آستین کے سانپ – محمّد تحسین

Posted on February 11, 2015



آستین کے سانپ
____________________
By: Muhammad Tahseen
انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ایک ایسا دوست جو اندر سے دغا باز ہو وہ آپ کے کھلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو بھی اس کے قیام سے لے کر اب تک ایسے ہی دوستوں کا سامنا رہا ہے۔ کبھی ان مذہبی جماعتوں کی صورت میں جو قیامِ پاکستان سے پہلے اس کے قیام کی مخالفت کرتی تھیں لیکن پاکستان بننے کے بعد اپنا “حصہ” وصول کرنے کے لیے اس کی ٹھیکیدار بن بیٹھیں اور کبھی سیاسی جماعتوں کی طرف سے جو سیاست تو وفاق کی کرتی ہیں اور وفاداری بھی وفاق سے نبھانے کی بات کرتی ہیں لیکن جیسے ہی ان کے ذاتی مفادات پر ضرب پڑتی ہے جیسے کہ اپنی کرپشن یا کرسی کو بچانا ہو تو فورا صوبائیت اور لسانیت کا سہارا لے کر وفاق کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتی ہیں۔ پھر کبھی ہمیں “جاگ پنجابی جاگ تیری پَگ نوں لگ گیا داغ” اور کبھی “مرسوں مرسوں سندہ نہ ڈیسوں” جیسے نعرے سننے کو ملتے ہیں۔
ستم یہ کہ پاکستانی قوم کی اکثریت ناخواندہ یا نیم خواندہ ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ان نعروں کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے اور ان مفاد پرست سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتی ہے۔ کچھ ایسا ہی پچھلے پچیس تیس سال سے کراچی میں ہوتا چلا آرہا ہے۔ مہاجروں کے حقوق کے نام پر بننے والی مہاجر قومی موومنٹ اور آج کل کی متحدہ جس سفاکیت اور بے دردی سے اس لسانیت کا سہارا لے کر سیاست کرتی آئی ہے پاکستانی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی جماعت کے طور پر خود کو رجسٹرد کروانے والی یہ جماعت اب ایک ایسی انڈر ورلڈ آرگنائزیشن بن چکی ہے جس کی مثالیں ہم اکثر بالی وُڈ کی فلموں میں دیکھتے ہیں۔ جس میں ایک بھائی بیرونِ ملک بیٹھ کر پورے مافیا کو کنٹرول کررہا ہوتا ہے۔ قتل و غارت گری، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، منشیات اور اسلحہ کا کاروبار ان کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے۔۔
کہا جاتا ہے کہ کراچی میں شرح تعلیم سب سے زیادہ ہے اور وہاں کے لوگ سب سے زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں. پھر بھی اتنی بڑی تعداد میں وہاں ایم کیو ایم کے حامی کیوں موجود ہیں تو اس کی وجہ وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح کبھی کراچی سے تعلق رہا ہے۔ کوئی ڈگری حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میں شعور بھی آجاتا ہے۔ بلکہ شعور کا تعلق اس تعلیم کے معیار سے ہوتا ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں آپ کو ایسے لوگ کم ہی ملیں گے جن کی کوئی اپنی ذاتی سوچ ہو۔ خصوصا جب بات سیاست کو ہو تو بڑے بڑے ڈگری ہولڈرز بھی کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والدین کو اس جماعت کی حمایت کرتے دیکھا۔ یہی حال کچھ کراچی کا بھی ہے۔ وہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو الطاف حسین کو پیر صاحب کہتے ہیں اور اپنا پیر مانتے ہیں۔ اس حقیقت کو دوسرے پاکستانیوں کی طرح جانتے ہوئے بھی کہ کراچی کی بدامنی کی سب سے بڑی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔
کراچی یا ملک کے حالات بھی اسی وقت بدلیں کے جب لوگوں کے سوچنے کا انداز بدلے گا۔ کچھ لوگ میڈیا اور پاکستان کے دوسرے اداروں کے خلاف بھی بات کرتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے معاملے میں مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کھل کے ایم کیو ایم کو ایکسپوز نہیں کرتے۔ اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ اپنی جان ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے۔ جب ایم کیو ایم نے اپنے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے ایک بھی پولیس آفیسر یا سپاہی کو نہیں چھوڑا تو نہتے صحافی کیا بیچتے ہیں۔ ولی خان بابر اور اس جیسے دوسرے صحافیوں کی مثال سامنے ہے۔ آج عمران خان کی الطاف حسین کے خلاف پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہیں کہ کچھ عرصہ تک عمران خان نے الطاف حسین کے خلاف خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی یا دوسرے سیاستدان بھی کھل کر الطاف حسین کے خلاف بات کیوں نہیں کرتے تو ضروری نہیں کہ اس کی وجہ خوف ہی ہو۔ بعض معاملات میں مصلحت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
ایم کیو ایم اور اس جیسی دوسری مسلح تنظیمیں جس قدر طاقتور ہو چکی ہیں اور نظام میں اپنی جڑیں پیوست کرچکی ہیں، آپ ہر وقت یا ہر موقع پر ان کے خلاف محاذ نہیں کھول سکتے کیوں کے اس کے نتیجے میں آپ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ انسانی جان لینا ان جیسی تنظیموں کے لیے معمولی بات بن چکی ہے۔ لیکن جیسی زبان الطاف حسین نے پاکستان کی خواتین کے بارے میں استعمال کی تو اس کے بعد اس کا جواب دینا اور الطاف حسین کو ایک بار پھر ایکسپوز کرنا ضروری ہوگیا تھا اگرچہ اس میں بھی خطرہ تھا کہ اس کے بعد پھر سے کراچی میں خون کی ہولی نہ شروع کردی جائے لیکن شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔ رینجرز ہو یا پولیس، عدلیہ ہو یا میڈیا، یا سیاسی جماعتیں وہ سب بے بس ہیں جب تک کہ وہ لاکھوں لوگ جو ایسی مسلح جماعتوں کے ہمدرد ہیں اور ان کے پیچھے کھڑے ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی, ان کی حمایت ترک نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ریاست کے لیے ان سے نپٹنا بہت آسان ہو جائے گا۔ لیکن ریاستیں بلیک میلنگ اور مصلحت پسندی سے بھی نہیں چلتیں اس لیے جلد یا بدیر ایسی تنظیموں کے لیے کوئی فیصلہ تو کرنا ہی ہوگا۔ کیونکہ ڈر ڈر کے جینے سے تو مرنا بہتر ہے۔
(محمد تحسین)