اسلامی بیداری اور امریکی شیطانی پالیسیاں / عطا الرحمن فاروقی

Posted on February 11, 2015



گذشتہ دو برسوں میں اسلامی بیداری کی تحریک نے جو تیونس سے شروع ہوئی تھی، مستبد ترین ڈکٹیٹروں کے تختے الٹ دیئے ہیں۔ اسلامی بیداری کی تحریک کے پیش نظر مغربی نظریہ پردازوں نے ایک بار پھر اسلامی ملکوں میں “تفرقہ ڈالو حکمرانی کرو” کی پالیسی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان نظریہ پردازوں میں ایک برنارڈ لوئیس ہیں۔ لوئیس نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اسلامی بیداری کی تحریک کو روکنے کے لئے ہمیں مسلمانوں کا دوست بن کر ان کے اندر تفرقہ اور اختلافات کو پھیلانے کی کوشش کرنی ہوگی، انہیں مختلف فرقوں اور دھڑوں میں الگ الگ رکھ کر آپس میں لڑانا ہوگا، اسی وقت یہ تحریک رک سکتی ہے۔ برنارڈ لوئیس کا کہنا ہے کہ عرب ممالک اینگلو امیریکن مفادات کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں کمزور قبائلی حکومتوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ وہ کہتا ہے کہ اس طرح ان کے ذخائر بھی آسانی سے لوٹے جاسکتے ہیں اور وہ خطرہ بھی نہیں بن سکتے۔ اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطٰی کے ہر مسلمان ملک میں تفرقہ اور اختلافات ڈالنے کے لئے الگ الگ نسخے اور طریقے کی ضرورت ہے۔
مشرق وسطٰی کا علاقہ سیاسی، اقتصادی، فوجی اور دینی لحاظ سے اسٹریٹیجیک اہمیت کا حامل ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں عالمی سطح پر آنے والی وسیع سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں سے مشرق وسطٰی کی جیو اسٹراٹیجیک اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مشرق وسطٰی تین عظیم پیغمبروں کا مھد ظہور ہے۔ جن کی طرف اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی نسبت دی جاتی ہے۔ یہ تو دنیا والوں نے نام رکھے ہیں، ورنہ خدا کا ہر پیغمبر دین اسلام ہی کو آگے بڑھانے آیا تھا۔ مشرق وسطٰی میں نوے فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ اسلامی کہلاتا ہے۔ تیل کے عظیم ذخائر کی بنا پر اس علاقے کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے بھی نہایت اہمیت حاصل ہے۔ اس میں انرجی کے عظیم اور بے مثال ذخائر کے سبب سامراجی حکومتوں نے ہمیشہ اس علاقے کو اپنے مذموم مقاصد کے تحت نشانہ بنایا ہے اور اس علاقے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
بوڑھا سامراج دیگر سامراجی ملکوں سے آگے تھا اور اس نے مشرق وسطٰی کے علاقے میں اپنے سامراجی اھداف کے تحت اس علاقے کی قوموں کو اپنے ظلم و ستم اور لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے اور سلطنت عثمانی کی شکست اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے بعد مشرق وسطٰی میں نئے حالات پیدا ہوگئے۔ برطانیہ اور فرانسیسی سامراج نے عثمانی حکومت کی سرزمینوں کی بندر بانٹ کرلی اور ان علاقوں پر اپنا تسلط مضبوط کرلیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اغاز اور براہ راست سامراجی قبضے کا خاتمہ ہونے کے بعد مشرق وسطٰی میں یورپی سامراجی ملکوں کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی آئی، کیونکہ اب امریکہ اور روس جیسے بڑے رقیب سامنے آچکے تھے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس اور برطانیہ بری طرح کمزور ہوچکے تھے، اب انہوں نے امریکہ کے سہارے امریکی سابق نوآبادیات میں اپنا اثر و رسوخ باقی رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ سابق اور جدید استعماری طاقتوں کی پالیسیاں ارض فلسطین پر صیہونی حکومت کے قبضے، صیہونی حکومت کی تشکیل، اور مختلف ملکوں میں پٹھو حکومتوں کی حمایت، پٹھو حکومتوں کو برسراقتدار لانے نیز مسلمان ملکوں میں ہر طرح کی حریت پسند تحریک کو کچلنے پر مشتمل تھیں۔ مغربی ممالک اس کے ساتھ ساتھ مسلمان قوموں میں طرح طرح کے اختلافات سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر رہے تھے، یہی نہیں بلکہ ان اختلافات کو مزید ہوا دے رہے تھے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی مشرق وسطٰی کے ان حالات میں ایک نیا موڑ تھا، جس نے سامراج اور تسلط پسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کر رہا ہے۔ اسلامی انقلاب نے مشرق وسطٰی میں سامراجی حکومتوں کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے سامراجی حکومتوں بالخصوص امریکہ کو مشرق وسطٰی میں اپنے اہم ترین اڈے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس کے علاوہ سامراج اس بات سے بھی بہت خائف تھا کہ کہیں اسلامی انقلاب دیگر اقوام کے لئے نمونہ عمل نہ بن جائے۔ اسلامی انقلاب کے کامیاب ہونے کے بعد امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے اس انقلاب کو نقصان پہچانے کیلئے ہر جتن کر ڈالا۔ انہوں نے قومی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر، اسلامی انقلاب کو شیعی انقلاب ظاہر کرکے نیز ایران اور شیعہ فوبیا کے تحت عالمی سطح پر پروپگینڈے کرکے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کی ہرممکن کوشش کی۔
مغربی ملکوں کی پالیسیوں کی بے چون و چراں پیروی کی بنا پر ہی عرب ملکوں نے بھی ایران پر خونخوار عراقی ڈکٹیٹر صدام کی جارحیت کی ہمہ گیر حمایت کی، لیکن یہ سارے اقدامات اسلامی انقلاب کے نمونہ عمل بننے میں رکاوٹ نہ بن سکے، کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ مسلمان ملکوں میں مغربی سامراج کو اسکے تفرقہ انگیز اور فتنہ پرور منصوبوں میں کامیاب کرنے والا فرقہ وہابی فرقہ ہے۔ آل سعود، قطر اور ترکی کی حکومتیں اس سامراج نواز فرقے کی حمایت کرتی ہیں۔ وہابی اپنی فکر کی مخالفت کو برداشت نہیں کرتے، یہ گمراہ فرقہ شیعہ مسلمانوں کا جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت سے محبت کرتے ہیں، شدید مخالف اور دشمن ہے۔ وہابی ٹولہ مغرب اور صیہونیوں سے زیادہ شیعہ مسلمانوں سے دشمنی کرتا ہے۔
دراصل یہی وہابی فکر ہے جس نے دہشتگرد گروہ القاعدہ کو جنم دیا تھا، جو مختلف علاقوں میں انسانیت سوز دہشتگردانہ جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ وہابیوں کے ہاتھوں انجام پانے والے دہشتگردانہ واقعات میں دسیوں ہزار بےگناہ مسلمان مارے گئے ہیں، جبکہ مزید دسیوں ہزار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وہابی دہشتگرد آج مختلف اسلامی ملکوں میں سرگرم عمل ہیں۔ جاہل وہابیوں کے اقدامات اسلامی ملکوں میں مغربی سامراجی ملکوں کی مداخلت کا بہانہ بنتے ہیں۔ وہابیوں کا انتہا پسند ٹولہ بعض ملکوں میں ہدف بن جاتا ہے تو بعض میں وسیلہ بن جاتا ہے، دونوں طرح سے سامراج اور صیہونیت کی خدمت کرتا ہے۔ بعض ملکوں میں ہدف ہوتے ہیں، جیسے افغانستان و یمن اور بعض ملکوں میں وسیلہ ہوتے ہیں جیسے شام۔ جہاں وسیلہ ہوتے ہیں وہاں مغرب کے لئے مفادات کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں، تاکہ مغرب انہیں استعمال کرکے اسلام و مسلمین کو جتنا نقصان پہنچا سکتا ہے پہنچا لے۔
وہابیوں کے متعصب اور انتہا پسند گروہ کے منحرف عقائد اور پسماندہ نظریات جن کا وہ اسلام کے نام پر پرچار کرتے ہیں، اسلامی ملکوں میں جاری اسلامی بیداری کی تحریک کو روکنے کا مغرب کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ وہابیوں نے اپنے غلط، منحرف اور انتہا پسندانہ نظریات سے اسلام کا چہرہ مسخ کر دیا ہے اور یہی چہرہ وہ ساری دنیا کے سامنے حقیقی اسلام کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف اسلام بدنام ہوا ہے بلکہ اسلامی امۃ میں بھی اختلافات پھیل گئے ہیں۔ جس طرح سے امریکی نظریہ پرداز برنارڈ لوئیس نے کہا ہے کہ اسلامی بیداری کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے اہم ذریعہ اسلامی امۃ میں اختلافات تفرقہ ڈالنا اور ملکوں کے ٹکڑے کرنا ہے۔ امریکہ اور دیگر سامراجی ملکوں نے آج اسلام و مسلمین کے خلاف یہی اسٹراٹیجی اپنا رکھی ہے۔
امریکہ آج عراق کے ٹکڑے کرنے، شام کی حکومت گرانے اور پاکستان اور بحرین میں شیعہ سنی اختلافات پھیلانے میں مشغول ہے اور ان شیطانی اقدامات کا مقصد اسلامی بیداری سے مقابلہ کرنا ہے۔ بوڑھے سامراج کی پالیسی آج بھی کام کر رہی ہے اور اسی کے سہارے مغربی حکومتیں مشرق وسطٰی میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔ مغرب کی شیطانی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانون کو ان کے دشمنوں اور دشمن کے چیلے وہابی سلفی ٹولے کے اھداف و مقاصد سے آگہی دینا نہایت ضروری ہے، تاکہ کفر و شرک اور مسلمانوں کے بھیس میں کفر و شرک کی خدمت کرنے والوں کو رسوا کیا جاسکے۔