریدے ’’پرس پیکٹوز آن پولیٹکس‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں ایک مقالہ شائع ہوا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں جو نظام اس وقت کام کر رہا ہے، اُسے جمہوری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کہنے کو یہ جمہوریت ہے، لوگ ووٹ دے کر اپنی مرضی کی حکومت منتخب کرتے ہیں مگر یہ حکومت ان کی مرضی کے مطابق کام نہیں کرتی۔ یہ چند بڑوں کی حکومت ہے، جو اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور ان کے بیشتر فیصلے بدعنوانی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت کے بیشتر معاملات میں عوام کی مرضی کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کردار ووٹ ڈالنے اور چند ایک معاملات میں اپنی رائے دینے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ منتخب ادارے جو چاہتے ہیں، سو کر گزرتے ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کے بارے میں اب تک اکثریتی جمہوریت کے حوالے سے جو تصورات پائے جاتے ہیں، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ امریکا میں عام ووٹر کی بات نہیں سنی جاتی۔ وہ مختلف سطحوں کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے جمہوری کردار ادا کردیا۔ مگر سچ یہ ہے کہ اس نام نہاد جمہوری ڈھانچے میں اس کا کوئی خاص کردار نہیں ہے ۔ امریکی جمہوریت کے حوالے سے اس نوعیت کی تحقیقی رپورٹس کم کم ہی دکھائی دی ہیں۔ بڑے بڑے کاروباری اداروں کے مفادات نے انہیں ایک پلیٹ فارم پر پہنچا دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ملک کے مجموعی مفاد اور بالخصوص بہبودِ عامہ کے مقصد کو ایک طرف ہٹاکر صرف اپنے مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک عام امریکی شہری کے لیے کوئی خاص کردار نہیں بچتا ۔ اور وہ صرف ووٹ دینے کی حد تک جمہوری رہ گیا ہے۔ ملک کے کسی بھی اہم فیصلے میں، پالیسی کی تیاری اور ان پر عمل کے معاملے میں کبھی بھی شہریوں سے رائے نہیں لی گئی ۔ مختلف امور کو جواز بناکر حکمراں طبقہ وہی کچھ کرتا ہے، جو اُسے کرنا ہوتا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ امریکا میں جمہوریت نہیں بلکہ چند بڑوں کی حکومت ہے، جو ہر معاملے میں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کا عوام کے مجموعی مفاد سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔ مارٹن جلینز اور بنجامن پیج کی تیار کی ہوئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں جو کچھ بھی جمہوریت کے نام پر دکھائی دے رہا ہے، وہ محض چند گروپوں کا مفاد ہے، جو اپنی بقا اور استحکام کے لیے ایک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مختلف معاملات میں تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ امریکا میں انتہائی طاقتور طبقہ بیشتر معاملات پر جو گرفت رکھتا ہے، وہ بھی پوری ایمانداری سے سامنے نہیں لائی جارہی۔ اس حوالے سے اعداد و شمار بھی درست نہیں۔ کاروباری طبقہ بیشتر امور پر حاوی ہوچکا ہے۔ سیاسی معاملات پر ان کی گرفت خاصی مستحکم ہے، گوکہ اِس حوالے سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار گمراہ کن ہوتے ہیں۔ ’’ٹیسٹنگ تھیوریز آف امریکن پولیٹکس‘‘ کے زیر عنوان اپنے مضمون میں ان دونوں ماہرین نے لکھا ہے کہ امریکا میں اب بیشتر معاملات انتہائی مالدار لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ ہر معاملے میں وہی کرتے ہیں، جو اُن کے تمام مفادات کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ان ماہرین نے اپنے مضمون میں کھل کر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے انتہائی طاقتور افراد اور اداروں کے بارے میں جو کچھ بھی بیان کیا ہے، وہ اعداد و شمار اور حقائق کی روشنی میں اگرچہ بہت متاثر کن دکھائی دیتا ہے اور اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ طبقہ کس حد تک طاقتور ہے مگر پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ سیاسی امور سمیت تمام معاملات میں ان کے اختیار اور اثر کا درست اندازہ نہیں لگا یا جاسکتا۔
امریکی جمہوریت کی واقعیت کیا ہے ، اِس موضوع پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہو گی ۔ بہت سے ماہرین کی طرح بنجامن پیج اور مارٹن جلینز نے لکھا ہے کہ اب تک یہی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ امریکا میں جمہوریت ہے اور یہ کہ جمہوری سیٹ اپ چند بڑوں کی بدعنوانی پر مبنی اجارہ داری کے خلاف کار فرما رہا ہے۔ مگر ۱۷۷۹ پالیسی ایشوز کا عمیق جائزہ لینے کے بعد یہ اندازہ لگانا کچھ دشوار نہیں کہ امریکا میں جمہوری سیٹ اپ اب تک تو چند بڑوں ہی کے مفادات کا نگران و محافظ رہا ہے۔ جو لوگ جمہوری سیٹ اپ کو چلانے کے دعویدار ہیں، وہ بہت سے معاملات میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کا بہبودِ عامہ سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ مختلف معاملات میں اعداد و شمار کا عمیق جائزہ لینے کے بعد مارٹن جلینز اور بنجامن پیج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکا میں دکھائی دینے والی جمہوریت در حقیقت جمہوریت نہیں بلکہ چند بڑوں کی حکومت یا اجارہ داری ہے جو ہر معاملے میں اپنی مرضی کو دیگر تمام امور پر مقدم رکھتے ہیں۔ یہ چند بدعنوان بڑے ملک کے بیشتر امور پر قابض و متصرف ہیں۔ میڈیا کو انہوں نے اپنے کنٹرول میں کر رکھا ہے۔ منتخب اداروں میں بھی انہی کی اجارہ داری ہے۔ عام طور پر روس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں چند بڑوں کی حکومت ہے، جو ہر معاملے میں بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق ملک کو چلاتے ہیں۔ امریکا، اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو روس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ چند بڑوں نے ہر چیز پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ شخصی آزادی کا تصور محض فریبِ نظر ہے۔ ملک کے تمام اہم امور میں حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے، جو تمام معاملات پر قابض ہیں۔