امریکی ڈکیت اور ان کی ڈکیتیاں

Posted on February 9, 2015



امریکی ڈکیت اور ان کی ڈکیتیاں
امریکی ڈکیتیاں کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو امریکا کا کچھ بگاڑ سکے وہ ایک وحشی درندے کی طرح اپنی من مانیاں کرتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ایک دن ایسا آئے گا کہ اسلام محمدی پوری دنیا پر حاکم ہو گا یہ اللہ جل جلالہ کا وعدہ ہے ۔
امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے سب کی خبر رکھنے کے لیے معلومات چوری کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس میں عوام کے علاوہ رہنماوں پر بھی خوب نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکا کا خفیہ ادارہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) جاسوسی میں بازی لے گیا۔ گذشتہ ایک دہائی سے فون کالز اور کمپیوٹر ڈیٹا چوری کر رہا ہے۔ جس میں حریفوں کے ساتھ ساتھ حلیف بھی شامل ہیں اور ہر روز ایک نئے ملک کا نام سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں امریکی کے ہاتھوں نہ عوام آزاد ہیں، اور نہ حکمران محفوظ، تازہ ترین انکشاف اسپین کے حوالے سے سامنے آیا ہے جس کے مطابق سال 2012ء میں صرف ایک ماہ کے دوران اسپین کے عوام کے تقریبا 6 کروڑ موبائل فون کالز کی معلومات چوری کی گئیں۔ اس سے قبل اٹلی، فرانس، میکسیکو اور برازیل سمیت 35 ملکوں کا ڈیٹا بھی چرایا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ایک جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق امريکی خفيہ ادارے 2002ء سے جرمن چانسلر انجيلا ميرکل کی جاسوسی کر رہے ہيں۔ جرمنی کے جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے وہ دستاویزات دیکھیں ہیں جس میں 2002ء میں چانسلر انجیلا میرکل کا موبائل فون نمبر موجود تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ چانسلر میرکل کے موبائل کی جاسوسی کی نوعیت کیا تھی۔ جریدے کے مطابق یہ ممکن ہے کہ چانسلر انجیلا میرکل کی بات چیت ریکارڈ کی جا رہی ہو یا پھر ان کے تعلقات کے بارے میں جانا جا رہا ہو۔

جرمن حکومت نے کہا ہے کہ وہ انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیداروں کو واشنگٹن بھیجیں گے تاکہ جاسوسی کے الزامات کی تفتیش کو جلدی کرانے پر زور دیا جا سکے۔ جریدے کے مطابق برلن میں امریکی سفارت خانے میں سپیشل کلیکشن سروسز نامی ایک یونٹ ہے جو مواصلات کی جاسوسی کرتا ہے۔ اسی قسم کے یونٹ دنیا بھر کے 80 ممالک میں موجود ہیں جن میں سے 19 یورپی ممالک میں ہیں۔

یاد رہے کہ ایک برطانوی اخبار نے خبر دی تھی کہ این ایس اے نے 35 عالمی رہنماؤں کی فون کالز کی نگرانی کی۔ یہ خبر بھی امریکی نگرانی کا راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے حوالے سے دی گئی ہے۔ ایک اور جرمن اخبار کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کو جرمن چانسلر ميرکل کی جاسوسی کے بارے ميں 2010ء تک علم نہ تھا اور اس وقت نيشنل سکيورٹی ايجنسی کے سربراہ کيتھ اليگزينڈر نے خود اوباما کو اس بارے ميں مطلع کيا تھا۔

امریکا نے تسلیم کیا ہے کہ اتحادیوں کی جاسوسی پر، یورپ سے تعلقات میں تناوٴ پیدا ہوا ہے۔ وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کے ماہرین کا گروہ خفیہ معلومات اور مواصلات کی ٹیکنولوجی کا جائزہ لے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کے مطابق جائزے میں ماہرین دیکھیں گے کہ عوام کا اعتماد کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ نگرانی کے پروگرام ہماری خارجہ پالیسی پر کیا اثر ڈالتے ہیں اور خاص طور پر ایسے دور میں جب زیادہ سے زیادہ معلومات تک عوام کی رسائی ممکن ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ جب یورپ امریکی ایجنسیوں سے نہ بچ سکا، تو پاکستان کے عوام ہوں یا حکمران ان کی معلومات اور ڈیٹا امریکا سے کس حد تک محفوظ ہیں؟ جاسوسی سے متعلق انکشافات کا سہرا نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کے سر ہے جو ان دنوں روس میں عارضی سیاسی پناہ لیے ہوئے ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے جاسوسی کے پروگرام کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن میں ہزاروں افراد نے کیپیٹل ہل کی جانب مارچ کیا اور مطالبہ کیا کہ اس جاسوسی کو محدود کیا جائے۔ چند مظاہرین نے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔